چوہدری شجاعت کے اتحادی حکومت سے اختلافات ہو گئے


عمران خان سے وزارت اعلیٰ لینے کے لالچ میں سیاسی طور پر یتیم ہو جانے والے اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی نے پیش گوئی کی ہے کہ شریفوں کی حکومت کا دھڑن تختہ ہونے جارہا ہے اور شہباز سے پہلے حمزہ حکومت کا خاتمہ ہوگا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ چوہدری شجاعت کے اتحادی حکومت سے اختلافات پیدا ہوچکے ہیں اور جلد سالک حسین اور طارق بشیرچیمہ واپس لوٹ آئیں گے۔

ایک ٹی وی انٹرویو میں چودھری پرویز الہیٰ نے کہا کہ شریفوں کی وفاق میں گیم ختم ہے، انہیں سمجھ ہی نہیں آ رہی کہ کرنا کیا یے۔ انکا کہنا تھا کہ ن لیگ کی ٹکٹ اب فلم کی ٹکٹ بن گئی اور فلم بھی فیل ہے۔ اب صرف عمران کی اہمیت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں ن کو ویسے ہی سرپرائز دیں گے جیسے پہلے دئیے تھے۔ پرویز الہیٰ نے پیشگوئی کی کہ دیکھ لینا وفاق میں ان کی حکومت ایک ماہ سے زیادہ نہیں رہے گی۔ قومی اسمبلی الیکشن کے ہوں گے لیکن صوبوں کی اسمبلیاں برقرار رہیں گے کیونکہ صوبائی اسمبلیوں پر زرداری اور ہمارا مفاد ایک ہے۔ ایک سوال پر پرویز الہی نے کہا کہ اللہ نے ان کو بے نقاب کرنا تھا، اس لیے شریفوں کی اصلیت پھر سامنے آگئی۔ جب یہ مشرف سے لڑ کر بھاگے تھے، تب بھی ہمارا شریفوں سے اچھا برتاؤ رہا۔ رہنما ق لیگ نے کہا کہ شریفوں نے تو 2 بار قرآن پر قسم دے کر وزارت اعلیٰ کا وعدہ پورا نہیں کیا تھا۔ 85 میں شہبازشریف خود قرآن پاک لیکر آیا پھر 97 میں ان کے والد نے وعدہ کیا۔ نوازشریف کو جب پرویز مشرف نے پکڑا تو میاں شریف کا ایک خط مجھے دیا گیا۔ مریم ، کلثوم بی بی ، حمزہ شہباز خط لے کر آئے جس میں میاں شریف نے معافی مانگی تھی۔ اسی لئے جب شریف اوور ہوئے تو میں نے کہا کہ بک بک بند کرو ورنہ دکھاؤں وہ خط جو آج بھی میرے پاس ہے۔

یاد رہے کہ پرویز الٰہی نے نواز لیگ اور پیپلزپارٹی کی جانب سے پنجاب کی وزارت اعلی کی آفر قبول کرنے کے بعد عمران خان سے ہاتھ ملا لیا تھا۔ اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے پرویز الٰہی نے دعویٰ کیا کہ انہیں کہیں سے معلوم ہوا تھا کہ نواز شریف نے ہمارے بارے میں کہا تھا کہ ان کو وزارت اعلیٰ صرف سنگھائیں گے لیکن دیں گے نہیں۔ عمران خان واحد آدمی ہے جس نے مجھے کہا کہ آپ وزیراعلیٰ بنیں اور پھر اپنی بات پر قائم رہا۔ میرے مخالفین کو اس بات پر کافی تکلیف ہوئی لیکن خان صاحب نے کہا کہ میں نے کمٹمنٹ دے دی ہے اور اب اس پر قائم ہوں۔

تاہم سیاسی تجزیہ کار یاد دلاتے ہیں کہ عمران خان پرویز الہی سے کیا گیا وعدہ پورا کرنے میں ناکام رہے تھے اور پنجاب اسمبلی میں ان کے 25 ساتھیوں نے حمزہ شہباز کو ووٹ دے کر وزیر اعلی بنا دیا تھا۔

پرویزالٰہی کی جانب سے چوہدری شجاعت کو اعتماد میں لیے بغیر عمران خان سے ہاتھ ملانے پر گجرات کے چوہدری خاندان میں بھی رخنہ پڑ چکا ہے، اسی لیے شجاعت کے بیٹے سالک حسین نے شہباز شریف کو وزارت عظمیٰ کے لیے ووٹ دیا تھا۔ تاہم پرویز الہی کا دعوی ہے کہ چودھری شجاعت میرے ساتھ ہیں اور خاندان میں کوئی اختلاف نہیں۔ انکا کہنا تھا کہ ن لیگ والے اس وقت جلتے توے پر لیٹے ہوئے ہیں۔ شہباز نے سالک کو وفاقی وزارت تو دی مگر کوئی محکمہ نہ دیا۔ اس پر شجاعت صاحب نے کہا وزارت واپس لے لیں۔ شجاعت صاحب نے کہا ہم نے تمہیں ووٹ دے دیا تو اب بچوں کو خراب تو نہ کرو۔ اس کے بعد اسحاق ڈار نے چودھری شجاعت کو فون پر کہا کہ میں سالک کو بہت اچھا دفتر بنا کر دوں گا۔ شجاعت نے جواب میں کہا کیا دفتر ایون فیلڈ میں بنا کر دو گے کیونکہ تم نے تو واپس ہی نہیں آنا۔

پرویز الٰہی نے مزید کہا کہ میں نے سالک اور طارق بشیر چیمہ کو شہباز کو ووٹ دینے کی بالکل اجازت نہیں دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ چیمہ کو عمران خان پر کوئی غصہ تھا لہذا اس نے اسکا بدلہ لیا۔ انہون نے کہا کہ سالک حسین اور طارق بشیر چیمہ جلد ان کے پاس واپس آ جائیں گے اور شریفوں کا دھڑن تختہ کرکے آئیں گے۔

تاہم پرویز الٰہی شاید بھول گئے کہ قاف لیگ کے مرکزی سربراہ چودھری شجاعت حسین نے خود ایک ویڈیو پیغام میں کہا تھا کہ سالک اور طارق بشیر چیمہ کو شہباز شریف کی حمایت کرنے کی اجازت میں نے دی تھی اور ہم اتحادی حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں۔

Back to top button