کیا عمرانڈو صدر علوی کی بھی چھٹی ہونے والی ہے؟

عمران خان کی محبت میں وقتاً فوقتاً اپنا عمرانڈو پن ظاہر کرنے والے صدر ڈاکٹر عارف علوی بڑی مشکل میں پھنستے ننظر آتے ہیں۔سپریم کورٹ آف پاکستان میں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کو عہدے سے ہٹانے کے لیے درخواست دائر کردی گئی۔امتیاز چوہدری نامی شہری نے صدر مملکت کے خلاف عدالت عظمیٰ میں درخواست دائر کی۔درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ صدر مملکت آئین کے مطابق اپنے فرائض سرانجام نہیں دے رہے۔درخواست میں سپریم کورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ ڈاکٹر عارف علوی کو صدر مملکت کے عہدے کے لیے ان فٹ قرار دیا جائے۔درخواست گزار شہری امتیاز چوہدری نے موقف اپنایا کہ صدر مملکت اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کرنے کی بجائے ایک سیاسی جماعت کی طرف جھکاؤ رکھتے ہیں۔مزید کہا گیاکہ صدر نے پارلیمان کی جانب سے بھیجے گئے سپریم کورٹ پروسیجر بل کی منظوری دی نہ نیب ترامیم بل اور اسلام آباد لوکل گورنمنٹ ایکٹ پر دستخط کیے۔

خیال رہے کہ دوسری طرف حکمران اتحاد نے بھی صدر عارف علوی اور عمران خان کو دفاعی پوزیشن پر لانے کی نئی حکمت عملی پر عمل کرتے ہوئے تحریک عدم اعتماد کے وقت قومی اسمبلی توڑنے کے اقدام پر پٹیشن دائر کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ذمہ دار ذرائع نے بتایا کہ حکمران اتحاد نے عمران خان کے خلاف ”ایگریسو“ قانونی اقدامات اٹھانے کا جو فیصلہ کیا تھا اس پر عمل در آمد شروع کیا جارہا ہے۔میاں نوازشریف،آصف زرداری ، مولانا فضل الرحمان اور دیگرقائدین کے اتفاق رائے سے آئینی وقانونی ماہرین گزشتہ سال تحریک عدم اعتماد کے وقت قاسم سوری کی رولنگ کی روشنی میں عمران خان کی ایڈوائس پر صدر عارف علوی کی طرف سے قومی اسمبلی توڑنے کے احکامات کے خلاف ایک پٹیشن تیار کر رہے ہیں،جس میں ان کے خلاف کارروائی کیلئے بطور خاص اس اہم نکتہ کو اٹھایا جارہا ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل رواں سال اپریل میں بھی ایک شہری نے صدر مملکت کی اہلیت کو عدالت عظمیٰ میں چیلنج کیا تھا جسے سپریم کورٹ کے جسٹس اعجازالاحسن کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے مختصر سماعت کے بعد خارج کردیا تھا۔درخواست میں ڈاکٹر عارف علوی کو آرٹیکل 62 (ون) (ایف) کے تحت نااہل قرار دینے کی استدعا کی گئی تھی۔درخواست گزار کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ عارف علوی کے کاغذات پر میرے 6 اعتراضات تھے، صدارتی الیکشن کے وقت عارف علوی انڈر ٹرائل ملزم تھے۔درخواست گزار نے مزید کہا تھا کہ عارف علوی صدارت کے لیے اہلیت نہیں رکھتے تھے، اہلیت نہ رکھنے والے کو صدر بنانے کی وجہ سے ملک اس وقت بحران کا شکار ہے، سیاسی جماعتیں ایک دوسرے سے دست و گریباں ہیں۔جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ سیاسی جماعتیں کیا کر رہی ہیں یہ آپ کا مقدمہ نہیں ہے، آپ کے کاغذات نامزدگی پر تائید کنندہ کے دستخط نہیں تھے، آئینی تقاضا ہے تائید کنندہ، تجویز کنندہ رکن مجلس شورہ ہونا چاہیے۔ بعد ازاں سپریم کورٹ نے درخواست کو مسترد کر دیا تھا۔

خیال رہے کہ پاکستان کے قوانین کے مطابق صدر کی کرسی پر براجمان شخص سیاست میں حصہ نہیں لے سکتا اور یہی وجہ ہے کہ صدر عارف علوی کے ناقدین ان پر اکثر سیاسی معاملات میں دخل اندازی کرنے کے الزامات لگاتے رہتے ہیں۔ اپنے آئینی کردار اور عہدے کے برعکس صدر عارف علوی تحریک انصاف کا با وفا کارکن ثابت کرنے کے چکر میں سوشل میڈیا پر اکثر تنقید کی زد میں رہتے ہیں اور ان کے مخالفین ان پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ وہ اپنے منصبی ذمہ داریوں کو فراموش کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کی طرفداری کر کے خود کو عمرانڈو ثابت کرتے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ صدر کے آئینی عہدے پر رہتے ہوئے انھیں سیاست نہیں کرنی چاہیے بلکہ آئینی تقاضے کے مطابق غیر جانبدار رہنا چاہیے۔ صدر عارف علوی کو عمرانڈو بننے کا اتنا ہی شوق ہے تو صدر کے عہدے سے استعفی دے کر ماضی کی طرح تحریک انصاف کی سیاسی کمپنی چلائیں لیکن ایوان صدر میں صدارت کر کرسی پر براجمان رہتے ہوئے سیاست میں دخل اندازی نہ کریں۔

واضح رہے کہ گزشتہ برس اپریل میں سابق وزیراعظم عمران خان کی تجویز پر قومی اسمبلی تحلیل کرنے، آرمی چیف کی تعیناتی پر مشاورت کی پیشکش کرنے اور حال ہی میں پنجاب اور خیبرپختونخوا کے انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرنے سمیت متعدد معاملات پر صدر عارف علوی تنقید کی زد میں رہ چکے ہیں، سیاسی مخالفین کی جانب سے ان پر کئی بار بطور صدر اختیارات سے تجاوز کرنے کا الزام عائد کیا جاتا رہا ہے۔گزشتہ برس مئی میں قومی اسمبلی میں گورنر پنجاب کو عہدے سے ہٹانے کے معاملے پر صدر مملکت کی جانب سے ’غیر آئینی مؤقف اپنانے‘ پر ان کے خلاف اکثریت ووٹوں سے قرارداد منظور کرتے ہوئے ان سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ اپنی ذمہ داریاں غیر جانبدار انداز میں سر انجام دیں۔

Back to top button