پنجاب کے الیکشن میں نون لیگ کے مد مقابل کون ہو گا؟

الیکشن کمیشن کے اعلان کے مطابق پاکستان میں عام انتخابات جنوری کے آخری ہفتے میں ہوں گے تو ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ انتخابی مہم کے اعتبار سے بڑی سیاسی جماعتیں کہاں کھڑی ہیں۔ کون سی سیاسی جماعتیں کہاں مضبوط اور کہاں کمزور ہیں جبکہ کن کن کے درمیان اتحاد یا سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا امکان ہے۔بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی میں سب سے زیادہ نشستوں والے صوبے پنجاب میں سیاسی سرگرمیوں کے اثرات دیگر صوبوں میں فوری طور پر محسوس کیے جاتے ہیں۔ تاہم الیکشن میں تین ماہ رہ جانے کے باوجود پنجاب میں ماضی کی طرح کوئی خاص سیاسی گہما گہمی دکھائی نہیں دے رہی۔ تاہم مسلم لیگ نون کی جانب سے پارٹی قائد تین بار کے منتخب وزیر اعظم نواز شریف کی 4 سال بعد 21اکتوبر کو لاہور آمد پر استقبال کی تیاریاں زوروشور سے جاری ہے۔ اگرچہ نون لیگ کی یہ کوئی انتخابی سرگرمی تو نہیں تاہم اس کا مقصد نواز شریف کی آمد پر مینارِ پاکستان پر پاور شو کرنا قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس وقت پنجاب میں ن لیگ کی انتخابی مہم کہاں کھڑی ہے؟
تجزیہ کار سلمان غنی کہتے ہیں ’مسلم لیگ ن کی ساری تیاری میاں نواز شریف کی آمد کے حوالے سے دکھائی دیتی ہے۔ اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔۔۔ مجھے تو لاہور میں بھی، جو مسلم لیگ ن کا گڑھ ہے، وہاں پر بھی انتخابات بارے کوئی بڑی تیاریاں نظر نہیں آ رہیں۔اسی طرح تجزیہ کار ڈاکٹر حسن عسکری رضوی کہتے ہیں کہ پنجاب میں جو سیاسی مقابلہ ہے وہ پاکستان مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی کے مابین ہو گا۔ تاہم یہ الیکشن میں پی ٹی آئی کی پوزیشن اور حیثیت پر منحصر ہے۔‘ڈاکٹر رسول بخش کی رائے میں ’جو الیکٹیبلز اکٹھے ہو رہے ہیں، اُن میں ن لیگ کا پلڑا بھاری ہے‘ جبکہ تجزیہ کار ضیغم خان کا خیال ہے کہ ن لیگ نے ’جس طرح گذشتہ ڈیڑھ سالوں میں اپنی مقبولیت کھوئی ہے، اس کو دوبارہ حاصل کرنا جتنا ناگزیر ہے اتنا ہی مشکل۔وہ کہتے ہیں کہ ’میاں صاحب آ کر کیا مقبولیت بحال کرواسکیں گے؟ یہ دیکھنا ہو گا۔‘مگر یہ واضح ہے کہ معاشی چیلنجز سے بھرپور شہباز شریف کے مختصر دور کے بعد میاں نواز شریف کی واپسی، پی ایم ایل این کی سیاسی بقا سے مشروط ہو چکی ہے۔
پنجاب کے تمام اضلاع سے جو رپورٹس موصول ہوئی ہیں، اُن کے مطابق تمام مقامی قیادت میاں نوازشریف کے استقبال کے لیے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو لانے کی سعی کر رہی ہے۔اس کی دو وجوہات سامنے آئی ہیں۔ مقامی اُمیدوار سمجھتے ہیں کہ یہ شو کامیاب رہا تو حلقے میں اُن کی سیاست میں جان پڑ سکتی ہے۔ دوسرا یہ کہ نواز شریف کی واپسی کو جس اُمید سے جوڑا جا رہا ہے، وہ اُمید اگر ثمر بار ہوتی ہے تو پارٹی پنجاب میں کھوئے اعتماد کو بحال کر سکتی ہے۔دوسری جانب قومی اسمبلی کی تحلیل کے دنوں میں جنوبی پنجاب کی سطح پر پیپلز پارٹی متحرک دکھائی دی۔ مگر موجودہ لمحات میں اِن کی دوسرے درجہ کی قیادت میاں نواز شریف کی واپسی کو، بیانات کی حد تک، طنزیہ پیرائے میں دیکھ رہی ہے۔پیپلز پارٹی کی سرگرمیوں اور ان کے بعض رہنماؤں کے بیانات سے یوں محسوس ہو رہا ہے کہ اِن کے لیے میدان کھلا نہیں چھوڑا جا رہا۔
