پی آئی اے کا عملہ غیر ملکوں میں غائب کیوں ہو جاتا ہے؟


اچھے مستقبل کی تلاش اور ملکی حالات سے تنگ پی آئی اے کے ملازمین کینیڈا کی سرزمین پر اترتے ہی خود پر قابو رکھنے میں ناکام ہو جاتے ہیں اور پھر وہیں غائب ہونے کا فیصلہ کر لیتے ہیں، گزشتہ ہفتے پی آئی اے کی فلائٹ پی کے 782 ٹورنٹو ایئرپورٹ پر پہنچی تو قانون کے مطابق مسافروں کے ساتھ پی آئی اے کے فلائٹ سٹاف کو امیگریشن کاؤنٹر پر پہنچ کر اپنی کلیئرنس کروانی تھی۔
پی آئی اے کے سٹاف کو امیگریشن کاؤنٹر پر لے جایا جاتا ہے، جہاز سے اُترنے وقت سٹاف ممبرز پورے تھے تاہم امیگریشن کاؤنٹر پر پہنچ کر پتا چلا کہ ایک سٹاف ممبر غائب ہے، پہلے تو ان کے ساتھیوں کو محسوس ہوا کہ شاید انھیں کینیڈا ایئر پورٹ حکام نے جہاز سے امیگریشن کاؤنٹر کے درمیان راستے میں کہیں روک لیا ہے تاہم جب حکام سے معلوم کیا تو انھوں نے اس بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا۔ بعد میں یہ واضح ہو گیا کہ وہ سٹاف ممبر امیگریشن کاؤنٹر پہنچنے سے پہلے ہی غائب ہو گئے تھے۔

پی آئی اے ملازم کے غائب ہونے کے بعد اس واقعے کی تحقیقات کا اعلان تو کیا گیا ہے تاہم یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے، اس سے پہلے بھی ایسے کئی واقعات ہو چکے ہیں۔ صرف دو سال میں پی آئی اے کے کینیڈا میں سات ملازمین غائب ہو چکے ہیں جنہیں ملازمتوں سے برخاست بھی کر دیا گیا۔

پاکستان ایئر لائنز پائلٹس ایسوسی ایشن یعنی پالپا کے سابق سربراہ اور سابق ڈائریکٹر فلائٹ آپریشن پی آئی اے کیپٹن خالد حمزہ نے بتایا کہ پی آئی اے کی بیرون ملک جانے والی فلائٹس کے عملے کے بیرون ملک فرار ہونے کا سلسلہ پرانا ہے، انہوں نے کہاکہ پی آئی اے کی بیرون ملک فلاٹٹس کے عملے میں شامل درجنوں غیر ملکی افراد بھی بیرون ملک غائب ہو چکے ہیں۔ کیپٹن خالد حمزہ نے حالیہ واقعے بارے کہا کہ صرف رواں سال ہی بیرون ملک جانے والی فلائٹس کے عملے کے افراد کے غائب ہونے کا یہ تیسرا واقعہ ہے، پی آئی اے انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ یہ سلسلہ روکنے کے لیے پی آئی اے کے عملے سے بانڈ بھروانے کا سلسلہ شروع کیا گیا تھا تاہم اس کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ ملازمین سے ایک ڈیکلریشن لیا جاتا ہے تاہم لوگ پھر بھی غائب ہو جاتے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ اسی طرح غائب ہو جانے والے افراد کے گھر والوں پر ایف آئی آر کٹوانے کا سوچا گیا تاہم اسے ناقابل عمل قرار دے دیا گیا۔ اسی طرح غائب ہونے والے افراد کو بیرون ملک سے ڈی پورٹ ہونے کے بعد ریڈ فلائی لسٹ میں ڈالنے کا کہا گیا۔ تاہم یہ اس لیے مشکل ہے کہ غائب ہونے والے افراد ڈی پورٹ ہونے کی بجائے کچھ سال بعد نیشنلٹی لیکر کسی دوسرے ملک کے پاسپورٹ پر سفر کرنے لگتے ہیں۔ لہٰذا آپ انھیں روک نہیں سکتے۔ کیپٹن خالد نے کہا کہ ایسے افراد ایک دو مہینے چھپے رہتے ہیں، اس کے بعد وہ کوئی کام ڈھونڈتے ہیں، جن ممالک میں یہ افراد غائب ہوتے ہیں وہ بھی انھیں ڈھونڈنے میں کم ہی دلچسپی دکھاتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ ایسے افراد کی صورت میں انھیں سستی افرادی قوت مل جاتی ہے اور وہ قانونی طریقے سے وہاں کام کرنے والوں کے مقابلے میں کم اجرت پر کام کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔

Back to top button