’’پرویز مشرف کو سزا دینے والا کوئی پیدا ہی نہیں ہوا‘‘

بیرسٹرمحمد علی سیف نے کہا ہے کہ پرویز مشرف کو سزا دینے والا کوئی پیدا ہی نہیں ہوا، پرویز مشرف مجرم نہیں تھا نہ اس نے آئین سے غداری کی، سیٹھ وقار نے فیصلہ سنہری نہیں بلکہ شرمندگی کے انداز میں پڑھا جائے گا۔ سینیٹر بیرسٹر محمد علی سیف نے سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ 1984ء سے اب تک طلباء یونین پر پابندی ہے۔
جنرل ضیاء کے بعد آنے والی جمہوری حکومتوں نے طلباء یونین بحال نہیں کی ، بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا کہ سیٹھ وقار نے فیصلہ سنہری حروف میں نہیں بلکہ شرمندگی کے اندازمیں پڑھا جائے گا ، پرویز مشرف کو نہ کوئی سزا دے سکتا ہے اورنہ ہی ایسا کرنے والا کوئی پیدا ہوا ہے ، پرویز مشرف مجرم نہیں تھا نہ اس نے آئین سے غداری کی بلکہ پرویز مشرف کے خلاف سیاسی کیس تھا ، سیاسی اندازمیں چلایا گیا۔
ورنہ پرویز مشرف کے ساتھ ججز کھڑے تھے ، بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا کہ پرویز مشرف کے ساتھ تو آپ نے سمجھوتے کیے ، سیٹھ وقار نے کسی اور کو سنانے کے لیے یہ فیصلہ کیا ۔ حقیقت یہ ہے کہ آپ فوج کا نام نہیں لیتے اوراس کا غصہ پرویز مشرف پر اتارتے ہو ، سینیٹ میں مسلم لیگ ن کے سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہا کہ پرویز مشرف ایک کال پر ڈھیر ہوگیا۔
مشرف نے تاریخ رقم کرتے ہوئے سفیر ملا ظریف کو امریکا کے حوالے کیا ، نواز شریف نے آرٹیکل سکس کا مقدمہ لگایا ، مشرف کے خلاف فیصلہ آیا۔ مشرف کے فیصلے کی وجہ سے معیشت کو 100 ارب ڈالرز کا نقصان ہوا۔ آج ریاست مدینہ کی بات کرنے والے مشرف کی حمایت کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جسٹس سیٹھ وقار کا فیصلہ سنہری حروف میں لکھا جائے گا ، جسٹس سیٹھ وقار کے فیصلے کو تو عمران خان کو سپورٹ کرنا چاہئے تھا ، طلبا یونین کی بحالی کی بات ہوئی ، لال جھنڈے والوں نے تقریریں کیں ، طلبا یونین بحال ہونی چاہئیں ، طلباء جب ٹین ایج میں لیڈر بنتتے ہیں تو وہ خود کو بہت سے غلط کاموں سے الگ کر لیتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button