سانحہ پمز: ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں ہسپتال انتظامیہ اور عملہ ذمہ دار قرار

سانحہ پمز کی تحقیقات کےلیے وزیراعظم کی جانب سے قائم کردہ تحقیقاتی کمیٹی کی ابتدائی رپورٹ میں ہسپتال انتظامیہ اور عملے کی غفلت کا انکشاف ہوا ہے، ریسکیو ٹیم کو بھی شدید رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا۔
وزیراعظم کی تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ میں ہسپتال کے افسران اور عملے کے بیانات ریکارڈ کیے گئے،جب کہ کمیٹی نے آگ لگنے کی اطلاع ملنے سے لےکر فائربریگیڈ کے پہنچنے تک کی ٹائم لائن بھی چیک کی۔
رپورٹ کےمطابق ریسکیو ٹیم کو رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا،تالے لگےہوئے تھے، ٹیکنیکل سٹاف موجود نہیں تھا،آگ بجھانے کے مناسب آلات بھی نہیں تھے،ریسکیو ٹیم کو دیواریں توڑکر اندر جانا پڑا۔
رپورٹ میں یہ بھی سامنے آیاکہ ہسپتال کا عملہ ایمرجنسی صورت حال سے نمٹنے کے حوالے سے غیرتربیت یافتہ تھا۔
سانحہ پمز : ذمہ داران کے خلاف کریمنل کیسز بنیں گے، وفاقی وزیر صحت
قبل ازیں وزیراعظم کی کمیٹی نے تیس سے زائد ملازمین کے بیانات قلم بند کیے، ایگزیکٹو ڈائریکٹر، جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر،ڈاکٹرز اور نرسز بھی شامل ہیں، چلڈرن وارڈ میں تعینات اٹھارہ سے زائد سکیورٹی گارڈز کے بیانات بھی ریکارڈ کیے گئے۔
کمیٹی نے حادثے کے وقت آن ڈیوٹی عملے کا بائیو میٹرک ریکارڈ بھی چیک کیا،آگ بجھانے کےلیے جانے والے فائر بریگیڈ کے عملے،ڈائریکٹر جنرل ایمرجنسی اینڈ ڈیزاسٹر مینجمنٹ،ڈائریکٹر فائربریگیڈ نے بھی اپنا بیان ریکارڈ کرایا،کمیٹی نے ریسکیو ٹیموں کی ٹائم لائن بھی چیک کی۔
