پی ٹی آئی کا خیبرپختونخوااسمبلی ہفتے کو تحلیل کرنے کا فیصلہ

تحریک انصاف انصاف نے پنجاب اسمبلی کی تحلیل کے بعد خیبر پختونخوا اسمبلی ہفتے کو تحلیل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

باخبر ذرائع کے مطابق عمران خان نے خیبرپختونخوا کی قیادت کا اجلاس جمعہ کو طلب کرلیا، تحریک انصاف نے خیبرپختونخوا اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری ہفتہ کو گورنر کو بھجوانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا تھا  عمران خان نے خیبرپختونخوا اسمبلی تحلیل کرنے کیلئے پارٹی کی صوبائی قیادت کا اجلاس جمعہ کو طلب کرلیا، جس میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان اور کابینہ ارکان شرکت کریں گے، پی ٹی آئی نے خیبرپختونخوا اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری ہفتہ کو گورنر کو بھجوانے کا فیصلہ کرلیا۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کا کہنا ہے کہ پنجاب اسمبلی کی تحلیل کے بعد کے پی اسمبلی تحلیل ہوگی، پنجاب اسمبلی کی تحلیل کا نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد ایڈوائس گورنر کو بھجوادوں گا۔

دوسری جانب خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات بیرسٹر سیف نے کہا ہے کہ پنجاب اسمبلی کی تحلیل کے بعد خیبرپختونخوا اسمبلی کی تحلیل کیلیے گورنر کو سمری ارسال کردی جائے گی۔

انہوں نے بتایا کہ خیبرپختونخوا اسمبلی کوتحلیل کرنے کے لیے ایڈوائس دودن بعد گورنرکوارسال کی جائے گی۔ پنجاب کی اسمبلی 48 گھنٹوں میں ٹوٹے گی جس کے بعد وزیراعلی خیبرپختونخوا محمود خان  گورنرکو اسمبلی تحلیل کے لیے ایڈوائس ارسال کریں گے، خیبرپختونخوا میں کوئی مسئلہ نہیں، ہم پنجاب اسمبلی کی تحلیل کا انتظارکریں گے، کے پی اسمبلی تحلیل ہونے پر اپوزیشن لیڈراکرم خان درانی کو نگران وزیراعلی کے تقررکے لیے خط بھی لکھا جائے گا،اب امپورٹڈ حکومت کے پاس نئے انتخابات کرانے کے سواکوئی چارہ نہیں ہے۔

ادھر گورنر خیبرپختونخوا حاجی غلام علی نے کہا کہ ’میں آج بھی اپنے مؤقف پر قائم ہوں کہ اسمبلیاں نہیں ٹوٹنی چاہیں، پنجاب اسمبلی کو تحلیل کرنے بارے خبروں کی اطلاع ملی، یہ عوام اور ملک دونوں کے ساتھ زیادتی ہوگی،  ہمیں ملک کے حالات کو دیکھتے ہوئے صبر و تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کرنا چاہیے، یہ انا پرستی کسی طور بھی عوامی مفاد میں نہیں ہے‘۔

اُن کا کہنا تھا کہ وزیراعلی پنجاب نے اسمبلی تحلیل کے لیے آئینی عمل پورا کرنے کے لیے سفارش بھجوائی، عوامی اور ملکی مفاد کو عزیز رکھنے والے کبھی ایسے فیصلے نہیں کرتے، میرا ذاتی مشورہ تو اسمبلیاں تحلیل نہ کرنے کا ہے، لیکن اگر خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ بھی یہ حق استعمال کرتے ہیں تو جو ہوگا وہ آئینی طور پر ہوگا۔

Back to top button