پراپرٹی کے ڈی سی ریٹس میں 600 گنا تک کا اضافہ واپس


رئیل اسٹیٹ یا پراپرٹی کے کاروبار سے وابستہ افراد کی جانب سے شدید تنقید اور مزاحمت کے اعلان کے بعد حکومت نے جائیدادوں کی نئی ایویلیوایشن کرنے اور 600 فیصد تک اضافے کا فیصلہ وقتی طور پر موخر کرتے ہوئے اسے جنوری 2022 کے وسط تک معطل کر دیا ہے۔ تاہم پراپرٹی کے کاروبار سے وابستہ لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ کسی صورت نئی ڈی سی ریٹس پر جائیدادوں کی خریدو فروخت نہیں کریں گے اور حکومت کو یہ غیر منصفانہ فیصلہ حتمی طور پر ختم کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس وقت پاکستان میں صرف ریئل اسٹیٹ سیکٹر ہی چل رہا ہے اور ملکی معیشت بھی چلا رہا ہے لیکن کچھ لوگ سازش کے تحت ڈی سی ریٹس میں 600 گنا تک اضافہ کروا کر اسے بھی بند کروانا چاہتے ہیں۔ لہٰذا اگر اس طرح کے فیصلے کیے گئے تو ہم حکومت کو ٹیکس نہیں دیں گے۔
یاد رہے کہ مشیر خزانہ شوکت ترین کے احکامات پر فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے یکم دسمبر کو ملک کے 40 بڑے شہروں میں پراپرٹی کے سرکاری ریٹس میں اضافہ کیا تھا تاکہ انہیں مارکیٹ ریٹس کے برابر لایا جا سکے۔ ایف بی آر کی جانب سے 40 شہروں کے لیے غیر منقولہ جائیدادوں کی قیمتوں کا تعین 100% سے 600% تک بڑھا دیا گیا تھا۔ اس سے قبل ریونیو بورڈ نے 2019 میں پراپرٹی کی ایویلیوایشن ریٹس میں 30% سے 85% تک اضافہ کیا تھا، تاہم یکم دسمبر 2021 سے غیر معمولی اضافے کا اعلان کیا گیا، یعنی 100% سے 600% تک، جسے پراپرٹی کے کاروبار سے وابستہ افراد نے مسترد کر دیا تھا اور خدشہ ظاہر کیا تھا کہ اگر حکومت نے موجودہ ڈی سی ریٹس کو کم نہ کیا تو پراپرٹی کے کاروبار میں آنے والے مہینوں میں بدترین کمی واقع ہو سکتی ہے۔
ایف بی آر کے اس فیصلے کے پر ریئل اسٹیٹ سیکٹر کے شدید ردعمل کے بعد معاملہ وقتی طور پر ٹھنڈا کرنے کے لئے حکومت نے فریقین سے بات چیت کا فیصلہ کیا ہے۔ اس ضمن میں حکم دیا گیا ہے کہ ان لینڈ ریونیو کے تمام چیف کمشنرز 10 دسمبر 2021 تک جائیدادوں کی قیمتوں پر نظرِ ثانی کے لیے کمیٹیاں تشکیل دیں گے۔ یہ حکم بھی دیا گیا ہے کہ نطر ثانی کمیٹیاں اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کریں گی اور پراپرٹی کی نئی قیمتوں کے تعین کے لیے اسٹیٹ بینک سے منظور شدہ قیمتوں کو شامل کریں گی۔ ایف بی آر نے ان کمیٹیوں میں سٹیٹ بینک کے پراپرٹی ایویلیوایشن کے ماہرین کو بھی شامل کرنے کا اعلان کیا ہےبجو تمام اہم اسٹیک ہولڈرز یعنی ٹاؤن ڈویلپرز اور ریئل اسٹیٹ ایجنٹس سے مشاورت کریں گے تا کہ موجودہ قیمتوں کو مارکیٹ ریٹس کے قریب لانے کے لیے سفارشات پیش کی جائیں۔ جب تک یہ عمل مکمل نہیں ہو جاتا، جنوری 2022 کے وسط تک ایف بی ار کا نئی قیمتوں کا اطلاق معطل رہے گا۔
دراصل پراپرٹی ایویلیوایشن حکومتی محکموں کی جانب سے غیر منقولہ جائیدادوں کی قیمت کا تعین کرنے کو کہا جاتا ہے۔ پاکستان میں طویل عرصے تک غیر منقولہ جائیدادوں کی قیمت کا تعلق محکمہ مال کرتا رہا ہے۔پراپرٹی کا کاروبار کرنے والے اسے ڈی سی ریٹ کہتے ہیں۔ نواز شریف کے آخری دور حکومت میں ایف بی آر کو پراپرٹی ویلیوایشن کی جانب لانے کی کوشش کی گئی لیکن اس کے بعد سے کہیں ایف بی آر کی ویلیوایشن لاگو ہے تو کہیں محکمہ مال کی۔ ایف بی آر کی جانب سے یکم دسمبر 2021 کو جائیداد کی نئی قیمتوں کے نوٹی فکیشن کے بعد فیڈریشن آف ریٹلرز اور اسلام آباد اسٹیٹ ایجنٹس ایسوسی ایشن نے حکومت کے اس اقدام کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور کہا تھا کہ اس میں ان سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی۔
ایف بی آر کے اس فیصلے کے بعد مارکیٹ میں کاروباری سرگرمی میں بھی کمی نظر آئی تھی چونکہ سرمایہ لگانے والوں نے ہاتھ کھینچنا شروع کر دیا تھا۔ پراپرٹی کا کاروبار کرنے والوں کا موقف تھا کہ حکومت نے بغیر کچھ سوچے یہ ایویلیوایشن کی ہے۔ مثال کے طور پر اگر اسلام آباد کے ایف سیون سیکٹر میں کسی اپارٹمنٹ کی قیمت چھ یا سات کروڑ تھی، تو اسے یکدم بڑھا کر 35 سے 40 کروڑ کردیا گیا۔ انکا کہنا تھا کہ اس وقت ملک میں صرف ریئل اسٹیٹ سیکٹر ہی چل رہا ہے لیکن ایسے فیصلوں سے وہ بھی بند ہو جائے گا۔ چنانچہ حکومت نے وقتی طور پر اس فیصلے کو معطل کر دیا ہے اور مشاورت کا عمل شروع کر دیا ہے۔

Back to top button