چیئرمین نیب کیخلاف لارجر بینچ تشکیل

قومی احتساب بیورو(نیب) کے چیئرمین جسٹس(ر) جاوید اقبال کی تعیناتی اور نیب کی کارروائیاں کالعدم قرار دینے کے لیے دائر درخواست پر لاہور ہائی کورٹ کا فل بینچ تشکیل دے دیا گیا۔ فل بینچ جسٹس قاسم خان ، جسٹس ملک شہزاد اور جسٹس اسجد جاوید گھرال پر مشتمل ہے جو چیئرمین نیب کی تقرری اور نیب کی کارروائیوں کے خلاف درخواست کی سماعت کرے گا۔
ایڈوکیٹ اے کے ڈوگر نے لاہور ہائی کورٹ میں چیئرمین نیب کی تعیناتی کے خلاف درخواست دائر کی تھی ، درخواست میں انہوں نے نیب کی کارروائیوں کو بھی چیلنج کیا تھا اور کہا تھا کہ نیب آرڈیننس اور چیئرمین نیب کی تقرری آئین و قانون کے مطابق نہیں۔
درخواست گزار کا مزید کہنا تھا کہ نیب آرڈیننس میں اس بات کا تعین کیا گیا ہے کہ صدر مملکت نیب کے چیئرمین کو قومی اسمبلی کے قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف کی مشاورت سے تعینات کریں گے لیکن یہ کہیں نہیں لکھا کہ بیورو کی تشکیل کیسے ہوگی۔
اے کے ڈوگر ایڈوکیٹ نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ موجودہ قومی احتساب بیورو کی تشکیل اور اس کی کارروائیوں کو غیر کالعدم قرار دیا جائے۔درخواست گزار نے یہ بھی کہا تھا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کی سزا بھی نیب قوانین کے تحت ہوئی چنانچہ نواز شریف کی سزا ختم کر کے ان کی رہائی کا حکم بھی دیا جائے۔
جس پر جسٹس قاسم خان نے فیصلہ دیا تھا کہ نواز شریف کی اپیلیں اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہیں لہٰذا لاہور ہائی کورٹ نواز شریف کی حد تک اس درخواست کو مسترد کرتی ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ چونکہ چیئرمین نیب کی تقرری اور نیب کارروائیوں کے خلاف درخواست کا معاملہ اہم نوعیت کا ہے اس لیے اس پر فل بینچ تشکیل دینے کی سفارش کی جاتی ہے۔
اے کے ڈوگر نے مذکورہ درخواست مارچ 2019 کے اواخر میں دائر کی تھی جس میں نیب کو فریق بنایا گیا تھا بعدازاں 18 ستمبر کو اس اپیل پر لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس قاسم علی خان نے فل بینچ بنانے کی سفارش کی تھی چنانچہ آج (بروز جمعرات) لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سردار شمیم خان نے اس اہم معاملے کی سماعت کے لیے فل بینچ تشکیل دے دیا۔
