کرائسز میں غائب ہو جانے والے ایوب خان اورعمران خان

فوج کے کندھوں پر سوار ہو کر اقتدار میں آنے والے وزیر اعظم عمران خان کی طرح سابق فوجی ڈکٹیٹر جنرل ایوب خان بھی اہم اور فیصلہ کن مواقع پر یا تو منظر نامے سے غائب ہو جاتے تھے یا پھر انکی قوت فیصلہ جواب دے جاتی تھی۔ عمران خان کی طرح ایوب خان بھی اہم ترین مواقع پر صورت حال کا سامنا کرنے کی بجائے اپنے لوگوں کو آگے کر کے خود غائب ہو جاتے تھے۔ کچھ ایسا ہی عمل عمران خان نے 20 مئی کو قومی اسمبلی کے اہم اجلاس کے موقع پر بھی کیا۔ 19 مئی کو تحریک لبیک کے خلاف سخت ترین موقف اپنانے اور کسی بھی صورت فرانس کے سفیر کے خلاف قرارداد نہ لانے کا اعلان کرنے کے چند ہی گھنٹے بعد عمران حکومت 20 مئی کو قومی اسمبلی میں قرارداد لے آئی۔ لیکن وزیر اعظم عمران خان اس اہم ترین قومی اسمبلی کے اجلاس سے بھی غیر حاضر ہے جس پر اپوزیشن نے انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
کچھ ایسا ہی رویہ ایوب خان کا بھی ہوتا تھا جو پاکستان کی سیاسی اور عسکری زندگی کا ایک ایسا کردار ہیں جن کے ذکر کے بغیر ملک کا کوئی سیاسی، غیر سیاسی اور جمہوری و غیر جمہوری تذکرہ مکمل نہیں ہوتا۔ ایوب خان ملک کے وہ پہلے کمانڈر انچیف تھے جو حاضر سروس فوجی ہونے کے باوجود یونیفارم میں ملک کے وزیر دفاع اور پھر وزیر اعظم کے منصب پر فائز ہوئے۔سرکاری ملازمت میں رہتے ہوئے انھوں نے سیاسی مناصب سنبھالنے کے بارے میں کب سوچا، اس سلسلے میں کوئی واضح اطلاع تو موجود نہیں لیکن چند ایسے اشارے دستیاب ہیں جن سے سیاست میں ان کی دلچسپی کا پتہ چلتا ہے۔
قدرت اللہ شہاب اپنی کتاب شہاب نامہ میں ایوب خان کی ڈائری میں لکھی ہوئی تحریر کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ایوب خان نے اقتدار تو اکتوبر 1958 میں سنبھالا لیکن وہ ایوانِ اقتدار پر قبضہ کرنے کا منصوبہ بہت پہلے بنا چکے تھے۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب غلام محمد دستور ساز اسمبلی تحلیل کر چکے تھے لیکن محمد علی بوگرہ کو انھوں نے وزیر اعظم نامزد نہیں کیا تھا۔ مبینہ طور پر انھوں نے ایوب خان سے کہا کہ وہ اقتدار پر قبضہ کر لیں۔ ایوب خان نے ’فرینڈز ناٹ ماسٹرز‘ میں بھی مختصراً یہ واقعہ درج کیا ہے۔ محمد علی بوگرا کو جب وزیر اعظم بنا دیا گیا تو جنرل موسیٰ کے مطابق انھوں نے ایوب اور اسکندر سے کہا: ’بوگرا میرا وفادار نہیں ، میں اسے رخصت کرنے والا ہوں، اس لیے تمھیں یعنہ ایوب خان کو چاہیے کہ اقتدار پر قبضہ کر لو۔‘ جنرل موسیٰ کے مطابق ان دونوں نے انھیں سمجھایا کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے جس پر غلام محمد نے کہا کہ ’ہاں اگر بوگرہ ان کی خواہش کے مطابق کابینہ تشکیل دیں تو وہ ان کی حکومت چلنے دیں گے۔