پیپلز پارٹی کا مہنگائی کیخلاف ملک گیر تحریک شروع کرنے کا اعلان

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے مہنگائی کیخلاف تحریک شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ پچاس لاکھ گھروں کا وعدہ کرنے والے ایک بھی نہیں بنا سکے، الٹا لاکھوں افراد سے چھت چھین لی، ‘’پی ٹی آئی ایم ایف’’ بجٹ سے غربت اور بیروزگاری بڑھی، عوام کا جینا دوبھر ہو گیا۔ حکومت آئی ایم ایف کے پیکیج پر نظرثانی کرے ورنہ ہم اس پیکیج کے خلاف مارچ سے ملک بھر میں جدوجہد کریں گے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹوزرداری نے لیاری میں گرین پاکستان پروگرام کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ حکومت ہمارے عوام کے معاشی حقوق کو چھیننے کی کوشش کررہی ہے، اگر ہم اپنے صوبے کی مثال لیتے ہیں تو اب تک این ایف سی سے 140 ارب روپے کم ملے ہیں’۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘اگر این ایف سی کا پورا حصہ 140 ارب روپے مل جاتے تو سوچیے ہم اپنے نوجوانوں کو کتنی نوکریاں دلا سکتے تھے اور غریب عوام کے لیے کتنے گھر بناتے، وعدہ تو عمران خان کا تھا کہ 50 لاکھ گھر بنائیں گے’۔ وفاقی حکومت کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ‘عمران خان کا وعدہ تھا کہ ایک کروڑ نوکریاں دیں گے اور 50 لاکھ گھر بنائیں گے لیکن کٹھ پتلی تبدیلی کو آئے ہوئے ایک سال سے زیادہ وقت ہوا ہے اور اس عرصے میں انہوں نے روزگار دیا نہیں بلکہ چھینا ہے’۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘ایک سال میں انہوں نے ایک گھر نہیں بنایا بلکہ لاکھوں گھر گرائے ہیں، تجاوزات کے نام پر غریب عوام کی چھت چھین رہے ہیں اور ان کی معاشی پالیسی عوام دشمن ہے، عوام کے معاشی قتل کے منصوبے ہیں’۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ ‘ہم نے پہلے کہا تھا کہ یہ بجٹ عوام دشمن ہے اور پی ٹی آئی کا بھی نہیں بلکہ پی ٹی آئی ایم ایف کا بجٹ ہے اور اس ملک کے عوام اس کو نہیں مانتے ہیں، پاکستان پیپلپزپارٹی کے کارکن بھی نہیں مانتے ہیں’۔انہوں نے کہا کہ ‘جب سے یہ پی ٹی آئی ایم ایف بجٹ ہم پر زبردستی لگایا گیا ہے تب سے کس طریقے سے ہنگائی، غربت اور بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے، یہ حکومت کی ناکامی اور نالائقی تھی کہ انہوں نے آئی ایم ایف کے ساتھ صحیح مذاکرات نہیں کیے’۔ آئی ایم ایف سے لیے گئے قرض کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ‘ہمارے ملک کے لیے صحیح معاشی پیکیج کے مذاکرات ہی نہیں کیے ہیں جس کا بوجھ عوام بجلی اور گیس کے بل اور کھانے پینے کی اشیا میں مہنگائی کی صور میں اٹھا رہے ہیں’۔
چیئرمین پی پی پی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ‘ہمارے لیے یہ نامنظور ہے اور ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ وفاقی حکومت آئی ایم ایف کے ساتھ دوبارہ مذاکرات کرے اور ایک عوام دوست منصوبہ لائیں اور پاکستان کے موقف اور عوام کے حقوق پر سودا بازی نہیں ہونی چاہیے’۔انہوں نے کہا کہ ‘پرو پاکستان آئی ایم ایف پیکیج لانا پڑے گا ورنہ یہ عوام دشمن اور غریب دشمن پی ٹی آئی ایم ایف پیکیج ہمیں اور عوام کو نامنظور ہے اور مارچ سے پورے ملک میں اس عوام دشمن اور پی ٹی آئی ایم ایف پیکیج کے خلاف ایک جدوجہد کی تحریک شروع کریں گے تاکہ غریب عوام کے حقوق کا دفاع کرسکیں’۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ ‘ہم نے ایک سال کے اندر بینظیر انکم سپورٹ پروگرام شروع کیا تھا جس سے غریب عوام کے ہاتھ میں پیسہ دلا رہے تھے لیکن ان کی ایک سال سے زائد حکومت ہے اور ایک غریب دوست پروگرام نہیں لایا’۔وفاقی حکومت کی جانب بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے حوالے سے اقدامات پر ان کا کہنا تھا کہ ‘ایک دن شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی تصویر ہٹاتے ہیں، دوسرے دن دس لاکھ کے قریب غریب خواتین کو اس پروگرام سے ہٹاتے ہیں پھر بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے نام کوتبدیل کردیتے ہیں’۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘انہوں نے صرف چھینا ہے غریب عوام سے بینظیر انکم سپورٹ چھین رہے ہیں، روزگار اور چھتیں چھین رہے ہیں اور ان کا کام عوام سے لینے کا ہے لیکن پاکستان پیپلزپارٹی ایک مرتبہ پھر عوامی حکومت بنائیں گے اور مسائل حل کریں گے’۔
بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو ان کی کارکردگی پر خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ اب شہر میں سیکیورٹی کی صورت حال بہتر ہے اور حالات معمول پر آچکے ہیں اس لیے جو عوامی مقامات اس مقصد کے لیے استعمال ہورہے تھے ان کی واپسی کی کوششیں کریں،ان کا کہنا تھا کہ ہم لیاری میں پھر سے تاریخ بنارہے ہیں اور لیاری کے عوام بھی ہمیشہ تاریخ بناتے ہیں، خوشی ہے کہ اربن فارسٹ منصوبہ لیاری سے شروع ہورہا ہے اور جلد ہی ملیر میں اسی طرح کا ایک منصوبہ شروع ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ لیاری میں ہم پیپلز اربن فارسٹ منصوبہ بنارہے ہیں اس میں باکسنگ کا رنگ اور فٹ بال کا میدان بھی ہوگا، جو بھی یہاں کے نوجوانوں کا جن گراؤنڈز کا مطالبہ ہوگا ہم وہ دینے کی کوشش کریں گے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ خاص طور پر لیاری کے بچے چاہے باکسنگ ہو یا فٹ بال ہر کھیل میں وہ سب سے آگے ہوتے ہیں اور مجھے امید ہے کہ سندھ حکومت وہ کام کرے گی جو ان کا حق ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لیاری کا پیپلز اسٹیڈیم نوجوانوں کی اہم جگہ تھی، نوجوانوں کو کھیلوں کے لیے بہت ضروری جگہ ہے لیکن ہمارے پاس زیادہ جگہیں نہیں ہیں جہاں ہم ان کو سہولت دیں۔
چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ وزیراعلیٰ سند سمیت سب سے درخواست کرتا ہوں کہ جو ادارے امن و امان اور دیگر مسائل کے لیے وہ استعمال کرتے تھے تو اب بہتری آئی ہے اور اب نوجوانوں کا مطالبہ ہے کہ ہمارا پیپلز اسٹیڈیم واپس کرے تو آپ لوگ اس کو واپس کرنے کے لیے کوشش کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button