پرویز الٰہی نے کرتارپور راہداری کا کریڈٹ کپتان سے چھین لیا

22 جنوری کے روز اس وقت پنجاب اسمبلی میں دلچسپ صورتحال پیدا ہوگئی جب حکومت کے اتحادی سپیکر چوہدری پرویز الہٰی نے کرتاپور راہداری منصوبے کا کریڈٹ وزیراعظم عمران خان کو دینے پر ایک سکھ رکن اسمبلی کو ڈانٹ دیا اور کہا کہ جس بات کا پتہ نہ ہو اس بارے بات نہیں کرنی چاہیے۔ کرتارپور راہداری کا تمام تر کریڈٹ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی جادو کی جپھی کو جاتا ہے۔
چوہدری پرویز الہٰی کی سربراہی میں اسمبلی اجلاس کے دوران سپیکر نے کرتار پور راہداری منصوبے کا کریڈٹ وزیراعظم عمران خان کو دینے پر حکومتی رکن مہندر پال سنگھ کو ٹوک دیا اور کہا کہ جس کا بات پتہ نہ ہو، وہ نہیں کرتے، آپ کو معلوم ہونا چاہیئے کہ کرتار پور راہداری کھولنے کا سارا کریڈٹ جنرل باجوہ کی جادو کی جپھی کو جاتا ہے۔
یاد رہے کہ سال 2018 میں سابق بھارتی کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو نے عمران خان کی بطور وزیراعظم تقریب حلف برداری میں شرکت کی تھی۔ تقریب میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے سدھو کا پرجوش استقبال کیا تھا اور دونوں بغل گیر بھی ہوئے تھے۔ اس موقع پر آرمی چیف نے نوجوت سدھو سے سکھوں کی مذہبی پیشوا بابا گرونانک کے 550 ویں جنم دن پر کرتارپور راہداری کھولنے کی یقین دھانی کروائی تھی۔
بعد ازاں اسٹیبلشمنٹ کے ایما پر کرتار پور راہداری منصوبہ کی منظوری دی گئی اور پھر ایک برس کے اندر ہی اندر اسے برق رفتاری سے پایہ تکمیل تک پہنچایا گیا اور پھر دو ماہ پہلے اس کا افتتاح کردیا گیا۔ سیاسی تبصرہ نگاروں کا کہنا ہے کہ پرویز الہی کا یہ موقف سوفیصد درست ہے کہ کرتار پور راہداری منصوبے کا کریڈٹ صرف اور صرف جنرل باجوہ کو جاتا ہے۔ بنیادی وجہ یہ ہے کہ ماضی میں ایسا کوئی بھی منصوبہ جس میں پاکستان اور بھارت ملوث ہو کسی بھی صورت فوجی اسٹیبلشمنٹ کی مرضی کے بغیر نہ تو شروع کیا جا سکتا تھا اور نہ ہی مکمل کیا جا سکتا تھا۔
یاد رہے کہ جب 1998 میں وزیراعظم نواز شریف نے بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے لیے بھارتی وزیراعظم واجپائی کو بس ڈپلومیسی کے تحت پاکستان آنے کی دعوت دی تھی تو جماعت اسلامی اور دیگر مذہبی شدت پسند جماعتوں نے اس فیصلے کے خلاف شدید احتجاج کیا تھا اور بھارتی وزیراعظم کی پاکستان آمد پر لاہور میں وسیع پیمانے پر توڑ پھوڑ کی تھی۔
حکومتی اہلکاروں نے تب یہ الزام عائد کیا تھا کہ یہ سب کچھ فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ایما پر کیا گیا اور اس کا مقصد پاک بھارت تعلقات کو مزید کشیدہ کرنا تھا تاکہ بس ڈپلومیسی ناکام ہو جائے۔ یہ حکومتی الزام بعد میں اس وقت ثابت ہوگیا جب جنرل مشرف نے نواز شریف حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کر لیا۔
لہذا ان حالات وواقعات کی روشنی میں یہ سمجھنا کوئی مشکل نہیں کہ کرتار پور راہداری منصوبہ پاکستان کی فوجی اسٹیبلشمنٹ کی مرضی اورمنظوری کے بغیر مکمل ہونا ناممکن تھا۔ اس لئے چودھری پرویز الٰہی نے جو کہا صحیح کہا لیکن سچ یہ بھی ہے کہ جنرل باجوہ کرتار پور راہداری منصوبے کی افتتاحی تقریب میں شریک نہیں ہوئے تھے۔ یاد رہے کہ تب مولانا فضل الرحمان نے اسلام آباد میں دھرنا دے رکھا تھا اور وہ اپنی تقریروں میں مسلسل کرتارپور راہداری منصوبے کو ایک بڑی سازش کا شاخسانہ قرار دے رہے تھے جس کے مطابق کرتارپور بھارتی شہر گورداس پور سے سے صرف دس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے جہاں دنیا کا سب سے بڑا مرکز قادیان واقع ہے۔
کرتار پور راہداری کے افتتاح کے موقع پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی غیرحاضری کو نہ صرف پاکستانی عوام نے محسوس کیا بلکہ بھارت سے آئے ہوئے مہمان اور عمران خان کے خصوصی دوست نوجوت سدھو نے بھی شدت سے محسوس کیا۔ لہذا سدھو بار بار منتظمین سے آرمی چیف کے بارے میں پوچھتے رہے کہ وہ کہاں پر ہیں اور نظر کیوں نہیں آرہے۔ ذرائع کے مطابق سدھو نے وزیراعظم عمران خان سے بھی جنرل باجوہ کے بارے میں پوچھا اور انہیں بتایا کہ وہ آرمی چیف کو جادو کی جھپی ڈال کر ان کا شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں جن کی مدد کے بغیر کرتارپور راہداری کا منصوبہ کبھی مکمل نہیں ہوسکتا تھا۔ سدھو نے لوگوں کو بتایا کہ وہ جنرل قمر جاوید باجوہ کو جپھی ڈالنے کی خواہش لے کر بھارت واپس جا رہے ہیں لیکن یہ جپھی اگلی ملاقات تک ادھار رہے گی۔