‘اس کے بعد انھوں نے نئی کابینہ کے ارکان کی ایک فہرست بوگرا کو فراہم کی جس میں باقی سب نام تو پرانے تھے لیکن تین نام نئے تھے، یہ نام تھے: ’سیکریٹری خزانہ چوہدری محمد علی، سیکریٹری دفاع میجر جنرل اسکندر مرزا اور بری فوج کے کمانڈر انچیف جنرل ایوب خان۔‘
یہ پہلی بار تھی جب سیاستدانوں کے بجائے سول اور فوجی بیورو کریسی سے تعلق رکھنے والوں کا تقرر سیاسی مناصب پر ہوا۔ تاریخ میں اسے پہلی قومی حکومت کا نام بھی دیا جاتا ہے۔سیاسی عمل میں شریک ہو جانے کے بعد ہی ملک گیر مارشل لا کے نفاذ کی نوبت آئی۔ یہ مارشل لا صدر مملکت اسکندر مرزا اور ایوب خان کا مشترکہ منصوبہ تھا لیکن اس واقعے کے بعد اسکندر مرزا اقتدار سے جس طرح بے دخل کیے گئے اور ایوب خان ملک کے سیاہ و سفید کے مالک بنے، وہ تاریخ کا حصہ ہے لیکن چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر اور سربراہ مملکت و حکومت کے طور پر انھوں نے فوراً ہی کچھ ایسے کام کیے جن کی وجہ سے عالمی سطح پر ان کی تحسین ہوئی اور ان کا شمار عالمی مدبرین میں کیا جانے لگا۔ ان میں ایک معاملہ چین کے ساتھ سرحدی تنازع کے حل کا تھا اور دوسرا انڈیا کے ساتھ دریائی پانی کی تقسیم کا۔ یہ ایسے مشکل مسائل تھے جن کے پُرامن اور خوشگوار حل نے بہت جلد ان کی اہمیت میں اضافہ کر دیا اور ملک کے اندر بھی ان کی قسمت کا ستارہ عروج پر جانے لگا اور کامیابیاں یکے بعد دیگرے اُن کا اقبال بلند کرتی چلی گئیں۔لیکن عروج کے اسی زمانے میں اپنی افتاد طبع کے تحت وہ کچھ ایسا بھی کر گزرے جس کی وجہ سے اقتدار پر ان کی گرفت رفتہ رفتہ کمزور پڑتی چلی گئی اور انھیں نہایت بے بسی کے عالم میں اقتدار سے محروم ہونا پڑا۔
ایوب خان اقتدار کی خواہش بھی رکھتے تھے اور اس مقصد کے لیے جو اقدامات ضروری ہوتے تھے، بڑی حکمت کے ساتھ وہ بھی کر گزرتے تھے لیکن ان کے مزاج میں احتیاط کا ایک پہلو ایسا بھی تھا جس کے باعث وہ اہم ترین مواقع پر ہمیشہ منظر سے غائب ہو جاتے یا انتہائی فیصلہ کن مواقع پر ان کی قوت فیصلہ جوب دے جاتی۔ 1958 کے مارشل لا کے نفاذ کے وقت کا ایک واقعہ انھوں نے خود اپنی سیاسی آپ بیتی میں بھی لکھا ہے کہ مارشل لا کے نفاذ سے عین قبل وہ تمام تر معاملات اسکندر مرزا پر چھوڑ کر شمالی علاقہ جات چلے گئے اور اس دوران یعنی ناران میں قیام کے دوران ایک کتاب ‘The Men Who Ruled India’ کا مطالعہ کرتے رہے تاکہ آنے والے دنوں میں جب انھیں کار مملکت نمٹانے کا موقع میسر آئے گا تو وہ ہندوستان جیسے ایک وسیع و عریض ملک پر کامیابی سے حکومت کرنے والوں کے تجربات سے پوری طرح آگاہ ہوں۔ ایوان اقتدار پر قبضہ جماتے وقت حالات کا براہ راست سامنا نہ کرنے کے ضمن میں ان کا جو مزاج سامنے آیا تھا، ان کے زمانہ اقتدار میں بھی اس کے مظاہر سامنے آتے رہے۔ اس سلسلے میں قدرت اللہ شہاب نے اپنی خود نوشت میں ایک اہم واقعہ بیان کیا ہے۔
