پی ٹی آئی کو برباد کرنے والے ’’رانگ نمبر‘‘ کون؟

عمران خان کے پابند سلاسل ہونے کے بعد تحریک انصاف کو داخلی انتشار کا سامنا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف میں مرکزی راہنماؤں کی سطح پر ایک دوسرے کے خلاف الزامات اور بیانات کا سلسلہ منظرعام پر بھی آنا شروع ہوگیا ہے۔ اس صورتحال سے تحریک انصاف الیکشن سے پہلے ہی مزید ٹوٹ پھوٹ کا  شکار ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ ایک طرف شیر افضل مروت نے صدر عارف علوی کیخلاف محاذ کھول رکھا ہے دوسری جانب پی ٹی آئی قیادت اہنے ہی مرکزی رہنما شیر افضل کو آڑے ہاتھوں لے رہی ہے جبکہ نام نہاد پی ٹی آئی چئیرمین بیرسٹر گوہر خان صرف اتفاق اور اتحاد سے آگے بڑھنے اور باہمی اختلافات کو نہ اچھالنے کی اپیلیں کرتے ہی نظر آ رہے ہیں۔

مبصرین کے مطابق بانی چیئرمین عمران خان کی طویل گرفتاری اور تحریک انصاف کی انتخابی نتائج کے حوالے سے ناامیدی اور مایوسی کی وجہ سے عمرانڈو رہنماؤں کے باہمی اختلافات میں شدت آ رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سپریم کورٹ سے پارٹی کا انتخابی نشان بلا واپس نہ ملنے کا دھچکہ، الیکشن کمیشن کی جانب سے کسی اور پارٹی کے ٹکٹ سے الیکشن میں حصہ لینے پر پابندی اور سینئر رہنماؤں کے درمیان اختلافات کی خبروں سمیت مستقبل قریب میں عمران خان کی رہائی کی کوئی امید نظر آتی ہے اور نہ انتخابات میں کوئی ایسی کامیابی جس سے وہ پارلیمانی ایوانوں میں کوئی کردار ادا کرسکیں گے۔ اس صورتحال کی وجہ سے نہ صرف پارٹی سینئیر قیادت باہمی دست و گریبان ہے بلکہ ایک دوسرے پر الزامات بھی عائد کر رہی ہے۔

خیال رہے کہ جیل سے باہر لیڈر شپ سے اختلافات کے بعد شیر افضل مروت نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے انتخابی مہم ختم کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن چند گھنٹوں میں ہی اپنا فیصلہ واپس لے لیا۔ انھون نے انتخابی مہم ختم کرنے کی وجہ حامد خان اور مرکزی ترجمان رؤف حسن کے بیانات کو قرار دیا تھا اور شیر افضل نے دونوں رہنماؤں کو پی ٹی آئی کے ’’ذہنی بیمار‘‘ اور رانگ نمبر قرار دیا تھا۔

خیال رہے کہ پی ٹی آئی میں’’رانگ نمبر‘‘ کی اصطلاح ان لوگوں کیلئے استعمال کی جارہی ہے جن کے بارے میں یہ تاثر دینا مقصود ہوتا ہے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے لوگ ہیں اور ان کیلئے مخبری کرتے ہیں۔

دوسری جانب مبصرین کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کو داخلی لڑائیوں کا سامنا ہے اور ان میں ایک دوسرے ہر اقرباپروری اورٹکٹوں کی تقسیم میں مالی کرپشن جیسے الزمات لگائے جارہے ہیں۔ علیمہ خان کہتی ہیں کہ پنجاب کےلیے عمران خان کا فوکل پرسن عمیر نیازی ہیں اور وہی اس فہرست کے ذمہ دار ہیں جو عمران خان نے ذاتی طور پر امیدواروں کےلیے منظور کی ہے۔ دوسری جانب پی ٹی آئی کے سینئر رہنماؤں کاکہنا ہے کہ 4 کروڑ روپے میں ٹکٹ بیچاجارہاہے،عمیر نیازی اور علیمہ خان نے تمام فیصلے کیے ہیں اور پنجاب کی قیادت کو مکمل طور پر نظرانداز اور سائیڈ لائن کر دیا ہے جس کے بعد یہ خطرہ پیدا ہوگیا ہے کہ وکلا کی قیادت میں چلنے والی پارٹی مزید مشکلات میں دھنس سکتی ہے۔

