پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے سپریم کورٹ سے حساب مانگ لیا

سپریم کوررٹ اور پارلیمنٹ کھل کر آمنے سامنے آ چکی ہیں۔ دونوں اداروں کے مابین پنجاب میں الیکشن، فنڈز کے اجراء اور چیف جسٹس سپریم کورٹ کے اختیارات محدود کرنے کے حوالے سے قانون سازی پر اختلافات کے بعد پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ میں بالادستی کی جنگ جاری ہے۔ اسی دوران پارلیمنٹ نے سپریم کورٹ سے حساب مانگ لیا ہے۔پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے گزشتہ ایک دہائی سے عدالت عظمیٰ کا آڈٹ نہ کرانے پر عید کے بعد رجسٹرار سپریم کورٹ کو طلب کر لیا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق یہ پہلا موقع نہیں تھا جب پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے سپریم کورٹ کے اکاؤنٹس دیکھنے کا مطالبہ کیا ہو، چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نور عالم خان نے حیرانگی کا اظہار کیا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے آڈیٹر جنرل پاکستان کو گزشتہ 10 برسوں سے اپنے اکاؤنٹس تک رسائی سے کیوں انکار کیا جارہا ہے۔نور عالم خان نے رجسٹرار سپریم کورٹ کو عیدالفطر کی تعطیلات کے بعد طلب کر لیا، خیال رہے کہ گزشتہ ماہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے سپریم کورٹ کے ججوں کی تنخواہوں اور دیگر مراعات کا ریکارڈ طلب کیا تھا۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے چیئرمین کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نورالامین مینگل سے ججوں، جرنیلوں، وزرائے اعظم، ارکان پارلیمنٹ، کابینہ کے ارکان اور بیوروکریٹس کو دیے گئے پلاٹوں کی تفصیلات پیش نہ کرنے پر بھی برہمی کا اظہار کیا، تاہم نورالامین مینگل نے 293 بیوروکریٹس کی فہرست فراہم کی جنہیں پی ایچ اے فاؤنڈیشن میں پلاٹ دیے گئے تھے۔

آڈٹ اعتراضات پر غور کے دوران چیئرمین پی اے سی نے استفسار کیا کہ گن اینڈ کنٹری کلب کا سربراہ کون ہے۔ جس پر سیکریٹری آئی پی سی نے جواب دیا کہ گن اینڈ کنٹری کلب کا انتظامی افسر سپریم کورٹ نے مقرر کیا ہے۔ نعیم بخاری کو ایڈمنسٹریٹر گن اینڈ کنٹری کلب مقرر کیا گیا تھا۔سیکرٹری آئی پی سی نے کہا کہ نعیم بخاری ون مین شو کے طور پر کام کر رہے ہیں وہ وزارت کو بھی خاطر میں نہیں لاتے ۔چیئرمین پی اے سی نے کہا کہ سپریم کورٹ کو کیا اختیار حاصل ہے کہ ایڈمنسٹریٹر مقرر کرے۔ پی اے سی نے سپریم کورٹ کی جانب سے مقرر ایڈمنسٹریٹر گن اینڈ کنٹری کلب کو فوری ہٹانے ، نعیم بخاری سے تمام مراعات واپس لینے کی سفارش کر دی۔پی اے سی نے ایف آئی اے اور نیب حکام کو انکوائری کیلئے گن اینڈ کنٹری کلب جانے کی ہدایت کر دی۔نور عالم خان نے کہا کہ نیب اور ایف آئی اے آڈٹ حکام کے ساتھ گن اینڈ کنٹری کلب جائیں اور دیکھیں کیسے ریکارڈ فراہم نہیں کیا جاتا۔ پی اے سی نے کلب کا مالیاتی ریکارڈ حاصل کرنے کی ہدایت کر دی۔پی اے سی نے دس سال سے آڈٹ نہ کروانے پر رجسٹرار سپریم کورٹ کو عید کے بعد طلب کر لیا۔

علاوہ ازیں انہوں نے ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو کے رہائشیوں کی منی ٹریل کی تفصیلات بھی طلب کیں، نور عالم خان نے کہا کہ ’ہم جاننا چاہتے ہیں کہ اصل الاٹی کون تھے، اب مالکان کون ہیں، ان کے خاندان کے افراد نے ایسی اہم جائیدادیں خریدنے کے لیے رقم کہاں سے حاصل کی‘۔انہوں نے ایف آئی اے میں ایسے افسران کی منی ٹریل بھی مانگی جو ایجنسی کے ساتھ 3 سال سے زائد عرصے سے کام کر رہے تھے۔پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے سیکریٹری (ہاؤسنگ اینڈ ورکس) افتخار علی شلوانی کو فیڈرل لاجز (اسلام آباد) میں غیر قانونی طور پر مقیم افراد کو بے دخل کرنے کی ہدایت کردی۔

Back to top button