لندن میں مسجد کے قریب اسلام مخالف وال چاکنگ

برطانوی دارالحکومت لندن میں مسجد اور نارتھ برکسٹن اسلامی ثقافتی مرکز کے قریب واقع عمارت پر نامعلوم افراد نے اسلام مخالف وال چاکنگ کردی جس پر پولیس کو طلب کر لیا گیا۔برطانوی اخبار گارجین کی رپورٹ کے مطابق مسجد اور ثقافتی مرکز کے قریب واقع عمارت کی دیوار پر اسلام مخالف وال چاکنگ کو دیکھ کر صبح 11بجے پولیس کو طلب کیا گیا۔
میٹرو پولیٹن پولیس نے اپنے بیان میں کہا کہ اس وقت ہماری تفتیش جاری ہے اور ہم مقامی حکام کے ساتھ مل کر ان اشتعال انگیز ریمارکس کو جلد از جلد مٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔پولیس نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں تمام افراد کو بغیر کسی زبانی، جسمانی یا تحریری تضحیک کے اپنی زندگیاں گزارنے کا پورا حق حاصل ہے، لہٰذا ہم اس طرح کا امتیازی سلوک کبھی برداشت نہیں کریں گے اور ہم ہر ممکن حد تک اس طرح کے اشتعال انگیز واقعات کو روکنے کے لیے پُرعزم ہیں۔
دوسری جانب لندن کے میئر صادق خان نے ٹوئٹر پر اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ نارتھ برکسٹن اسلامک سینٹر کے قریب اسلام مخالف نعرے درج کیے جانے کے بارے میں سن کر انہیں شدید تکلیف پہنچی ہے۔ میں واضح کردوں کہ اس طرح کے کاموں میں ملوث بزدل اور جرائم پیشہ عناصر سے پوری طاقت کے ساتھ نمٹا جائے گا۔
یہاں یہ واضح رہے کہ 2018 میں لندن کے رہائشیوں نے شکایت کی تھی کہ انہیں مسلمان مخالف نفرت آمیز مواد پر مبنی خطوط موصول ہوئے ہیں۔ان خطوط کا عنوان ‘مسلمانوں کو سزا دینے کا دن’ تھا اور یہ مشرقی لندن میں رہنے والوں کو بھیجے گئے تھے جس میں یہ دن 3اپریل 2018 کو منانے کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ مسلمانوں کے خلاف ہر نفرت آمیز اقدام کا تفصیلی پوائنٹ سسٹم بنایا جائے اور اس سلسلے میں انعامات دینے کا بھی ذکر کیا گیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button