پرویز الٰہی کا عمران کیساتھ مزید چلنا ناممکن کیوں ہو گیا؟

چوہدری پرویز الٰہی کے قریبی ذرائع نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اب وزیراعلیٰ پنجاب کا عمران خان کے ساتھ مزید چلنا ممکن نہیں رہا جس کی بنیادی وجہ سابق وزیراعظم کا جنرل باجوہ اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف اپنایا گیا بیانیہ ہے جسے وہ بار بار کی تنبیہ کے باوجود ترک کرنے سے انکاری ہیں۔ ایسے میں پرویز الٰہی نہیں چاہتے کہ ان کا سیاسی کیرئیر ہمیشہ کے لئے گل ہوجائے لہذا انہوں نے کپتان سے جان چھڑوانے کا ذہن بنا لیا ہے۔ گورنر کی جانب سے اعتماد کا ووٹ لینے کا حکم دیے جانے کے بعد مشکل صورتحال کا شکار چوہدری پرویز الٰہی کے حوالے سے اب یہ اطلاعات آ رہی ہیں کہ ان کے پی ڈی ایم کے ساتھ معاملات تقریباً طے پا چکے ہیں اور وہ بہت جلد کپتان کا ساتھ چھوڑنے والے ہیں، بتایا جا رہا ہے کہ ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد بھی ان کی اپنی فرمائش پر دائر کی گئی ہے جس کا بنیادی مقصد پنجاب اسمبلی کو تحلیل ہونے سے روکنا ہے۔ پرویز الٰہی کے پی ڈی ایم کے ساتھ کیا معاملات طے پائے ہیں، اس حوالے سے تفصیل اگلے 48 گھنٹوں میں سامنے آ جائے گی۔ بتایا جا رہا ہے کہ پرویز الٰہی نے عمران کا ساتھ چھوڑنے کا فیصلہ اس لیے بھی کیا ہے کہ کہیں ان کی قاف لیگ کے دس اراکین پنجاب اسمبلی کی اکثریت ان کا ساتھ نہ چھوڑ جائے۔
اس سے پہلے مسلم لیگ ق کے وزیر اعلیٰ کئی بار پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کو یقین دلا چکے تھے کہ وہ جب کہیں گے پنجاب اسمبلی توڑ دی جائے گی۔ تاہم عمران کی جانب سے پرویز الٰہی کو اپنے پہلو میں بٹھا کر جنرل باجوہ کے خلاف کی گئی گفتگو کے بعد معاملات بدل چکے ہیں اور اب پرویز الٰہی اپنے کپتان سے بد دل ہو چکے ہیں۔ چنانچہ اب ایسی اطلاعات آرہی ہیں کہ شاید پرویزالٰہی اپنے کپتان کو منجدھار کے بیچ چھوڑ کر پی ڈی ایم والوں کے ساتھ فرار ہو جائیں۔ عمران خان پہلے ہی اعلان کر چکے ہیں کہ وہ 23 دسمبر کو پنجاب اور خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلیاں تحلیل کر دیں گے۔ جب لاہور میں عمران یہ اعلان کر رہے تھے تب وزیرِ اعلٰی پنجاب پرویز الٰہی ان کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے اور ان کا چہرہ اترا ہوا تھا۔
تاہم اگلے ہی روز پرویز الٰہی نے ایک نجی ٹی وی چینل کو دیے گئے انٹرویو میں سابق آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کو تنقید کا نشانہ بنانے پر عمران سے ناراضی کا اظہار کر دیا تھا اور تب سے اب تک وہ دوبارہ اپنے کپتان سے نہیں ملے۔ انھوں نے کہا کہ انھیں تب بہت برا لگا جب عمران نے یہ ناانصافی کی کہ ہمیں ساتھ بٹھا کر اور میرے سامنے باجوہ صاحب کو تنقید کا نشانہ بنایا حالانکہ میں نے انہیں ایسا کرنے سے منع کیا تھا۔ وزیرِاعلٰی نے کہا کہ جنرل باجوہ کے ان پر، عمران اور پی ٹی آئی پر بہت احسانات ہیں اور احسان فراموشی سے پرہیز کرنا چاہیے۔ پرویز الٰہی نے کہا کہ اب اگر کسی نے جنرل باجوہ پر تنقید کی وہ خود اس کے خلاف بات کریں گے۔تاہم اس انٹرویو کے اگلے ہی روز عمران نے ایک مرتبہ پھر جنرل باجوہ پر الزامات کی بارش کردی جس کے بعد سے پرویزالٰہی خاموش ہیں اور اندر کھاتے پی ڈی ایم کے ساتھ معاملات طے کر رہے ہیں۔
