سہیل آفریدی نےوفاق پرسوات ڈیم منصوبے میں رکاوٹ ڈالنےکاالزام لگادیا

خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ سوات ڈیم منصوبہ تیار ہے مگر وفاق غیرملکی انجینئرز کو دورے کے لیے این او سی نہیں دے رہا ہے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے ورلڈ فوڈ سیفٹی ڈے کی مناسبت سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوام میں محفوظ خوراک سے متعلق آگاہی اور ذمہ دارانہ رویوں کا فروغ وقت کی اہم ضرورت ہے،؎
سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبر پختونخوا فوڈ سیفٹی اتھارٹی کے قیام سے صحت بخش خوراک کی فراہمی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ فوڈ ڈپارٹمنٹ کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ ہم گندم میں خود کفیل نہیں ہیں، غذائی خود کفالت کے لیے منصوبہ بندی جاری ہے، متعلقہ محکموں کو ضروری ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ آئندہ بجٹ میں محکمہ خوراک کا بجٹ بڑھایا جائے گا اور جدید گودام تعمیر کیے جائیں گے اور 2030 تک خیبرپختونخوا کئی شعبوں میں خود کفیل ہو جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ پنجاب کی جعلی حکومت نے خیبرپختونخوا کو گندم کی فراہمی بند کی، بارہا خطوط کے باوجود شنوائی نہیں ہوئی اور سی آر بی سی منصوبے کے لیے صوبائی حکومت نے 3 ارب روپے مختص کیے مگر وفاق نے ایک روپیہ بھی نہیں دیا۔
انہوں نے کہا کہ سی آر بی سی میں وفاق 80 فیصد فنڈنگ کا پابند تھا، پھر 65 فیصد پر آ گیا، مگر آخرکار بجٹ میں ایک روپیہ بھی مختص نہ کر سکا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ ناردرن بائی پاس منصوبے کے لیے خیبرپختونخوا حکومت نے 4 ارب روپے کی بریج فنانسنگ کی ہے، پشاور بس ٹرمینل مکمل ہے مگر این ایچ اے راستے کے لیے این او سی جاری نہیں کر رہا۔
