خود کو پمز سانحے کا ذمے دار سمجھتا ہوں: وفاقی وزیر صحت

وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کا کہنا ہے کہ میں وزیر صحت ہوں اور خود کو اس معاملے کا ذمہ دار سمجھتا ہوں،اسی لیے میں نے خود کو پیش کیاہے۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں پمز واقعے پر اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اپوزیشن سے مطالبہ کیاکہ وہ اپنی کمیٹی بنائے اور واقعے کی تحقیقات کرے،تاہم تحقیقات کےلیے 40 روز کی مدت مقرر نہ کی جائے۔
وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہاکہ کون کہہ رہا ہےکہ پاکستان میں صحت کے نظام کی مثالی صورت حال ہے؟روزانہ تقریباً 1300 بچے پورے ملک میں جان کی بازی ہاررہے ہیں،دنیا میں بچوں کی یومیہ اموات سب سے زیادہ پاکستان میں ہورہی ہیں۔
مصطفیٰ کمال نے کہاکہ آئیں بیٹھ کر اگلے بچے کو مرنےسے بچانے کا راستہ نکالیں، صحت کا نظام سڑچکا ہے،جسے درست کرنے کےلیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ آج کا دن ختم ہونے تک مزید 1300 بچے جاں بحق ہوچکے ہوں گے،حالانکہ ان میں سے کئی جانیں بچائی جاسکتی ہیں۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ کسی کی نیت نہیں کہ تحقیقاتی رپورٹ چھپائی جائے یا کسی کو بچایاجائے،ایک آدمی کو بھی نہیں بخشا جائےگا،چاہے وہ کتنا ہی بڑا ’ترم خان‘ کیوں نہ ہو۔رپورٹ آنے دیں،اسے پڑھیں،کوئی کہیں نہیں جارہا،یہ معاملہ کسی صورت دبنا نہیں چاہیے۔
وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال نے اپوزیشن سے کہاکہ معاملے کو صرف تاریخوں اور کمیٹیوں تک محدود نہ کریں،حکومت کو آگے کا لائحہ عمل دیں اور گائیڈ کریں، حکومت اپنا اِن پٹ دےگی۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ سالانہ تقریباً 4 لاکھ بچے مرجاتے ہیں،ہمیں اس مسئلے کا مستقل حل نکالنا ہوگا،صحت کے نظام میں بنیادی اصلاحات کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ پمز واقعے کو بنیاد بناکر ہم مستقبل میں بچوں کی جانیں بچاسکتے ہیں،ہر کوئی کہتا ہےکہ اس برے کو ہٹاکر میری مرضی کا بندہ لگادو، لیکن ہمیں نظام کو ٹھیک کرنا ہوگا۔
مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ وزیراعظم کی قائم کردہ کمیٹی کی رپورٹ آج رات تک آنے کی توقع ہے،اپوزیشن رپورٹ کا جائزہ لےکر نشاندہی کرےکہ کہاں سقم رہ گیا۔
وزیر صحت نے کہاکہ وزیراعظم سے لےکر کسی کی بھی نیت کسی کو بچانے کی نہیں،کوئی نہیں بچے گا، تمام افسران کو لائن حاضر کیاجائے گا۔
سانحہ پمز : ذمہ داران کے خلاف کریمنل کیسز بنیں گے، وفاقی وزیر صحت
انہوں نے اراکینِ اسمبلی سے کہاکہ کسی بھی ایم این اے یا سینیٹر کو فون کرکے یہ نہیں پوچھنا چاہیے کہ فلاں شخص کو کیوں ہٹایا گیا،کیوں کہ سب کے لوگ نظام میں موجود ہیں۔
