پنجاب پولیس حکومت اورTLP معاہدے پر شدید برہم


پنجاب پولیس کی سینئر کمانڈ نے حکومت وقت اور کالعدم تحریک لبیک کے مابین ہونے والے معاہدے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے موقف اختیار ہے کہ ایسا کرنے سے نہ صرف پولیس فورس کا مورال گرا ہے بلکہ شدت پسند گروہوں کو بھی یہ پیغام دیا گیا ہے کہ ریاست آئندہ بھی ان کی پرتشدد کارروائیوں کا دباؤ لیتے ہوئے ان کے ناجائز مطالبات تسلیم کرنے کے لیے تیار رہے گی۔ اس عمل سے یہ سوال بھی پیدا ہو گیا ہے کہ کیا آئندہ پنجاب پولیس شدت پسندوں کے خلاف کھڑی ہو پائے گی؟
پنجاب پولیس کے سینئیر افسران نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ ٹی ایل پی کے ہزاروں کارکنان کو بغیر کوئی سزا دلوائے رہا کرنا شدت پسندوں کے ہاتھوں قتل ہونے والے پولیس اہلکاروں کی قربانیوں کی ‘بے عزتی’ کے مترادف ہے جو کہ ہمیشہ قربانی کے بکرے کے طور پر استعمال ہوئے ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق شدت پسندوں کے ساتھ معاہدے کے مرکزی کردار ایک طاقتور خفیہ ایجنسی کے سربراہ تھے جنہوں نے وزیراعظم عمران خان کو ایک ایسے وقت ہاتھ کھڑے کرنے کا مشورہ دے دیا جب پولیس تحریک لبیک کے خلاف جنگ تقریبا جیت چکی تھی۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ لاہور میں تحریک لبیک کے جن کارکنان کی ہلاکت ہوئی وہ بھی پولیس نہیں بلکہ رینجرز کے ہاتھوں مارے گئے تھے جس کے بعد صورت حال خراب ہوئی اور حکومت نے اچانک مذاکرات اور معاہدے کا اعلان کر دیا۔
وزارت داخلہ کے ذرائع کے مطابق پنجاب پولیس کی ہائی کمانڈ نے تحریک لبیک کیساتھ حکومتی معاہدے پر اپنے تحفظات کا اظہار وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کے اس اعلان کے بعد کیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ٹی ایل پی سے معاہدے کے بعد حکومت نئے پرانے فورتھ شیڈول کے تمام کارکنان کو رہا کرنے پر رضامند ہوگئی ہے۔ ایک سینئیر پولیس عہدیدار کے مطابق ٹی ایل پی کی جانب سے احتجاج اور دھرنے کے نتیجے میں پنجاب بھر میں 115 مقامات یا سڑکیں بند کی گئی تھیں جن میں لاہور کے 22 مقامات شامل ہیں جہاں دھرنے دیے گے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ چوک یتیم خانہ کا دھرنا چھوڑ کر دیگر تمام دھرنوں کو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بغیر خون خرابے کے جڑ سے اکھاڑ پھینکا تھا، حالانکہ عموما اس قسم کے بڑے احتجاج کا نتیجہ سیکڑوں زخمیوں کی صورت میں نکلتا ہے۔ تاہم فرائض کی انجام دہی میں 4 پولیس اہلکاروں نے اپنی زندگیاں قربان کیں جبکہ دیگر ایک ہزار زخمی ہوئے۔ انکا کہنا تھا کہ صوبے بھر میں ٹی ایل پی کے شدت پسندوں کی جانب سے درجنوں پولیس گاڑیاں نذر آتش کی گئیں، عمارتوں پر حملہ ہوا اور اہلکاروں کو یرغمال بنا کر تشدد کیا گیا۔ اس پولیس افسر کا کہنا تھا کہ 18 اپریل کو ‘شرپسندوں’ نے نواں کوٹ پولیس اسٹیشن پر حملہ کرکے پولیس اور رینجرز کے اہلکاروں کو زخمی اور پھر اغوا بھی کر لیا۔ اس نے بتایا کہ گھناؤنے جرائم کی سیکڑوں ایف آئی آرز درج کی گئیں لیکن شیخ رشید کے اعلان سے لگتا ہے کہ حکومت پولیس فورس کی حالت زار سے بے نیاز نظر آتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست نے شر پسندوں سے معاہدہ کر کے نہ صرف اپنی رٹ کا جنازہ نکالا ہے بلکہ تمام پولیس فورس کو بھی ایک کالعدم تنظیم کے شدت پسندوں کے سامنے پھینک دیا ہے، اور اس سے زیادہ ظلم اور استحصال کیا ہوگا۔
