صدارتی آرڈیننس سے چیئرمین نیب کی مدت ملازمت میں توسیع

وزیراعظم عمران خان نے نیب آرڈیننس میں ترمیم کے مسودے کی منظوری دے دی ، وزیراعظم کی سربراہی میں قانونی ٹیم کے اجلاس کے دوران وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم ، اٹارنی جنرل خالد جاوید خان، وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری، وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر، مشیر برائے پارلیمانی امور بابر اعوان شریک ہوئے۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے نیب آرڈیننس میں ترمیم کے مسودے کی منظوری دیدی، سمری کی سرکولیشن کے ذریعے کابینہ سے منظوری لی جائے گی ، آرڈیننس میں نئے چیئرمین کی تعیناتی تک موجودہ چیئرمین نیب کو برقرار رکھنے کی شق شامل ہے۔

واضح رہے کہ حکومت نے چیئرمین نیب سے متعلق آرڈیننس بدھ تک لانے کا اعلان کر دیا ہے ، وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری کی زیر صدارت کابینہ کے اجلاس میں ملک کی سیاسی ، معاشی اور اقتصادی صورتحال پر غور کیا گیا۔

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے اسلام آباد میں‌ کابینہ اجلاس کے بعد صحافیوں‌ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پنڈورا پیپرز کے معاملے پر بھی کابینہ کو بریفنگ دی گئی ، پنڈورا پیپرز میں 700 سے زائد پاکستانیوں کے نام شامل ہیں جن کے نام آئے ہیں ان کی تین کیٹیگریز بنائی گئی ہیں ، ایک کیٹیگری وہ ہے جس نے آف شور کمپنی ظاہر کی ہے، دوسری کیٹیگری وہ ہے جس نے کمپنی بنائی اور منی لانڈرنگ کی، تیسری کیٹیگری وہ ہے جس نے آف شور کمپنی ظاہر ہی نہیں کی۔ پنڈورا پیپرز پر وزیراعظم انسپکشن سیل بنایا جائے گا جو جائزہ لے گا کہ کس کی آف شور کمپنی قانونی اور کس کی غیر قانونی ہے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ چیئرمین نیب سے متعلق آرڈیننس مکمل ہو گیا، یہ آرڈیننس بدھ کو لے آئیں گے، اپوزیشن کے پاس ایسا کوئی قائد حزب اختلاف ہی نہیں ہے جو کرپشن سے پاک ہو، شہباز شریف خود نیب کے ملزم ہیں، ان سے پوچھ کر اگلا چیئرمین نیب نہیں لگایا جاسکتا، اپوزیشن کو اپنا لیڈر تبدیل کرنا چاہیے تاکہ چیئرمین نیب پر مشاورت کرسکیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ مردم شماری کرانے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے گا اور نادرا سے مدد لی جائے گی، مردم شماری مکمل ہونے کے بعد نئی حلقہ بندیاں ہوں گی۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ چاہتے ہیں کہ آئندہ انتخابات صاف اور شفاف ہوں لیکن انتخابی اصلاحات پراپوزیشن موثر جواب نہیں دے رہی، اپوزیشن جلسوں میں رونے دھونے کے بجائے پارلیمنٹ میں کردار ادا کرے، انہیں حکومت کی انتخابی اصلاحات پسند نہیں تو اپنی لے آئیں۔

نیشنل لائسنسنگ ایگزامینیشن (این ایل ای) کے حوالے سے فواد چوہدری نے کہا کہ ہم کبھی نہیں چاہیں گے کہ ہمارے ڈاکٹرز بین الاقوامی معیار سے کم ہوں، تعلیمی میدان میں ہماری حالات یہ ہوگئی ہے کہ کچھ ممالک نے پاکستان کی ڈگری ماننے سے ہی انکار کردیا ہے، عالمی معیار کو یقینی بنانے کیلئے میڈیکل طلبا کیلئے ٹیسٹ کا نیا نظام متعارف کرایا گیا ہے، یہ نظام امریکا سمیت دنیا کے بہت سے ممالک میں کامیابی سے رائج ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ہمارے پاس بجلی وافر مقدار میں موجود ہے، ہم چاہتے ہیں کہ بجلی کی فروخت میں اضافہ ہو اور گیس کی بچت ہو وفاقی کابینہ نے بجلی کا سیزنل پیکیج منظور کر لیا ہے، گیس کا کم استعمال کرنے والے صارفین کو بجلی 7 روپے فی یونٹ سستی دیں گے، تین رکنی کمیٹی بجلی کی قیمتوں کا جائزہ لے گی۔

Back to top button