شہاب کے مطابق 1962 میں چین نے جب انڈیا پر حملہ کیا تو وہ نصف شب کا وقت تھا۔ رات کے اسی پہر ایک چینی باشندے نے ان سے ملاقات کی اور انڈیا پر چین کے حملے کے بارے میں بتایا اور کہا کہ ’میں یہ سمجھتا ہوں کہ صدر ایوب کو اس خبر میں گہری دلچسپی ہو گی۔‘ شہاب کے مطابق یہ چینی سفارتکاری کا ایک خاص انداز تھا جس کے تحت انھوں نے اپنے پاکستانی دوستوں کو آگاہ کیا کہ مسئلہ کشمیر کو ہمیشہ کے لیے حل کرنے کا بہترین وقت آ گیا ہے۔ شہاب کے مطابق انھوں نے ایوب خان کو جگا کر جب یہ خبر سُنائی تو وہ بہت خفا ہوئے اور سخت غصے میں کہا: ’تم سویلین لوگ فوجی نقل و حمل کو بچوں کا کھیل سمجھتے ہو، جاؤ، تم بھی آرام کرو، مجھے بھی نیند آ رہی ہے۔‘
شہاب نے لکھا ہے ’مجھے قوی یقین ہے اس شب ایوب خان پر اگر نیند کا غلبہ طاری نہ ہوتا تو تاریخ کا دھارا مختلف ہوتا۔‘
آپریشن جبرالٹر، اس کا کورنگ آپریشن گرینڈ سلام اور ان کے بعد 1965 کی جنگ کے بارے میں جو منصوبے ایوب خان کو پیش کیے گئے، ان کی افادیت پر انھیں بالکل یقین نہ تھا لیکن جب جنگ سے قبل ان آپریشنوں کی منظوری دے دی گئی لہازا عین حالت جنگ میں دارالحکومت میں قیام کرنے کے بجائے وہ کسی کو کچھ بتائے بغیر پراسرار طور پر سوات چلے گئے جہاں کسی سے ان کا کوئی رابطہ نہ رہا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ یہ پورا آپریشن وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو اور جی ایچ کیو سے تعلق رکھنے والے ان کے ساتھیوں کے ہاتھ میں چلا گیا اور صدر مملکت کی حیثیت سے ایوب خان فیصلہ سازی کا اختیار کھو بیٹھے۔ اسی طرح معاہدہ تاشقند ایوب خان کے سیاسی کیریئر کا ایک اہم واقعہ ہے لیکن یہی وہ اہم ترین واقعہ ہے جس میں حتمی طور پر واضح ہو گیا کہ وہ بے دست و پا ہو چکے تھے جس کی بنیادی وجہ ان کا ہمیشہ اہم ترین واقعہ پر غائب ہو جانا تھا۔
تاشنقد جا کر ایوب خان پر یہ حیرت انگیز انکشاف ہوا کہ وزارت خارجہ نے اس دورے کے لیے بنیادی تیاری ہی نہیں کی۔ یہاں تک کہ افتتاحی اجلاس کے لیے ان کی تقریر بھی تیار نہ کی گئی۔ اس وقت ایوب خان نے ہدایت کی کہ فوری طور پر تقریر تیار کی جائے۔ ایوب نے الطاف گوہر کو ہدایت کی کہ تقریر میں کشمیر کو سب سے زیادہ اہمیت دی جائے۔ اس مرحلے پر بھٹو نے مداخلت کی اور کہا کہ کانفرنس کے بالکل ابتدا میں ایسا کرنا مناسب نہ ہو گا۔ ایوب خان اس سے متفق نہ تھے لیکن بھٹو سے اختلاف نہ کر سکے۔ الطاف گوہر نے لکھا ہے کہ ایوب جان چکے تھے کہ دورہ تاشقند کی تیاری کس نے نہیں کی لیکن انھوں نے کسی کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی اور بعد میں یہی واقعہ ان کے زوال کی حتمی بنیاد بن گیا۔
