پی ڈی ایم جلسہ: سٹیڈیم جانے والے تمام راستے رکاوٹیں لگا کر بند

اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) قیادت نے کل ملتان میں ہر صورت جلسہ کرنے کا اعلان کردیا تو دوسری طرف انتظامیہ نے بھی کارروائیاں تیز کردی ہیں اور تازہ دم دستے جلسہ گاہ اور اطراف میں تعینات کیے گئے ہیں۔
اپوزیشن اتحاد کی جانب سے کل ہر صورت قلعہ کہنہ قاسم باغ میں جلسہ کرنے کا اعلان کیا گیا ہے اور کارکنوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ رکاوٹیں توڑ کر جلسہ گاہ پہنچیں۔اپوزیشن اتحاد کے اعلان کے بعد انتظامیہ بھی ایکشن میں آگئی ہے اور قلعہ کہنہ قاسم باغ کے ساتھ ملحقہ چوک گھنٹہ گھر کے اطراف پولیس کی بھاری نفری تعینات کرکے رکاوٹیں کھڑی کردی گئیں ہیں۔
ملتان شہر کی سڑکوں پر ٹرکوں اور ٹرالیوں سے رکاوٹیں کھڑی کردی گئيں، قلعہ کہنہ قاسم اسٹیڈیم جانے والے سارے راستے بند کردیے ہیں۔اس کے علاوہ گھنٹہ گھر چوک، لوہاری گیٹ، کچہری روڈ، حسین آگاہی روڈ، دولت گیٹ روڈ، حضوری باغ روڈ اور ابدالی روڈ پر کنٹینر رکھ کر رکاوٹیں کھڑی کردی گئيں۔اس کے علاوہ انتظامیہ نے مختلف اضلاع سے پنجاب پولیس کی اضافی نفری کو طلب کرلیا ہے جبکہ آنسو گیس کے شیل اور ربڑ کی گولیاں کارکنوں کو منتشر کرنے کیلئے منگوالی گئیں ہیں۔
اسٹیڈیم کو کارکنان سے خالی کراکے ایک بارپھر سے تالے لگادیے ہیں اور اسٹیڈیم سے سیاسی رہنماؤں کے پینافلیکس اوربینرزبھی اتاردیےگئے ہیں۔
ملتان کے تھانہ لوہاری گیٹ پولیس نے اسٹیڈیم پر حملہ اور قبضہ کرنے پر 80 افراد نامزد اور 1800 نامعلوم افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کر ڈالی ہے۔جمعیت علمائے اسلام کے عبدالغفور حیدری، سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے چاروں بیٹوں، جاوید ہاشمی کے داماد زاہد بہار ہاشمی، عبدالرحمان کانجو نامزد ملزمان کی فہرست میں شامل ہیں۔علی قاسم گیلانی، زاہد بہار ہاشمی اور سعد کانجو سمیت 70 افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے جبکہ علی قاسم گیلانی کو ایک ماہ کیلئے جیل بھیج دیاگیا۔اس کے علاوہ صوبے کے مختلف شہروں میں بھی اپوزیشن جماعتوں کے کارکنوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔
مسلم لیگ ن پنجاب کے صدر رانا ثناء اللہ کی قیادت میں گھنٹہ گھر چوک ملتان سے کچھ فاصلے تک ریلی نکالی گئی۔اس دوران کارکنوں اور پولیس میں تصادم بھی ہواتاہم کارکن پر امن طور پر منتشر ہوگئے۔مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب نے دعویٰ کیاکہ پولیس نے ریلی میں شریک 20 کے قریب کارکنوں کو حراست میں لیا ہے۔رانا ثناء اللہ کاکہنا تھاکہ حکومت تشدد کا راستہ اختیار کررہی ہے لیکن کل ہر صورت جلسہ ہوگا۔
خیال رہے کہ اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی جانب سے ملتان میں 30 نومبر کو جلسہ منعقد کرنے کا اعلان کیا گیا ہے تاہم حکومت کی جانب سے جلسے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔گزشتہ روز اپوزیشن اتحاد میں شامل جماعتوں کے کارکن حکومتی رکاوٹیں توڑ کر جلسہ گاہ پہنچے تھے اور اسٹیڈیم میں ڈیرے ڈال ڈیے تھے۔پولیس نے اسٹیڈیم کے تالے توڑنے پر پی ڈی ایم کے 70 نامزد اور 300 نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا جب کہ جلسے کیلئے کیٹرنگ کا سامان دینے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا اور متعدد گوداموں کو بھی سیل کرکے مقدمات درج کیے تھے۔آدھی رات کو کہنہ قاسم باغ اسٹیڈیم میں ڈھول کی تھاپ پر رقص کرتے، ہاتھ سینکتے اور گپیں لڑاتے پی ڈی ایم کارکنان، کنٹینر ہٹانے کیلئے کرین لے کر پہنچے تو اسٹیڈیم میدان جنگ میں تبدیل ہو گیا۔پولیس نے کارکنان پر لاٹھی چارج کیا اور سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے بیٹے علی قاسم گیلانی سمیت کئی کارکنوں کو گرفتار کر لیا جب کہ کارکنان کے اسٹیڈیم سے چلے جانے کے بعد کیٹرنگ والے شامیانے، کرسیاں اور دیگر سامان واپس لے گئے۔
