اسٹیبلشمنٹ عمران کو نکالنے پر پچھتا رہی ہے، کامران خان


پچھلے تین ماہ میں بار بار اپنا موقف تبدیل کرنے والے معروف صحافی اور تجزیہ کار کامران خان نے کہا ہے کہ عمران خان کو اقتدار سے بے دخل کرنے والوں سے جو غلطی سرزرد ہوئی اسے فوری درست کرنے کا فیصلہ ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کو اپنا اقتدار برقرار رکھنے کے لئے اسٹیبلشمنٹ کی حمایت درکار ہے لیکن اسٹیبلشمنٹ پہلے ہی عمران خان کو نکالنے کے فیصلے پر پچھتا رہی ہے، اس لیے وہ شہباز شریف کا ساتھ نہیں دے گی۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر کنفیوژن کا شکار کامران خان کا کہنا تھا کہ آصف زرداری اور شہباز شریف کی حکومت کا کام اتر گیا ہے یعنی اب حکومت فارغ ہونے والی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میری اطلاعات کے مطابق مارچ اور اپریل میں سرزرد ہونے والی غلطیاں اب فوری طور پر درست کرنے کا فیصلہ ہوچکا ہے۔ ایجنسیوں کے قریب سمجھے جانے والے کامران خان کا کہنا تھا کہ ایوان اقتدار سے رونے پیٹنے کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔ سپریم کورٹ نے از خود نوٹس لے کر زرداری اور شہباز حکومت کی جانب سے منی لانڈرنگ کیسز، کرپشن، اور جعلی بینک اکاؤنٹس کیسز تہس نہس کرنے کا مشن ناکام بنا دیا ہے۔ اس سے پہلے سپریم کورٹ منحرف اراکین سے متعلق کیس میں پنجاب کی حمزہ شہباز حکومت کا مستقبل پہلے ہی تاریک کر چکی ہے۔

کامران خان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کی کلیدی شخصیات سینکڑوں ارب روپوں کے منی لانڈرنگ، کرپشن، جعلی بینک اکاؤنٹس اور ٹی ٹی اسکینڈلز جیسے کیسز میں سر سے پاؤں تک تک ڈوبی ہوئی ہیں۔ اگر آج سپریم کورٹ از خود نوٹس کے ذریعے ان کیسز کو ٹھکانے لگانے کی حکومتی سازش کا قلع قمع نہ کرتی تو پھر ایک بھر پور عوامی انقلاب آ جاتا۔
اپنی ایک اور ٹویٹ میں کامران خان نے لکھا کہ بھائی اگر فیصلے کرنے کی ہمت نہیں تھی یا معیشت کی سمجھ نہیں تھی تو اقتدار ہڑپ کرنا کیا بہت ضروری تھا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کو اقتدار میں آئے ہوئے پانچ ہفتے بھی نہیں گزرے اور معیشت کا بیڑہ غرق ہو چکا ہے ہے۔ آپ سے یہ فیصلہ بھی نہیں ہو رہا کہ نواز شریف پاکستان لوٹ آئیں یا لندن میں ہی رہیں۔ خدارا الیکشن کروا دیں، عوام سے فیصلہ لے لیں۔ یاد رہے کہ ناقدین کی جانب سے اس تنقید کا جواب دیتے ہوئے مریم نواز پہلے ہی کہہ چکی ہیں عمران نے اپنے چار سالہ دور حکومت میں معاشی محاذ پر جو تباہی مچائی اس کو درست کرنا چار ہفتوں میں ممکن نہیں ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ عمران کے اقتدار کے آخری دنوں میں کامران خان سابق وزیر اعظم کو پاکستانی تاریخ کا ناکام ترین وزیراعظم قرار دیتے ہوئے تھکتے نہیں تھے۔

لیکن حکومت کی تبدیلی کے بعد جیسے ہی اسٹیبلشمنٹ نے عمران خان کی جانب سے فوری الیکشن کے مطالبے کی حمایت شروع کی، کامران خان نے بھی اپنا قبلہ بدل لیا اور وہ خان صاحب کے ساتھ کھڑے ہو گئے۔ اب ان کا کہنا ہے کہ عمران کی سیاسی قوت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان کے خلاف 12 سیاسی جماعتیں بشمول پیپلز پارٹی، نواز لیگ اور جمیت علماء اسلام متحد ہیں لیکن وہ پھر بھی فوری الیکشن کروا کر خان کا مقابلہ کرنے سے خوفزدہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کو اپنا اقتدار برقرار رکھنے کے لئے فوجی اسٹیبلشمنٹ کی حمایت درکار ہے لیکن اسٹیبلشمنٹ پہلے ہی عمران خان کو نکالنے کے فیصلے پر پچھتا رہی ہے، اس لیے وہ شہباز شریف کا ساتھ نہیں دے گی۔

Back to top button