ڈاکٹر حسن عسکری رضوی کہتے ہیں کہ پیپلزپارٹی کی پوزیشن ’اُس وقت تک بہتر ہوسکتی ہے جب تک پی ٹی آئی زیرِ عتاب رہے گی اور خوف کی فضا طاری رہے گی۔‘انتخابات کی تاریخ آنے پر کیا پیپلز پارٹی میں کچھ الیکٹیبلز بھی شمولیت اختیار کریں گے، اس سوال پر ڈاکٹر رسول بخش رئیس کہتے ہیں کہ ’پی ٹی آئی سے جو لوگ نکل گئے یا آنے والے وقت میں چھوڑ کر جائیں گے، اُن میں سے زیادہ تر پیپلزپارٹی کے پاس نہیں جا رہے۔‘جنوبی پنجاب میں پیپلزپارٹی سپیس لینے کی کوشش کرتی نظر آئی لیکن موجودہ لمحات میں وہاں کیا صورت حال ہے؟ اس سوال کے جواب میں جنوبی پنجاب اور پیپلزپارٹی کی سیاست پر نظر رکھنے والے صحافی شاکر حسین شاکر کہتے ہیں کہ ’جنوبی پنجاب میں پیپلز پارٹی متحرک نہیں، نہ ہی کوئی میٹنگ، نہ ہی کہیں کوئی جوڑ توڑ نظر آ رہا ہے۔‘وہ بتاتے ہیں کہ مخدوم احمد محمود ملتان کی طرف آتے ہیں مگر عوام کے اندر اُن کی روٹس بالکل نہیں ہیں۔ ’ملتان میں پیپلز پارٹی کے اہم رہنما اور سابق وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی پارٹی کی نسبت اپنے بچوں اور خاندان کی سیاسی مہم پر لگے ہوئے ہیں۔ یہ اپنے بچوں اور خاندان سے باہر ہی نہیں نکل رہے۔‘
پنجاب میں سیاسی ہلچل عمران خان اور اُن کی جماعت کی وجہ سے تھی مگر وہ اس وقت خود اڈیالہ جیل میں ہیں۔ اُن کے ساتھی جماعت چھوڑ چکے، چھوڑ رہے ہیں یا پھر غائب اور خاموش ہیں۔ استحکام پاکستان پارٹی بظاہر لاہور میں میٹنگز اور پوسٹروں سے آگے تحریک پیدا کرنے سے قاصر دکھائی دیتی ہے۔ضیغم خان کہتے ہیں کہ ’پنجاب میں انتخابی صورتحال بے یقینی کا شکار ہے (کیونکہ) ملک کی سب سے نمایاں جماعت، پاکستان تحریک انصاف، بہت زیادہ دباؤ کا شکار ہے اور دانستہ طور پر پی ٹی آئی کے امکانات کو کم کرنے کی مسلسل کوشش کی جا رہی ہے۔‘کیا آنے والے وقت میں پی ٹی کی مقبولیت کا گراف نیچے آسکتا ہے؟ اس سوال پر ضیغم خان کہتے ہیں کہ ’کیا پاکستان تحریک انصاف کی مقبولیت کو گرایا جاسکتا ہے؟ یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہے۔‘
عمران خان کے سابقہ دیرینہ ساتھی جہانگیر ترین کی نئی استحکام پاکستان پارٹی سے کیا توقعات وابستہ رکھی جاسکتی ہیں، اس سوال پر ڈاکٹر حسن عسکری رضوی نے کہا کہ اس جماعت کی ’کوئی پالیسی واضح نہیں ہے اور نہ ہی اُن سے کسی پرفارمنس کی اُمید ہے۔‘وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’پنجاب میں استحکام پاکستان پارٹی نے کوئی جلسہ نہیں کیا۔اسی طرح ڈاکٹر رسول بخش رئیس کہتے ہیں کہ جنوبی پنجاب میں ممکن ہے چند لوگ اکٹھے کر کے ایسی پارٹی بنا لی جائے تاہم یہ ’ایک دھڑا تو بن سکتی ہے، سیاسی جماعت نہیں تاہم یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ جنوبی پنجاب، جو کہ جہانگیر خان ترین کا اپنا حلقہ اور مسکن بھی ہے، وہاں استحکامِ پاکستان پارٹی کہاں کھڑی ہے؟شاکر حسین شاکر کے مطابق جنوبی پنجاب میں اس وقت استحکام پاکستان پارٹی میں کسی بڑی شخصیت نے شمولیت اختیار نہیں کی۔ ’نہ ہی اُن کی جانب سے اس طرح کی کوئی کوشش کی جا رہی ہے۔ جہانگیر ترین کا خیال ہے کہ الیکشن ابھی دُور ہے۔‘
تاہم یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ مستقبل قریب میں پنجاب کا ممکنہ سیاسی منظرنامہ کیا ہوگا؟ڈاکٹر حسن عسکری رضوی کہتے ہیں ’جب تک الیکشن کی تاریخ واضح نہیں ہوتی، اُس وقت تک سیاسی جماعتوں کی سطح پر کسی حکمت عملی کی وضاحت بھی نہیں ہو سکے گی۔‘پروفیسر رسول بخش رئیس کہتے ہیں کہ ’اُن الیکٹیبلز کو اکٹھا کیا جا رہا ہے جن کا حلقۂ اثر ہے۔ مگر لوگ ایسی پارٹیوں کے خلاف ہو چکے ہیں۔ عمران کے پاس اب بھی مقبولیت ہے، باقیوں کے پاس نہیں ہے۔‘اس سوال پر کہ جنوبی پنجاب کا کیسا منظرنامہ تشکیل پاسکتا ہے، شاکر حسین شاکر کہتے ہیں کہ ’جنوبی پنجاب مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے مابین اتحاد کی صورتحال نظر نہیں آرہی ہے ۔جبکہ استحکام پاکستان پارٹی مقبولیت حاصل کرنے کی پالیسی سے محروم ہے ۔ کسی بھی سیاسی جماعت کی جانب سے انتخابی لائحہ عمل سامنے نہیں آیا۔
