پوڈیم چرانے والا ’وائیا گیٹی‘ گرفتار کیوں نہیں ہوا؟

واشنگٹن میں صدر ٹرمپ کے حامیوں کی جانب سے کیپٹل ہل کی عمارت پر دھاوے اور ہنگامہ آرائی پر نہ صرف امریکہ بلکہ دنیا بھر میں اس معاملے پر کافی سنجیدہ تبصرے ہوئے۔
واشنگٹن میں پرتشدد مظاہرے کی تصاویر سوشل میڈیا پر گردش کرتی رہیں جنہیں بڑی تعداد میں صارفین نے اپنی ٹائم لائنز کا حصہ بنایا۔امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے سینیئر تجزیہ کار ریان لیزا نے بھی اس ہنگامہ آرائی کی ایک تصویر اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر شیئر کی جس میں ٹرمپ کا ایک حامی ہاتھ میں پوڈیم اٹھائے مسکراتے ہوئے اپنی تصویر کھنچواتا نظر آ رہا ہے۔
ویسے تو یہ کیپٹل ہل پر چڑھائی کی سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی تصاویر میں سے ایک تھی اور صارفین مذمتی الفاظ کے ساتھ اسے شیئر کر رہے تھے، لیکن ریان لیزا کے اس تصویر کے ساتھ لکھے گئے جملے نے اس سنجیدہ معاملے کو دلچسپ بنا دیا۔انہوں نے اس تصویر کے ساتھ لکھا کہ ’وائیا گیٹی، ہنگامہ آرائی میں ملوث ایک شخص کیپٹل سے پوڈیم چرا رہا ہے۔‘
ریان لیزا نے یہ تصویر فوٹو ایجنسی ’گیٹی امیجز‘ سے لی تھی اسی لیے انہوں نے اس تصویر کے ساتھ مینشن کیا-
’بذریعہ گیٹی‘ لیکن کئی صارفین لاعلمی کی وجہ سے اسے مذکورہ شخص کا نام سمجھ بیٹھے۔
اس ٹویٹ کے بعد ٹوئٹر صارفین ’اریسٹ وائیا گیٹی‘ کے ہیش ٹیگ کا استعمال کرتے ہوئے مذکورہ شخص کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کرنے لگے۔ٹوئٹر پر ٹرینڈ ہونے والی اس دلچسپ خبر کو نہ صرف امریکی میڈیا بلکہ انڈیا کے انٹرنیشنل بزنس ٹائمز پبلک چیٹ کے آفیشل اکاؤنٹ نے بھی رپورٹ کیا۔