دوسری جانب عمران خان نے پرویز الٰہی کی جانب سے اظہار ناراضی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’چوہدری پرویز الٰہی نے ماضی میں جنرل باجوہ سے کوئی فائدہ لیا ہو گا جو ان کی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ وہ باجوہ پر تنقید نہیں کرنا چاہتے تو نہ کریں، لیکن میری تنقید میرے خیالات کی عکاسی کرتی ہے۔‘ عمران کا کہنا تھا کہ پرویز الٰہی کا اپنا نقطہ نظر ہے جو ہم سے مختلف ہو سکتا ہے۔ وہ ماضی میں جنرل باجوہ کے ساتھ اچھے رہے ہیں لیکن ہمارا ان کے ساتھ تجربہ اچھا نہیں رہا۔ پنجاب اسمبلی کی تحلیل کے حوالے سے عمران کا کہنا تھا کہ پرویز الٰہی لکھ کر انھیں دے چکے ہیں کہ وہ ان کے کہنے پر اسمبلی توڑنے کی سمری بھجوا دیں گے۔لیکن اب پرویز الٰہی کے خلاف تحریک عدم اعتماد داخل ہونے اور گورنر کی جانب سے انہیں اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے کہے جانے کے بعد صورت حال تبدیل ہو چکی ہے اور پنجاب اسمبلی مستقبل قریب میں ٹوٹتی ہوئی دکھائی نہیں دیتی۔ پرویز الٰہی بھی یہی چاہتے تھے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پرویز کی جانب سے جنرل باجوہ کے معاملے پر عمران کے ساتھ کھلے عام اظہار اختلاف کا بنیادی مقصد سابق وزیراعظم کے ساتھ تعلقات خراب کرنا ہے تاکہ ان سے دوری اختیار کی جا سکے۔ صحافی اور تجزیہ نگار عاصمہ شیرازی سمجھتی ہیں کہ حالیہ بیانات کے ذریعے پرویز الٰہی نے اختلاف کی بنیاد تو رکھ دی ہے اور یہ اشارہ بھی دے دیا ہے کہ کوئی انتہائی فیصلہ بھی کیا جا سکتا ہے۔ وہ سمجھتی ہیں کہ انٹرویو کے ذریعے چوہدری پرویز الٰہی نے یہ بھی بتا دیا کہ ان کی ریڈ لائن کیا ہے۔ انھوں نے بڑے واضح انداز میں عمران خان کو بتا دیا ہے کہ جنرل باجوہ پر تنقید کے حوالے سے ان کا مؤقف کیا ہے۔ اس کو وہ اپنے لیے ریڈ لائن سمجھتے ہیں۔ انھوں نے یہ بھی بتا دیا کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کے حوالے سے ان کی رائے کیا ہے۔ عاصمہ سمجھتی ہیں کہ پرویز الٰہی یہ بارہا بتا چکے ہیں کہ وہ کیسے سابق آرمی چیف کے کہنے پر تحریک انصاف کی طرف آئے تھے اور اب وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ پی ٹی آئی کی طرف سے سابق آرمی چیف پر تنقید برداشت نہیں کریں گے۔ اگر پرویز الٰہی کی باتیں درست ہیں تو پی ٹی آئی اور عمران خان کو اچھی طرح معلوم ہو گا کہ چوہدری پرویز الٰہی کی ہمدردیاں کس طرف ہیں اور وہ کس طرح ان کا ساتھ دینے کے لیے آئے تھے اور یہ بھی کہ اب وہ کیا کر سکتے ہیں۔
