چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی کرسی خطرے میں

چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے تحریک انصاف کی جانب سے استعفے کا مطالبہ قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے اور اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا چیلنج دے دیا ہے۔ لیکن ان کا اپنے عہدے پر برقرار رہنا اس لئے مشکل نظر آتا ہے کہ حکومتی جماعتیں بھی پی ٹی آئی کے ساتھ مل کر ان کو برخاست کرنے کا منصوبہ تیار کر رہی ہیں۔
پی ٹی آئی کے اندرونی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ عمران خان کے ایما پر انکی جماعت نے صادق سنجرانی پر مستعفی ہونے کے لیے دبائو بڑھا دیا ہے۔ لیکن چیئرمین سینیٹ کا کہنا ہے کہ وہ آئینی طریقے سے انہیں عہدے سے ہٹانے کیلئے تحریک عدم اعتماد لے آئیں، وہ اس کا مقابلہ کریں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ چیئرمین سینیٹ پر پی ٹی آئی کے تحفظات اس وقت شروع ہوئے جب اعظم سواتی کو گرفتار کیا گیا اور صادق سنجرانی پر تحریک انصاف نے دبائو ڈالا کہ وہ اعظم سواتی کے پروڈکشن آرڈر جاری کریں۔ لیکن صادق سنجرانی اس وقت اسلام آباد میں موجود نہ تھے، جس پر پی ٹی آئی کے سینیٹر نے ان پر الزام لگایا کہ وہ جانب داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے جان بوجھ کر کراچی چلے گئے تھے۔ جب کہ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اصل حقائق اس کے بھی برعکس آرمی ایکٹ میں تبدیلی کے تناظر میں ہیں۔
ذرائع کے مطابق چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی جب صدر عارف علوی سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے بھی سنجرانی پر مستعفی ہونے کے لیے دبائو ڈالا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس بات پر صادق سنجرانی نے انہیں کہا کہ وہ ایک آئینی اور باوقار ادارے کے چیئرمین ہیں۔ وہ کسی کے کہنے یا خواہش پر استعفیٰ نہیں دے سکتے۔ اگر انہیں ہٹانا ہے تو آئین میں اس کا طریقہ موجود ہے۔ جس پر صدر نے انہیں یاد دلایا کہ وہ انہی کی جماعت کی سپورٹ سے چیئرمین منتخب ہوئے ہیں۔ اس پر سنجرانی نے جواب دیا کہ وہ تحریک انصاف کی سپورٹ سے نہیں، بلکہ ان کی سپورٹ سے چیئرمین سینیٹ منتخب ہوئے جن کی منشا پر عمران خان اور صدر منتخب ہوئے۔ اس بات پر عارف علوی وہاں سے اٹھ کر چلے گئے۔
یاد رہے کہ جولائی 2019ء میں صادق سنجرانی کے خلاف متحدہ اپوزیشن نے عدم اعتماد کی تحریک جمع کرائی تھی۔ اور زور دیا تھا کہ صادق سنجرانی مستعفی ہو جائیں کیونکہ ان کے پاس اکثریت نہیں ہے۔ اس وقت پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکریٹری جنرل سید نیئر حسین بخاری نے کہا تھا کہ سینیٹ میں اپوزیشن کو عددی اکثریت حاصل ہے۔ اس لیے لازم ہے کہ چیئرمین سینیٹ مستعفی ہو جائیں۔ لیکن صادق سنجرانی اس وقت بھی ڈٹے رہے اور آخر کار وہ پیپلز پارٹی کے امیدوار سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے مقابلے میں تحریک عدم اعتماد سے پر اعتماد طریقے سے فتح یاب ہوئے۔ اب دوبارہ ان پر مستعفی ہونے کا دبائو ہے۔
