بنگلادیش کا مکہ دفاعی معاہدے میں شمولیت کا عندیہ

بنگلادیشی وزیرخارجہ خلیل الرحمان کا کہنا ہےکہ مکہ دفاعی معاہدے میں شمولیت کی دعوت ملی تو مثبت انداز میں غور کریں گے۔
بنگلا دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمن نے پارلیمنٹ میں گفتگو کرتےہوئے کہا کہ مکہ معاہدے میں شمولیت کا فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا، کیوں کہ اس کا انحصار معاہدے کے بانی ممالک کی خواہش پر ہے۔تاہم دعوت ملنے کی صورت میں ڈھاکا اس معاملے کا سنجیدگی سے جائزہ لےگا اور ممکنہ فوائد کو مدنظر رکھتےہوئے فیصلہ کرےگا۔
بنگلادیشی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ مکہ معاہدہ مسلم دنیا کے دفاع کا ایک طریقہ کار ہے اور مسلم ممالک کا باہمی معاملہ ہے،اس پر کسی کو تشویش کی ضرورت نہیں۔
انہوں نے کہاکہ مکہ معاہدے میں مزید ممالک کی شمولیت عالمی مسلم برادری کے دفاع کےلیے ایک اہم اقدام ثابت ہوسکتی ہے۔
دورۂ تہران پر عاصم منیر کو ٹرمپ کا نمائندہ کیوں کہا گیا؟
خیال رہےکہ پاکستان،سعودی عرب اور ترکیہ مکہ معاہدے کے بانی ممالک ہیں جس میں دیگر مسلم ممالک کی شمولیت کےلیے بھی دروازے کھلے رکھےگئے ہیں۔ اس معاہدے کے تحت کسی بھی ایک ملک پر حملہ معاہدے میں شامل تمام ممالک پر حملہ تصور کیا جائےگا۔
