پرویز الٰہی آخری فیصلہ اسٹیبلشمنٹ کے مشورے سے کریں گے

وفاقی حکومت کی جانب سے ڈی نوٹیفائی کیے جانے کی دھمکی سے دوچار وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی اس وقت پی ٹی آئی سے کھلے عام اور پی ڈی ایم سے خفیہ طور پر مذاکرات میں مصروف ہیں لیکن وہ اپنا آخری فیصلہ بہت سوچ سمجھ کر اور اسٹیبلشمنٹ کا ٹمپریچر لے کر ہی کریں گے۔
پرویز الٰہی کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ ابھی انکا عمران خان کے ساتھ کھڑا رہنے کا فیصلہ حتمی نہیں ہے کیونکہ پی ٹی آئی کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر مذاکرات فائنل نہیں ہوئے۔ انہوں نے عمران خان سے پنجاب اسمبلی کی 30 اور قومی اسمبلی کی 15 سیٹوں پر ایڈجسٹمنٹ کا مطالبہ کر رکھا جسے تسلیم کرنا پی ٹی آئی کے لئے کافی مشکل ہے۔ دوسری جانب وہ پی ڈی ایم کے ساتھ ہاتھ ملانے پر تو تیار ہیں لیکن وزارت اعلیٰ پر براجمان رہنے پر بھی مصر ہیں۔ لیکن انہیں وزارت اعلیٰ کی بجائے استعفیٰ دے کر سپیکر شپ قبول کرنے کی آفر کی جارہی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ چند ماہ پہلے پرویز الٰہی نے پی ڈی ایم کے ساتھ جانے کے عوض وزارت اعلیٰ کا مطالبہ کیا تھا جسے تسلیم کر لیا گیا تھا لیکن پھر جنرل قمر باجوہ اور جنرل فیض حمید کے مشورے پر انہوں نے عمران خان کے ساتھ ہی رہنے کا فیصلہ کیا جس کے عوض انہیں وزیر اعلیٰ بنانے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ پرویز الٰہی نے پی ڈی ایم کی بجائے پی ٹی آئی کا وزیر اعلیٰ بننے کی آفر اس لیے قبول کی تھی کہ وہ اگست 2023 تک برسر اقتدار رہنا چاہتے تھے اور انہیں یہ شک تھا کہ پی ڈی ایم چند ماہ بعد حکومتیں ختم کر کے نئے انتخابات کا اعلان کر دے گی۔ لیکن ان کا یہ اندازہ غلط نکلا چونکہ پی ڈی ایم تو اگست 2023 تک وفاقی حکومت برقرار رکھنے پرقائم ہے لیکن عمران خان 23 دسمبر کو پنجاب اور خیبر پختونخوا کی اسمبلیاں توڑنے کا اعلان کر چکے ہیں۔
ایسے میں گجرات کے سیانے چودھری نے فیصلہ یہ کرنا ہے کہ انھوں نے عمران خان کے مطالبے پر پنجاب اسمبلی توڑ کر سیاسی طور پر بالکل ہی فارغ ہونے کا رسک لینا ہے یا پھر پی ڈی ایم کے ساتھ ہاتھ ملا کر سپیکر پنجاب اسمبلی بننے کی آفر قبول کرنی ہے۔ پرویز الٰہی کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ اپنے سیاسی مستقبل کا تعین کرنے کے لئے بھائی لوگوں کے ساتھ بھی مکمل رابطے میں ہیں اور مسلسل مشورہ کر رہے ہیں۔ موجودہ صورتحال میں انہیں بڑا مسئلہ یہ درپیش ہے کہ عمران خان اگر ان کے ساتھ معاہدہ کر بھی لیتے ہیں تو اس پر عمل درآمد کی کوئی ضمانت نہیں کیونکہ عمران یوٹرن کے بادشاہ ہیں اور ویسے بھی ان کو پنجاب اسمبلی ٹوٹنے کے بعد پرویز الٰہی کے ساتھ اتحاد برقرار رکھنے کی کوئی ضرورت نہیں ہوگی۔ دوسری جانب اگر پرویز الٰہی پی ڈی ایم کے ساتھ ہاتھ ملاتے ہیں تو انہیں بھائی لوگوں کی جانب سے مستقبل میں اچھے سلوک کی ضمانت بھی مل سکتی ہے۔ لیکن پی ڈی ایم کی ساتھ جانے کی صورت میں وہ سپیکر شپ پر راضی ہونے کے لئے آمادہ نظر نہیں آتے۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پرویز الٰہی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ اپنے تعلقات خراب نہیں کرنا چاہیں گے چنانچہ اس امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا کہ وہ حتمی فیصلہ اسٹیبلشمنٹ کا ٹمپریچر لے کر ہی کریں گے۔ یاد رہے کہ عمران خان کی جانب سے اسمبلیاں توڑنے کے اعلان کے بعد پرویزالٰہی جنرل باجوہ کی حمایت میں جھنڈا لے کر نکل کھڑے ہوئے تھے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی سیاست کا محور کون لوگ ہیں۔
