پنجاب میں نون لیگی اراکین اسمبلی PTI کے دروازے پر

لندن میں تشریف فرما شریف برادران کی جانب سے ملکی سیاست میں عدم دلچسپی سے دلبرداشتہ ہو کر نون لیگ کے منتخب اراکین پنجاب اسمبلی نے تحریک انصاف میں شمولیت کے لئے رابطہ کرلیا ہے۔
اس سلسلے میں ن لیگ اور پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سات اراکین پنجاب اسمبلی نے وزیراعلی عثمان بزدار سے ایک ملاقات میں پیشکش کی ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ اپنی نشستوں سے مستعفی ہو کر تحریک انصاف کے ٹکٹ پر ضمنی الیکشن لڑنے کے بعد پی ٹی آئی میں شامل ہونے کے لیے بھی تیار ہیں۔
مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے اراکین اسمبلی نے اس سے پیشتر وزیر اعظم عمران خان سے بنی گالہ میں ملاقات کی تھی۔ اب لاہور میں ان کی وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار سے ملاقات کے بعد مسلم لیگ نون کی صفوں میں کھلبلی مچ گئی ہے اور بزدار خاصے پراعتماد نظر آتے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان تمام ارکان نے عثمان بزدار کو یقین دہانی کروائی ہے کہ اگر ان کے انتخابی حلقوں میں ترقیاتی کام کروائے جائیں تو یہ اسمبلی میں قانون سازی اور وزیراعلیٰ کے خلاف ممکنہ تحریک عدم اعتماد کی صورت میں تحریک انصاف کا کھل کر ساتھ دیں گے۔ بعض اراکین نے یہاں تک پیشکش کی ہے کہ اگر فلورکراسنگ کی شق آڑے آئی تو یہ اپنی موجودہ نشستوں سے مستعفی ہو کر تحریک انصاف کے ٹکٹ پر ضمنی الیکشن لڑنے کے لیے بھی تیار ہیں۔
خیال رہے کہ10 مارچ کو سردارعثمان بزدار کے ساتھ ملاقات کرنے والوں میں مسلم لیگ نون سے تعلق رکھنے والے نشاط احمد ڈاھا، مولانا غیاث الدین، چوہدری اشرف علی، فیصل خان نیازی، محمد ارشد اور اظہر عباس شامل تھے جبکہ پیپلز پارٹی کے ایک رکن پنجاب اسمبلی غضنفر علی خان نے بھی وزیر اعلی سے ملاقات کی۔ دوسری طرف مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کی قیادت نے اپنے اراکین سے اس حوالے سے جواب مانگا ہے کہ انہوں نے پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سے ملاقات کیوں کی؟
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وزیر اعلی عثمان بزدار کی جانب سے حزب اختلاف کے سات اراکین کے ساتھ ملاقات کرنا دراصل اپوزیشن کو یہ واضح پیغام ہے کہ اگر تحریک انصاف پنجاب حکومت ہلانے کی کوشش کی گئی تو شرمندگی کے علاوہ ان کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا۔
پتہ چلا ہے کہ یہ ملاقات کرانے میں مسلم لیگ نون سے تعلق رکھنے والے سابق رکن قومی اسمبلی طاہربشیرچیمہ اور گوجرانوالہ سے سابق رکن پنجاب اسمبلی حاجی محمد یونس انصاری پیش پیش رہے۔ یونس انصاری کی جوڑ توڑ کے صلے میں وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار نے ان کے صاحبزادے کو گوجرانوالہ میں وزیر اعلیٰ شکایات سیل کا چیئرمین لگا دیا ہے۔
واضح رہے کہ انہی دو افراد نے اس سے پہلے دس کے قریب اپوزیشن ایم پی ایز کی بنی گالہ میں وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کروائی تھی۔ تب بھی ان اراکین نے اپنی پارٹیوں کو یہ کہہ کر مطمئن کردیا تھا کہ وہ اپنی جماعت کے ساتھ مخلص ہیں جبکہ وزیراعظم کے ساتھ ملاقات کرنے کا واحد مقصد اپنے انتخابی حلقوں کے لیے فنڈز کا حصول ہے۔ وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار کے ساتھ ملاقات کے بعد نون لیگ اور پیپلزپارٹی کے اراکین اسمبلی نے ایک مرتبہ پھر یہی توجیح پیش کی ہے کہ چونکہ وہ عوامی نمائندے ہیں اس لیے انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب سے اپنے حلقے میں ترقیاتی کاموں کے لیے فنڈز جاری کروانے کی خاطر ملاقات کی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ لیگی اور پیپلزپارٹی کے اراکین کی وزیراعلی سے ملاقات کے بعد مسلم لیگ قاف کی بلیک میلنگ میں کسی حد تک کمی واقع ہو سکتی ہے کیونکہ تحریک انصاف کی پنجاب حکومت تشکیل دینے میں مسلم لیگ قاف کے دس ووٹوں کی کلیدی اہمیت ہے۔ اگر مستقبل قریب میں وزیراعلی عثمان بزدار خلاف کے ق لیگ کی درپردہ مدد سے ن لیگ تحریک عدم اعتماد لاتی ہے تو ممکنہ طور پر ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے فارورڈ بلاک میں شامل یہ ارکان عثمان بزدار کو بچانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔
دوسری جانب نون لیگ کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کے اندر بیس سے پچیس ارکان کا فارورڈ بلاک موجود ہے اورعثمان بزدار نے اپنی کرسی کو کمزور ہوتے دیکھ کر نون لیگ سے بندے توڑنے شروع کیے ہیں تاکہ اپنی جماعت کے فارورڈبلاک کا زور کم کیا جائے۔ دوسری طرف نون لیگ کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ لندن میں براجمان پارٹی قیادت اپنی جماعت کے حوالے سے جس بے اعتنائی کا مظاہرہ کر رہی ہے اس کا نتیجہ اسی صورت میں سامنے آنا تھا۔
