پہلگام حملے کی مذمت اور فلسطین کا ذکر، برکس ممالک کا ’نئی دہلی اعلامیہ‘ جسے انڈیا نے سفارتی کامیابی قرار دیا
برکس کے مشترکہ اعلامیے میں دہشت گردی کی تمام شکلوں کی مذمت، سرحد پار دہشت گردی اور دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے خلاف مشترکہ کارروائی کے عزم کا اظہار کیا گیا

انڈیا میں برکس سربراہی اجلاس کا مشترکہ اعلامیہ جاری کر دیا گیا ہے، جس میں گزشتہ برس انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں ہونے والے شدت پسندوں کے حملے کی مذمت کی گئی ہے۔ بعض بھارتی تجزیہ کار اسے انڈیا کی بڑی سفارتی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔
45 صفحات پر مشتمل اس اعلامیے کو ’نئی دہلی اعلامیہ‘ کا نام دیا گیا ہے، جس پر برکس کے رکن ممالک برازیل، روس، انڈیا، چین، جنوبی افریقہ، مصر، ایران، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا اور ایتھوپیا کے رہنماؤں نے دستخط کیے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے میں دہشت گردی، اس کی مالی معاونت، سرحد پار دہشت گردی اور دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے خلاف مشترکہ کارروائی کرنے کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردی کو کسی مذہب، قومیت، تہذیب یا نسلی گروہ سے نہیں جوڑا جانا چاہیے۔ برکس ممالک نے دہشت گردی کی ’تمام شکلوں‘ کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی وجہ یا مقصد کے تحت کیے گئے دہشت گردی کے واقعات کو جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔
خیال رہے کہ گزشتہ برس اپریل میں انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں ہونے والے حملے میں 26 افراد مارے گئے تھے۔ انڈیا نے اس حملے کا الزام پاکستان پر عائد کیا تھا، جسے پاکستان نے مسترد کرتے ہوئے غیر جانب دار تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔
اسی واقعے کے بعد مئی 2025 میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان چار روزہ فوجی لڑائی بھی ہوئی تھی، جس میں دونوں فریقوں نے ایک دوسرے کو بھاری نقصان پہنچانے کے دعوے کیے تھے۔ تاہم برکس سربراہی اجلاس کے اعلامیے میں پاکستان کا نام نہیں لیا گیا۔
برکس دنیا کی اہم اور تیزی سے ابھرتی ہوئی معیشتوں پر مشتمل ایک عالمی اقتصادی اور سیاسی اتحاد ہے، جس کا قیام 2006 میں عمل میں آیا تھا۔
برکس کے 18ویں سربراہی اجلاس کا آغاز ہفتے کو انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی میں ہوا، جس میں چینی صدر شی جن پنگ، روسی صدر ولادیمیر پوتن، ایرانی صدر مسعود پزشکیان سمیت رکن ممالک کے رہنما شریک ہوئے۔