دوسری جانب پنجاب میں برپا سیاسی طوفان کی شدت کسی صورت کم ہوتی دکھائی نہیں دے رہی۔ پنجاب کا دارالحکومت لاہور سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بن چکا ہے اور چند اہم ترین سیاسی اور غیر سیاسی کردار شہر میں موجود ہیں۔ اگر عمران لاہور میں براجمان ہیں تو سیاسی جوڑ توڑ کے ماہر سمجھے جانے والے آصف زرداری بھی لاہور میں ڈیرے جما چکے ہیں۔شہباز شریف بھی اسلام آباد اور لاہور کے درمیان چکر لگا رہے ہیں۔ وہ نہ صرف آصف زرداری سے بلکہ ق لیگ کے صدر چوہدری شجاعت حسین سے بھی ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ کچھ غیر سیاسی عناصر کی بھی لاہور میں موجودگی کا بتایا جا رہا ہے۔ یہ بھی پتہ چلا ہے کہ پرویز الٰہی نے اپنے سیاسی مستقبل کے حوالے سے جنرل باجوہ سے بھی مشورہ کیا اور اب انہوں نے سیانے چوہدری کو عمران خان کا ساتھ نہ دینے کا مشورہ دیا ہے۔
چوہدری پرویز الٰہی کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ کبھی گھاٹے کا سودا نہیں کرتے اور کچھ لیے بغیر عمران کے ساتھ اپنا اتحاد برقرار نہیں رکھیں گے۔ انہوں نے عمران خان کو یہ واضح کر دیا ہے کہ اگر وہ اپنے آٹھ ماہ کی وزارت اعلٰی قربان کریں گے تو اس کے بدلے ان کے مطالبات ماننا پڑیں گے اور ضمانتیں بھی دینا پڑیں گی۔ ذرائع کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ پرویز الٰہی نے اگلے سیاسی سیٹ اپ میں عمران خان کے برسراقتدار آنے کی صورت میں پنجاب کی وزارت اعلیٰ مانگ لی ہے جو خان صاحب کو کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔
دوسری جانب پردے کے پیچھے موجود پی ڈی ایم نے بھی پرویز الٰہی کے لیے اپنے دروازے کھول رکھے ہیں اور انہیں دانا ڈال رہی ہے۔ ایسے عمران کی ذرا سی سیاسی غلطی سے وہ فوری فائدہ اٹھا لے گی۔ پی ڈی ایم کے پاس چوہدریوں کو آفر کرنے کے لیے جو کچھ بھی ہے وہ چوہدری شجاعت کی گارنٹی سے مشروط ہے لیکن اس سلسلے میں سب سے بڑی رکاوٹ مونس الٰہی ہیں جو اب تک اپنے کپتان کے ساتھ کھڑے تھے۔
ذرائع کے مطابق پرویز الٰہی کی نظریں اس وقت اگلی گریٹ گیم پر ہیں کہ اگلے سیاسی سیٹ اپ میں ان کے حصے میں کیا آئے گا اس لیے وہ دونوں طرف اپنے آپشنز کھلے رکھے ہوئے ہیں۔سیاسی تجزیہ کار سہیل وڑائچ کے مطابق ’چوہدریوں نے ساری عمر اسٹیبلشمنٹ کی سیاست کی ہے اور اسٹیبلشمنٹ میں بھی وہ دھڑا جو طاقت میں ہو۔ پرویز الٰہی نے جنرل باجوہ کا ساتھ دے کر جنرل فیض کی کلاس بھی لی ہے جس سے یہ صاف ظاہر ہے کہ ان کو پتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کو اس وقت کیا سوٹ کرتا ہے۔ سہیل وڑائچ کے خیال میں پرویز الٰہی دونوں طرف اپنا تعلق مکمل طور پر نہیں بگاڑیں گے تاکہ ان کے امکانات برقرار رہیں۔ ان کی نظر اگلی سیاسی گیم پر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اقتدار کے ایوانوں میں رہنے کا فن پرویز الٰہی سے زیادہ بہتر کوئی نہیں جانتا۔
