پرویز الٰہی اعتماد کا ووٹ لینے سے کیوں گریزاں ہیں؟

وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کی جانب سے گورنر کے حکم کے باوجود پنجاب اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے سے انکار کے بعد یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ اگر ان کے پاس اکثریت موجود ہے تو پھر وہ ووٹ لینے سے گریزاں کیوں ہیں۔ پرویز الٰہی کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت قاف لیگ کے 10 اراکین اسمبلی تو ان کے ساتھ ہیں لیکن پی ٹی آئی کے 6 سے 10 اراکین اسمبلی انہیں اعتماد کا ووٹ دینے سے انکاری ہیں لہٰذا وہ اپنی وزارت اعلیٰ داؤ پر نہیں لگانا چاہتے اور اسی لیے اعتماد کا ووٹ لینے سے بھاگ رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ پی ٹی آئی کے یہ اراکین اسمبلی اس وقت پی ڈی ایم کے ساتھ رابطے میں ہے اور اعتماد کے ووٹ کے دوران غیر حاضر ہو کر پرویز الٰہی کی چھٹی کروا سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ پنجاب اسمبلی میں اس وقت تحریک انصاف کے 180 اراکین ہیں، جب کہ مسلم لیگ ق کے 10 اراکین ہیں۔ حکومت سازی کے لئے 186 ممبران کی سپورٹ درکار ہوتی ہے جو بظاہر حکومتی اتحاد کو حاصل ہے، ایسے میں اعتماد کے ووٹ کے وقت اگر حکومتی اتحاد کے دو یا تین اراکین پنجاب بھی آگے پیچھے ہو جائیں تو پرویز الٰہی فارغ ہو جائیں گے۔ اس لئے پرویز الٰہی نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اعتماد کے ووٹ میں 186 اراکین کی اکثریت ثابت کرنے کی بجائے وہ اپوزیشن کی جانب سے جمع کروائی گئی تحریک عدم اعتماد کا سامنا کریں جس میں پی ڈی ایم کو 186 بندے پورے کر کے اپنی اکثریت ثابت کرنا ہو گی۔ یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے اس سال دیئے گئے فیصلے کی رو سے، پارٹی لائن کے خلاف ووٹ دے کر فلور کراسنگ کا مرتکب ہونے والے ارکان اسمبلی کا ووٹ نہیں گنا جائے گا۔ لیکن اگر منحرف اراکین ووٹ ڈالنے نہیں آتے تو ان کا ووٹ نہ ان کے حق میں اور نہ ہی ان کے خلاف تصور کیا جائے گا۔

پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی کے ابھی تک سامنے آنے والے منحرف اراکین صوبائی اسمبلی میں سابق ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری اور چوہدری مسعود احمد شامل ہیں۔ مسلم لیگ نون کے ذرائع کے مطابق، پی ٹی آئی کے کم از کم 8 ایسے ممبران صوبائی اسمبلی ہیں جو اعتماد کے ووٹ میں پرویز الٰہی کو ووٹ نہیں دیں گے۔
واضح رہے کہ گورنر پنجاب نے آئین کے آرٹیکل 130 کی شق 7 کے تحت حکم نامہ جاری کیا تھا۔ گورنر نے پی ڈی ایم کی جانب سے تحریک عدم اعتماد جمع ہونے کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کو اعتماد کا ووٹ لینے کی ہدایت کی تھی جس کیلئے 21 دسمبر شام 4 بجے اجلاس بلایا گیا تھا۔ لیکن سپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان نے اعتماد کے ووٹ سے متعلق گورنر کی ایڈوائس نظر انداز کرتے ہوئے رولنگ دی اور اسمبلی اجلاس جمعہ تک ملتوی کردیا تھا۔ لیکن گورنر نے ایک جوابی خط لکھتے ہوئے اسپیکر پنجاب اسمبلی کے عمل کو مکمل غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دے دیا ہے۔

Back to top button