پنجاب میں بلدیاتی ایکٹ پر ڈیڈ لاک ختم نہ ہوسکا
4 روز گزر جانے کے باوجود پنجاب میں بلدیاتی ایکٹ پر مسلم لیگ ق کے تحفظات پر ڈیڈ لاک ختم نہیں ہو سکا ہے۔
بلدیاتی ایکٹ کے حوالے سے مسلم لیگ ق کے تحفظات اورتجاویز وزیراعظم عمران خان کو کو پہنچا دی گئی ہیں جبکہ اس حوالے سے سیکرٹری بلدیات کی دو بار قائم مقام گورنرپنجاب سے ملاقاتیں بھی ہوچ کی ہیں ، وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی زیرصدارت ڈیڈلاک کے خاتمے کے لئے بھی دو اجلاس منعقد کیے جا چکے ہیں۔
مسلم لیگ ق بلدیاتی اداروں میں دیہی نمائندگی بڑھانے کے لئے جدو جہد کر رہی ہے اور تحصیل کونسل کے نظام کو بلدیاتی ایکٹ کا حصہ بنانے کے لیے کوشاں ہے۔اتحادی جماعت مسلم لیگ ق کی جانب سے سیمی اربن نمائندگی زیادہ ہونے پر تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے ، باضابطہ حکومت پنجاب کو اپنی تجاویز دے چکی ہے جبکہ بلدیاتی ایکٹ پر حکومت پنجاب اور مسلم لیگ ق کے مذاکرات کے کئی دور ناکامی سے دوچار ہوئے ہیں۔
واضح رہے کہ پاکستان مسلم لیگ(ق) اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان بلدیاتی مسودہ قوانین پر پنجاب کے بعد وفاق کی سطح پر بھی مذاکرات میں شدید ڈیڈ لاک پایا جا رہا ہے۔ویڈیو لنک پر پی ٹی آئی اور ق لیگ کا مشترکہ اجلاس بھی ہوا جس میں وفاقی وزر ا اسد عمر ،شاہ محمود قریشی اور شفقت محمود نے خصوصی طور پر شرکت کی سلم لیگ ق کی نمائندگی مونس الہیٰ اورطارق بشیر چیمہ نے کی ۔
یہ بھی پڑھیں: نواز دور میں کس میڈیا گروپ کو کتنے کے اشتہارات ملے؟
وزیربلدیات میاں محمود الرشید نے پنجاب حکومت کی نمائندگی کی جبکہ ق لیگ کی جانب سے کہا گیا کہ ایسے مسودہ قانون کی حمایت نہیں کریں گے جس سے دیہی علاقوں کی حق تلفی ہو۔بلدیاتی ایکٹ کے حوالے سے اجلاس میں پاکستان مسلم لیگ (ق) نے کہا کہ نئے بلدیاتی نظام میں سیمی اربن کو زیادہ اوردیہی علاقوں کو کم نمائندگی قابل قبول نہیں ہے۔
قائم مقام گورنرپنجاب اور وفاق کی سطح پر مذاکرات میں حکومت پنجاب کو پیغام دیدیا گیا جبکہ ویڈیو لنک پر وفاق اور پنجاب کی سطح پر میٹنگ میں بھی مسلم لیگ ق کو قائل نہ کیاجاسکا۔
