پنجاب حکومت کی بلدیاتی اداروں کو بحال کرنے کے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست

پنجاب حکومت نے عدالت عظمیٰ سے بلدیاتی اداروں کو بحال کرنے کے معاملے پر نظر ثانی کی درخواست دائر کی ہے۔
چیف سیکریٹری پنجاب نے عدالت عظمیٰ میں نظرثانی کی اپیل دائرکی۔دائر کردہ نظرثانی اپیل میں پنجاب حکومت نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالت عظمی 25 مارچ کے فیصلے پرنظرثانی کرے۔درخواست میں کہا گیا کہ 2013 کی حلقہ بندیاں متروک ہو چکی اور پنجاب بھر میں نئی حلقہ بندیاں کر دی گئی ہیں۔پنجاب حکومت نے سپریم کورٹ میں مؤقف اختیار کیا کہ صرف چند ماہ کے لیے بلدیاتی اداروں کو بحال کرنے سے اربوں روپے ضیاع ہوگا۔انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ 25 مارچ کے بلدیاتی اداروں کو بحال کرنے کے حکم کو کالعدم قرار دے۔خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی صوبائی حکومت کے بلدیاتی ایکٹ کے سیکشن 3 کو آئین سے متصادم قرار دیتے ہوئے پنجاب کے بلدیاتی ادارے بحال کرنے کا حکم دے دیا تھا۔چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے بلدیاتی انتحابات سے متعلق کیس کی سماعت کی تھی۔عدالت نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما دانیال عزیز کی درخواست منظور کرتے ہوئے پنجاب کے بلدیاتی اداروں کو بحال کرنے کا حکم دے دیا۔قبل ازیں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے 15 مارچ کو بلدیاتی انتخابات سے متعلق کیس کی سماعت میں صوبائی حکومت کے آرڈیننس کو آئین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ پنجاب حکومت کا بلدیاتی آرڈیننس سپریم کورٹ پر حملہ ہے۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کیس کی مزید سماعت کے لیے تین رکنی بینچ تشکیل دینے کا معاملہ چیف جسٹس کو بھجوا دیا تھا اور ہدایت کی تھی کہ رجسٹرار سپریم کورٹ بینچ تشکیل دینے کے لیے فائل جلد از جلد چیف جسٹس کو بھجوائیں۔
