پراجیکٹ عمران سے جڑے 500 فوجیوں کیخلاف ایکشن

نئے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے احکامات پر تقریباً 500 ایسے فوجی افسران کے خلاف کارروائی شروع کر دی گئی ہے جو پراجیکٹ عمران کا حصہ تھے۔ یہ دعوی ٰسینئر صحافی اسد علی طور نے اپنے تازہ وی لاگ میں کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دو برس پہلے جنرل باجوہ کی زیر قیادت کور کمانڈرز کانفرنس میں پراجیکٹ عمران کو ختم کرنے کا فیصلہ تو کیا گیا تھا لیکن اس پر پورے طریقے سے عملدرآمد نہ ہو سکا، لہٰذا اب یہ پراجیکٹ لپیٹنے کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پراجیکٹ عمران کو لپیٹنے کا فیصلہ حکومت کی ناکامی، فوج کی بدنامی اور ہائبرڈ نظام کے فیل ہونے کے بعد کیا گیا تھا اور اسی لیے فوج نیوٹرل ہو گئی جس کے بعد اپوزیشن نے عمران حکومت کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے گرا دیا۔
اسد طور نے بتایا کہ عمران خان اور جنرل قمر باجوہ کے مابین آخری ملاقات سیکٹر ایف 8 اسلام آباد میں آئی ایس آئی کے سیف ہاؤس میں ہوئی تھی۔ اس ملاقات میں عمران کے علاوہ اسد عمر، شاہ محمود قریشی اور پرویز خٹک بھی موجود تھے۔ آرمی لیڈرشپ کی طرف سے جنرل قمر باجوہ، ڈی جی آئی ایس آئی ندیم انجم اور دیگر اعلیٰ افسران میٹنگ میں موجود تھے۔ یہ وہی ملاقات ہے جو میڈیا میں ‘رات کی تاریکی’ میں ہونے والی میٹنگ کے طور پر رپورٹ کی گئی تھی۔ سنیئر صحافی کے مطابق اس ملاقات میں عمران نے جنرل باجوہ کو کہا کہ آپ شہباز حکومت کی چھٹی کروا کر مجھے دوبارہ حکومت میں لائیں، اس کے عوض میں آپ کو تا حیات آرمی چیف بنانے کی حامی بھرتا ہوں۔ اس آفر پر باجوہ کو اپنی توہین محسوس ہوئی کیونکہ عمران ان کے ماتحت افسران کے سامنے ہی ان کو کھلی رشوت کی آفر کر رہے تھے۔ چنانچہ باجوہ کی عمران سے تلخ کلامی ہو گئی۔ باجوہ نے عمران کو ان کی حیثیت بتانے کے لیے کہا کہ آپ تو خود ‘پلے بوائے’ رہے ہیں، اور آپ کی اور آپ کی پارٹی کے لوگوں کی آڈیوز اور ویڈیوز بھی موجود ہیں۔ اس ملاقات میں باجوہ نے عمران خان کو پیغام دے دیا تھا کہ اگر آپ ہم الزامات لگائیں گے تو پھر آپ بھی الزامات سے بچ نہیں پائیں گے۔ لیکن عمران اپنی روش سے باز نہ آئے اور آج اس کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔
اسد علی طور نے کہا کہ اس ملاقات کے بعد بھی جب عمران خان فوجی قیادت کے خلاف ہرزہ سرائی سے باز نہ آئے تو ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم اور ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے ایک غیر معمولی پریس کانفرنس کر ڈالی۔ دراصل جنرل (ر) باجوہ نے خود ڈی جی آئی ایس آئی کو کہا تھا کہ آپ پریس کانفرنس کر کے قوم کو حقائق بتائیں۔ طور کا کہنا تھا کہ حال ہی میں پی ٹی آئی کے حامیوں کی جانب سے یہ الزامات سامنے آئے ہیں کہ اسلام آباد میں آئی ایس آئی کے سیف ہاؤسزمیں جنرل (ر) باجوہ، جنرل فیض اور دیگر افسران کی کچھ ماڈلز کے ساتھ ریکارڈ کردہ نازیبا ویڈیوز بھی موجود ہیں۔ یاد رہے کہ عمران خان کے حامی میجر ریٹائیرڈ عادل راجہ نے بیرون ملک سے ایک ویڈیو میں یہ الزام عائد کیا ہے۔ تاہم اس الزام کی تصدیق نہیں ہو پائی۔
سینئر صحافی کا کہنا تھا کہ عمران دبے لفظوں میں نئے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو بھی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ موصوف کا تازہ بیان سامنے آیا ہے کہ جنرل باجوہ کا ‘سیٹ اپ’ اب بھی کام کر رہا ہے اور اسی وجہ سے نازیبا آڈیوز اور ویڈیوز لیک کی جارہی ہیں۔ تاہم اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ آڈیوز اور ویڈیوز فیک ہیں اور کیا ماضی میں عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی فون پر ادھر ادھر فضول گفتگو نہیں کرتے رہے؟