کم از کم تین سینئر پی ٹی آئی رہنما ؤں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ عمیرنیازی اور علیمہ خان ٹکٹوں کی تقسیم کے حوالے سے فیصلے کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام بڑے فیصلے عمیر نیازی اور علیمہ خان نے کیے جبکہ سابق خاتون اول بشریٰ بی بی جو باقاعدگی کے ساتھ اڈیالہ جیل میں اپنے شوہر عمران خان کے ساتھ ملاقاتیں کرتی ہیں ان کا ٹکٹوں کی تقسیم میں کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ پی ٹی آئی کے اندر کے معتبر ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ پنجاب اور کے پی میں بہت سے سینئر رہنماؤں کو ٹکٹ دیتے ہوئے مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ وہ جنہیں نظر انداز کیا گیا یا بائی پاس کیا گیا ان میں پارٹی کے سینئر رہنماعمر ایوب خان، حماد اظہر ، رائے حسن، کنول شوزل اور دیگر کئی شامل ہیں۔ عمران خان کی بہن علیمہ خان جو کہ باقاعدگی کے ساتھ اپنے بھائی سے جیل میں ملاقاتیں کرتی رہی ہیں انہوں نے ان الزامات کو مسترد کیا ہے جو پی ٹی آئی کے رہنماؤں نےعمیرنیازی پرلگائے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ’’ عمیرنیاز ی پنجاب کےلیے اور گوہر علی خان کے پی ، بلوچستان اور سندھ کےلیے فوکل پرسن ہیں۔ ‘‘علیمہ خان نے کہا کہ ’’ عمیرنیازی عمران خان کے پوائنٹ پرسن ہیں‘‘ وہ ایسے شخص ہیں جو فیصلوں کےلیے عمران خان کے پاس فہرستیں لے جاتے ہیں اور ہم عمران خان کے اہل خانہ ہیں اور بہت سے فیصلوں کے شاہد ہیں۔ عمران خان نے امیدواروں کی فہرستوں کی منظوری دی ہے یا ان پر اپنا تبصرہ لکھا ہے۔ چنانچہ وہ لوگ جو یہ الزامات لگارہے ہیں وہ بنیادی طور پر عمران خان کی سلیکشن کو چیلنج کر رہے ہیں۔ کسی شخص کو یہ سمجھنے میں زیادہ مشکل نہیں ہونی چاہیے کہ معترضین ایسا کیوں کر رہے ہیں۔علیمہ خان نے کہا کہ عمیرنیازی اور گوہر خان عمران خان کے دو معتمد افراد ہیں جن کے بیرونی رابطے ہیں’’ یہی وجہ ہے کہ ہم ان پربھروسہ کرتے ہیں۔ اس کے باوجود ہم یہ یقینی بناتے ہیں کہ ان رہنما خطوط پر عملدرآمد کریں۔ ہم اپنی زندگیوں کے ساتھ ان کی حفاظت کریں گے اور کسی کو ان کی بیرونی دنیا کے ساتھ محدود رابطوں کا ایڈوانٹیج نہیں لینے دینگے۔ پی ٹی آئی کے جہاندیدرہ رہنماؤں کاکہنا یہ ہے کہ پی ٹی آئی چند موقع پرست اور ضرورت سے زیادہ مشتاق وکلا کے حوالے کر دی گئی ہے جن کا پی ٹی آئی کے ساتھ تعلق کی کوئی تاریخ نہیں ہے اور وہ اچانک اوپر آگئے ہیں۔ جو پی ٹی آئی کو برباد کر کے ہی دم لینگے۔

Back to top button