حکومت اور ٹی ایل پی کے مابین معاہدے کے تناظر میں پنجاب پولیس کے ایک سینئر افسر نے بغیر کوئی لگی لپٹی رکھے کہا کہ پہلے حکومت کی جانب سے شدت پسندوں کے خلاف پولیس فورس لانچ کی جاتی ہے اور جب ایکشن کامیاب ہو جاتا ہے تو حکومت سرنڈر کر کے شدت پسندوں سے معاہدہ کر لیتی ہے جو پولیس والوں کے ساتھ سراسر ظلم اور زیادتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب پولیس کی سینئر کمانڈ نے رسمی اور غیر رسمی اجلاسوں میں حکومت کی جانب سے ٹی ایل پی کارکنان کو رہا کرنے کے معاہدے پر سخت ناراضی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ حکومت نے کس قانون کے تحت ایک کالعدم تنظیم سے مذاکرات کر کے اس سے معاہدہ کر لیا اور پولیس کی ہائی کمانڈ کو اعتماد میں بھی نہ لیا حالانکہ تحریک لبیک کے ہاتھوں کئی پولیس والوں کی جانیں گئی۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ شدت پسندوں سے معاہدہ بھی تب کیا گیا جب آئی جی پنجاب نے وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کو واضح الفاظ میں بتا دیا تھا کہ اب پورا پنجاب کلیئر ہے اور ہم چوک یتیم خانہ لاہور میں آخری دھرنے کوبھی کلیئر کروا لیں گے، ہمیں صرف تھوڑا وقت دیا جائے۔ لیکن افسوس کہ اس مشورے کے برعکس حکومت کی طرف سے ریاست کی رٹ کو تار تار کرتے ہوئے ایک کالعدم جماعت سے مذاکرات شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔
یاد رہے کہ حکومت اور کالعدم تحریک لبیک کے درمیان مذاکرات کے باقائدہ آغاز کا اعلان 19 اپریل2021 کو کیا گیا مگر عملی طور پریہ مذاکرات گورنر پنجاب اور صوبائی وزیرِ قانون راجہ بشارت کی سربراہی میں ایک روز قبل یعنی 18 اپریل کو ہی لاہور میں شروع ہو چکے تھے۔ حکومت اور فیصلہ سازوں کو یہ خوف بھی تھا کہ کالعدم جماعت کی طرف سے 20 اپریل کو دی گئی احتجاج کی کال پر عوامی ردعمل آیا تو حکومت کے لیے شرمندگی اٹھانے کے سوا کچھ نہیں بچے گا۔ حکومت پر سوشل میڈیا کے ذریعے بھی تنقید عروج پر تھی اور ان پلیٹ فارمز پر ہلاکتوں کی تعداد کو بھی بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا تھا۔ اسی پس منظر میں عمران خان کے قریبی ایک طاقتور خفیہ ادارے کے افسر نے 19 اپریل کو وزیرِ اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے ان کے دفتر میں ملاقات کر کے انھیں بتایا کہ وہ صوبائی پولیس و انتظامیہ کو صوبے بھر میں گرفتار کیے گئے کالعدم جماعت کے افراد کی فہرستیں بنانے اور انھیں چھوڑنے کی تیاریاں کریں۔ شاید اس وقت تک ذہنی طورپر کالعدم جماعت کے زیرِ حراست افراد کو مذاکرات کے دوران دھرنا ختم کرنے کے عوض چھوڑنے کو کارڈ کے طور پر استعمال کرنے کی تیاری کر لی گئی تھی۔ سرکاری حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ اس معاملے پر پولیس میں بڑی بیزاری پیدا ہوئی جس کا اظہار انسپکٹر جنرل پولیس انعام غنی کی طرف سے وزیرِ اعظم اور وزیرِ اعلیٰ کے دفاتر میں بھی کیا گیا۔
اب پورے پاکستان بالخصوص شہروں میں امن عامہ کو یقینی بناتے ہوئے پولیس کی نظریں لاہور میں حکومت اور کالعدم تحریک لبیک کے درمیان مذاکرات پر مرکوز تھیں۔ مذاکرات کے لیے لارنس روڈ پر ایک خفیہ ایجنسی کےسرکاری دفتر کا انتخاب کیا گیا اور رات دس بجے کا وقت مقرر کر دیا گیا۔ حکومت کی طرف سے ان مذاکرات میں وفاقی وزرا شیخ رشید، نورالحق قادری، وزیراعظم کے معاون علامہ طاہر اشرفی، گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور، صوبائی وزرا راجہ بشارت اور سعد سعید الحسن کے علاوہ طاقتور خفیہ ادارے کے ایک سینیئر افسر اور صوبائی انتظامیہ کے افسران بھی موجود تھے۔
