پرویز الہی نے کپتان کو چارج شیٹ کر دیا، تحفظات برقرار

مسلم لیگ ق کے تحفظات دور کرنے کے حکومتی دعوؤں کی قلعی اس وقت کھل گئی جب مسلم لیگ ق کے مرکزی رہنما اور سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی نے ڈائریکٹ وزیر اعظم کو ہی چارج شیٹ کر ڈالا اور کہا کہ عمران خان اتحادیوں کو شک کی نگاہ سے نہ دیکھیں، کوئی بھی بات کرنے سے پہلے تصدیق کر لیا کریں، انہوں نے مذید کہا کہ پنجاب میں مسائل کے ذمہ دار وزیر اعلی عثمان بزدار ہیں۔
یاد رہے کہ چند روز قبل مسلم لیگ ق نے نہ صرف کھل کر حکومت کے خلاف اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا بلکہ شدید احتجاج ریکارڈ کرانے کیلئے وفاقی کابینہ کے اجلاس کا بھی بائیکاٹ کر دیا تھا۔ مسلم لیگ ق کے رکن اسمبلی اور وفاقی وزیرطارق بشیر چیمہ احتجاجا 14 جنوری کو ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں شریک نہیں ہوئے تھے۔ بعد ازاں مسلم لیگ (ق) نے 16 جنوری کو ایک حکومتی وفد سے مذاکرات میں مطالبات پر عملدرآمد کے لیے وفاقی حکومت کو ایک ہفتے کی مہلت دیتے ہوئے واضح کیا تھا کہ مطالبات پورے نہ کئے گئے تو اس ڈیڈلائن کے بعد وہ دھماکہ کردیں گے۔ تاہم ڈیڈ لائن ختم ہونے سے پہلے ہی ہیں میڈیا میں یہ خبریں آنا شروع ہو گئیں کہ وزیراعظم عمران خان نے گجرات کے چوہدریوں کے تمام مطالبات تسلیم کرتے ہوئے پنجاب میں ان کو فری ہینڈ دے دیا ہے اور اب پرویز الہی اور مونس الہی وزیراعلیٰ اور چیف سیکرٹری کے اختیارات استعمال کرسکیں گے۔ لیکن اس تائثر کی نفی کرتے ہوئی اب ایک تازہ ترین بیان میں مسلم لیگ ق کے مرکزی رہنما پرویز الہی نے کہا ہے کہ وزیراعظم اتحادیوں کو شک کی نگاہ سے دیکھنا بند کر دیں، وہ کوئی بھی موقف اپنانے سے قبل بات کی تصدیق کر لیا کریں۔ تاہم انھوں نے واضح نہیں کیا کہ عمران خان نے کس بات پر اتحادیوں کو شک کے کٹہرے میں کھڑا کیا ہے۔ سپیکر پنجاب اسمبلی نے مزید کہا کہ چودھری شجاعت حسین جرمنی سے علاج کروا کروا واپس آئے تو عمران خان نے ان کی خیریت تک دریافت نہیں کی۔ حالانکہ ہم ان کے مرکز اور پنجاب میں اتحادی ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ عمران خان ملک کیلئے کچھ کرناچاہتے ہیں لیکن وہ کس کے ساتھ مل کر چلنا چاہتے ہیں یہ بڑا سوال ہے۔ اگر حکومتی ٹیم اچھی نہیں ہے تو یہ عمران خان کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو اقتدار میں آئے ڈیڑھ سال ہوگیا ہے۔ اب وزیراعظم کو سوچنا ہوگا کہ ملکی اور ھکومتی معاملات کیوں ٹھیک نہیں ہو پا رہے، انہوں نے کہا کہ عمران خان کرپٹ نہیں ہیں لیکن نانہلی کرپشن سے ذیادی نقصان کرتی ہے۔ لہذا انتظامی معاملات درست کرنے کی ضرورت ہے۔
چودھری پرویز الہی نے مزید کہا کہ ہم نے وزیراعلیٰ عثمان بزدار کو سمجھایا تھا کہ پنجاب میں انتظامی تبدیلیاں نہ کریں لیک وہ نہ مانے۔ میں نے انکو مشورہ دیا تھا خہ سندھ کی گندم پنجاب آنے دیں جسے بزدار حکومت کی طرف سے روکا گیا اور پھر بحران پیدا ہو گیا۔
کپتان کے وسیم اکرم پلس کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے پرویز الہی کا کہنا تھا کہ نچلی سطح پر حکومت کا کنٹرول نہیں ہے۔ ہم پنجاب کی تقسیم کے حق میں نہیں ہیں۔ اگر صوبے میں مسائل ہیں تو قصور عثمان بزدار کا ہے۔انھوں نے کہا کہ ہم نے بزدار کو کہا تھا کہ 36 اضلاع میں سے ہمارے جیتے ہوئے چار اضلاع میں افسران کی تعیناتی مشورے سے کریں لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ حکومت سے معاہدہ طے پایا تھا کہ ہمیں صوبے اور مرکز میں دو دو وزارتیں دی جائیں گی پہلے ہمیں مرکز میں ایک وزارت دی گئی۔ بعد ازاں اراکین کے تحفظات کے اظہار کے بعد پنجاب میں ایک وزارت دی گئی جبکہ مونس الہی کو وزارت دینے پر خاندان میں پھوٹ ڈلوانے کی قابل مذمت اور افسوسناک کوشش کی گئی۔ سپیکر پنجاب اسمبلی کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے مذاکرات کے ذریعے فضل الرحمان سے دھرنا ختم کرایا لیکن ہمرا شکریہ ادا کرنے کی بجائے ہم پر شک کیا گیا۔
جہاں پرویز الہی نے موجودہ حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا وہیں انھوں نے آصف زرداری کے ساتھ مخلوط حکومت کے تجربے کو بہت اچھا قرار دیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن کے ساتھ ان کی پنجاب حکومت بنانے کی کوئی بات نہیں ہوئی۔ نون لیگ نوازشریف کے بغیر کچھ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاست اور ووٹ انہی کے ہیں۔ شہبازشریف کے اختیار میں کچھ نہیں۔ نوازشریف چاہتے ہیں کہ مستقبل میں سیاسی باگ ڈور مریم نوازسنبھالیں۔
یاد رہے کہ وفاقی حکومت میں شامل پاکستان مسلم لیگ (ق) کے قومی اسمبلی میں 5 ارکان ہیں اور وفاقی کابینہ میں ایک وزیر طارق بشیر چیمہ شامل ہیں جبکہ پنجاب میں مسلم لیگ ق کے 10 اراکین حکومت میں شامل ہیں جبکہ وزارت قانون اور سپیکر شپ مسلم لیگ ق کے پاس ہے۔
واضح رہے کہ اپوزیشن کو پنجاب حکومت تبدیل کرنے کے لیے صرف 12ووٹ درکار ہیں۔ اس وقت 368 کے پنجاب کے ایوان میں حکومت کے 195اور اپوزیشن کے 173ووٹ ہیں۔ چوہدری پرویز الٰہی کی ق لیگ کے 10 ووٹ، اوکاڑہ سے آزاد رکن سیدہ جگنو محسن اور ملتان سے قاسم عباس کو ملاکر سادہ اکثریت بن جاتی ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ مسلم لیگ ق اپنے دعوے کے مطابق وعدے پورے نہ ہونے کے بعد دھماکہ کرے گی یا پھر اسی تنخواہ پر نوکری جاری رکھے گی۔