اپنے اقتدار کے آخری دنوں میں ان کو دل کا دورہ پڑا تو اس موقع پر اقتدار کے سب سے بڑے حریص یحییٰ خان نے ایوان صدر پر قبضہ کر لیا اور ان تک، ان کے ذاتی سٹاف، کابینہ کے ارکان حتیٰ کہ افراد خانہ کی رسائی بھی ناممکن بنا دی۔ گوہر ایوب دعویٰ کرتے ہیں کہ اس موقع پر انکے والد نے سپیکر قومی اسمبلی عبدالجبار خان کو اقتدار منتقل کرنے کی کوشش کی جسے یحییٰ خان نے ناکام بنا دیا۔ گوہر ایوب نے یہ نہیں لکھا کہ صحت یاب ہونے کے بعد ایوب خان نے یحییٰ خان کے خلاف کیا کارروائی کی۔
الطاف گوہر نے لکھا ہے کہ گول میز کانفرنس کے بعد جب یحییٰ خان نے اقتدار پر قبضہ کرنے کے تمام انتظامات مکمل کر لیے تو انھوں نے ملک کو ایک اور مارشل لا سے بچانے کی کوشش کی اور وزیر قانون، وزیر دفاع اور سیکریٹری اطلاعات سے کہا کہ وہ یحییٰ خان سے مل کر انھیں باز رکھنے کی کوشش کریں۔ یحییٰ خان یہ پیغام سن کر بھڑک اٹھے اور کہا ’کیا یہ کوئی سویلین بغاوت ہے؟‘
الطاف گوہر نے لکھا ہے کہ اپنے آرمی چیف کے اس طرز عمل پر ایوب خان کا ردعمل بڑا فلسفیانہ قسم کا تھا، انھوں نے کہا ’اگر یحییٰ خان نہ ہوتے تو فوج بہت پہلے یہ کارروائی کر چکی ہوتی۔‘ فوجی کارروائی کے بارے میں ایسی ’حقیقت پسندی‘ سے کام لینے والے ایوب خان کے بارے میں الطاف گوہر نے لکھا ہے کہ اس واقعے کے بعد اقتدار کے ایوان پر مایوسی کے ایسے سائے چھا گئے جن میں سانس تک لینا مشکل تھا۔ اُن دنوں ایوب خان صبح شام یہ سوال کیا کرتے تھے ’آخر یہ سب معاملہ کیسے بگڑ گیا؟‘یہ معاملہ کیسے بگڑا، مؤرخ رفیق افضل نے اس کی ایک وجہ بیان کی ہے۔ ان کے مطابق ایوب خان مارشل لا لگا کر جب ملک کے سیاہ وسفید کے مالک بنے تھے تو اس وقت قومی خزانے کے محفوظ ذخائر 1390 ملین تھے لیکن سنہ 1968 میں جب قوم ان کے خلاف ہو چکی تھی، قومی خزانے میں صرف 431 ملین کا زرمبادلہ رہ گیا تھا۔ تاہم ان حقائق کے باوجود آزاد دائرۃ المعارف نے ایوب خان کے بارے میں لکھا کہ ان کے دور میں ملک میں دن دگنی اور رات چوگنی ترقی ہوئی، ان کے انداز حکمرانی کے بارے میں شاید ایسے ہی تصورات سے متاثر ہو کر کسی نے کہا ہو گا:
’تیری یاد آئی تیرے جانے کے بعد۔۔۔‘ لیکن پاکستانی عوام کو ان کی یاد کیوں آتی ہو گی، اس کی وجوہات ہر ایک کے لیے یقیناً ایک جیسی نہیں ہوں گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button