ذرائع کے مطابق مذاکرات کے لیے کالعدم تحریک لبیک کا چار رکنی وفد ایک گھنٹہ تاخیر سے مذکورہ دفتر پہنچا۔ کالعدم جماعت کی طرف سے مذاکرات میں ڈاکٹر شفیق امینی، علامہ غلام غوث بغدادی اور دیگر شریک تھے۔ تحریک کے رہنماؤں کے چہروں پر مسلسل احتجاج کے باعث تھکن نمایاں تھی۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ حکومت سے مذاکرات کے لیے آنے والے کالعدم جماعت کے تقریباً سارے رہنما لاہور پولیس کو دہشتگردی کے مقدمات میں بھی مطلوب تھے۔
مذاکرات میں شرکت کرنے والے افراد نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتاتے ہیں کہ کالعدم جماعت کے رہنماؤں نے سنجیدہ چہروں کے ساتھ حکومت کی طرف سے کیے گئے کریک ڈاون کی مذمت کی اور اپنے کارکنوں کی ہلاکتوں کے تناظر میں اسی محفل میں شریک وزیرِ داخلہ شیخ رشید احمد کے استعفے کا مطالبہ کیا۔ ظاہر ہے مذاکرات کا آغاز ایک منفی انداز میں ہو رہا تھا۔ تاہم گورنر پنجاب چوہدری سرور، علامہ طاہر اشرفی اور دیگر نے اس معاملے میں فوری مداخلت کی اور تحریک کے رہنماؤں کو واضح کیا کہ اگر آپ معاملات خراب کرنا چاہتے ہیں تو آپ کی مرضی، ہم تو یہاں مذاکرات کر کے معاملے کو حل کرنے کے لیے بیٹھے ہیں نہ کہ مزید تلخیاں بڑھانے۔ اس پر ماحول میں تلخی کم ہوئی۔ اس حوالے سے وزیرِ اعظم کے معاون طاہر اشرفی نے بتایا کہ کہ تحریک کے نمائندوں نے اپنے کارکنوں پر مقدمات ختم کرنے اور ان کی رہائی کی بات کی تو اس پر آئی جی پنجاب انعام غنی نے واضح کیا کہ وہ دہشت گردی اور پولیس اہلکاروں کے اغوا اور تشدد کے مقدمات ختم کریں گے اور نہ ان مقدمات میں قید کسی بھی شخص کو رہا کریں گے۔ تاہم اجلاس میں نقص امن عامہ یعنی 16 ایم پی او کے تحت گرفتار کیے گئے افراد کی رہائی پر اتفاق کر لیا گیا۔ تحریک کے نمائندوں کو اس حوالے سے آئی جی پنجاب کا رویہ بڑا دو ٹوک لگا لہذا اس معاملے پر مزید لمبی بحث کی بجائے اس پر اتفاق کر لیا گیا۔
اس اجلاس میں حکومت اور تحریک لبیک میں کچھ باتوں پر اتفاق تو ہو گیا مگر ان پولیس والوں کے لواحقین کہیں پیچھے رہ گئے جنھوں نے اس سارے بحران میں امن عامہ کو یقینی بناتے ہوئے اپنی جانیں تک قربان کر دی تھیں۔ سرکاری ذرائع بتاتے ہیں کہ اس وقت تک ملک بھر میں کالعدم تحریک لبیک کے خلاف کل 256 ایف آئی آر ز درج کی گئی ہیں جن میں سے 210 صرف پنجاب میں درج ہیں۔ ان 210 ایف آئی آرز میں کم و بیش 2200 افراد نامزد کیے گئِے ہیں جنھیں پنجاب پولیس کی طرف سے رہا نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ تاہم 2300 کے قریب نقص امن عامہ کے الزام کے تحت گرفتار افراد کو رہا کیا جا رہا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ ہلاک ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین کو شہید پیکج اور پنجاب پولیس کے زخمیوں میں 4 کروڑ تقسیم کر رہی ہے۔ یہ سارے اقدامات اپنی جگہ لیکن حیرت انگیز بات یہ ہے کہ کالعدم تحریک لبیک کے خلاف کارروائی سے قبل پالیسی سازوں کی طرف سے نہ تو پولیس کے اعلیٰ حکام سے مشاورت کی گئی اور نہ ہی انھیں اعتماد میں لیا گیا۔ انھیں حکم دیا گیا جس کی بجا آوری کر دی گئی، تاہم اس سب میں پولیس کو ہی نہیں عام شہریوں کو بھی بہت نقصان اٹھانا پڑا۔حکومت اور کالعدم تحریک کے درمیان معاہدہ ہو گیا مگر پولیس کی کارکردگی کے باوجود پنجاب سمیت پورے ملک میں پولیس کو مناسب بجٹ، تنخواہوں میں اضافے، تھانے اور تفتیشی افسران تک اصلاحات کے آثار کہیں دور بھی حکومت کی ترجیحات میں شامل نظر نہیں آ رہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button