چیف الیکشن کمشنر کو عہدے سے ہٹوانا ممکن کیوں نہیں؟


الیکشن کمیشن کی جانب سے فارن فنڈنگ کیس کا محفوظ فیصلہ سامنے آنے سے پہلے پی ٹی آئی نے سکندر سلطان راجہ کی برطرفی کے لیے سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کردیا ہے۔ تاہم آئینی اور قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ریفرنس خارج ہو جائے گا اور چیف الیکشن کمشنر کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ اس سے پہلے 3 اگست کو بھی تحریک انصاف نے سکندر سلطان کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کرتے ہوئے انہیں عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا۔ لیکن پھر اچانک ریفرنس واپس لیتے ہوئے پی ٹی آئی ترجمان فواد چودھری نے کہا تھا کہ اس میں مزید نکات شامل کیے جائیں گے اور دوبارہ دائر کیا جائے گا۔ نئے ریفرنس میں پی ٹی آئی کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ جانب دار ہیں، اور اسی جانب داری کے باعث سکندر سلطان راجہ عہدے کے اہل نہیں ہیں۔ سپریم جوڈیشل کونسل سے استدعا کی گئی ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کو عہدے سے ہٹایا جائے۔

لیکن آئینی اور قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کے خلاف تحریک انصاف کی جانب سے دائر کردہ ریفرنس کے باوجود انہیں ہٹانا اس لیے ممکن نہیں کہ چیف الیکشن کمشنر کو ہٹانے کا طریقہ کار بھی وہی ہے جو کسی جج کو ہٹانے کا ہوتا ہے اور قانون کے مطابق کسی جج کے خلاف اسکے کسی فیصلے کی بنیاد پر کوئی کارروائی نہیں کی جا سکتی۔ لہذا چیف الیکشن کمشنر کی نااہلی ناممکن ہے۔

یاد رہے کہ تحریک انصاف نے سکندر سلطان راجہ کے خلاف ریفرنس دائر کرتے ہوئے فارن فنڈنگ کیس کے فیصلے کو بنیاد بنایا ہے۔ آئینی اور قانونی ماہرین یا دلاتے ہیں کہ اس سے پہلے عمران حکومت نے جنرل مشرف کو سزائے موت سنانے والے جج جسٹس وقار احمد سیٹھ کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کرنے کا اعلان کیا تھا تا کہ انہیں نااہل قرار دلوایا جا سکے۔ تاہم ایک پریس کانفرنس میں یہ اعلان کرنے کے باوجود حکومت اس فیصلے سے بھاگ گئی تھی جس کی بنیادی وجہ یہی تھی کہ وقار سیٹھ نے بطور جج ایک فیصلہ سنایا تھا جس کی بنیاد پر انکے خلاف کوئی کارروائی ممکن نہیں تھی۔ تب وزارت قانون کے کرتا دھرتا افسران کی ذمہ داری لگائی گئی تھی کہ وہ وزارت دفاع کے افسران کو سمجھائیں کہ قانون کے مطابق کسی جج کے خلاف فیصلہ سنانے پر ریفرنس دائر نہیں کیا جاسکتا اور اگر ایسا کیا بھی گیا تو ماضی کی مثالوں کی روشنی میں یہ ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل سے خارج کردیا جائے گا جس سے اسٹیبلشمنٹ اور حکومت دونوں کو سبکی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

وزارت قانون نے عمرانڈو حکومت کو یہ رائے دی تھی کہ مشرف کے خلاف عدالتی فیصلے میں ججوں کو کسی بھی فورم پر مورد الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ اس سے پہلے فوجی ترجمان آصف غفور نے جسٹس وقار سیٹھ کے فیصلے کو نشانہ مشق بناتے ہوئے کہا تھا کہ مشرف فوج کے سربراہ رہے ہیں اور وہ کسی بھی صورت غدار نہیں ہو سکتے لہٰذا جسٹس وقار سیٹھ کے خلاف ذہنی معذور ہونے کی بنا پر ریفرنس دائر کیا جائے گا۔

یہ بھی یاد رہے کہ کچھ برس پہلے سپریم جوڈیشل کونسل نے سپریم کورٹ کے موجودہ اور لاہور ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی کے خلاف ان کے ایک فیصلے کی بنیاد پر جاری شوکاز نوٹس خارج کر دیا تھا اور قرار دیا تھا کہ کسی بھی جج کے خلاف اس کے کسی فیصلے کے حوالے سے سپریم جوڈیشل کونسل میں کارروائی نہیں کی جا سکتی۔ سپریم جوڈیشل کونسل نے قرار دیا تھا کہ آج دن تک پاکستانی تاریخ میں کسی جج کے خلاف اس کے کسی فیصلے کی بنیاد پر کارروائی کی کوئی نظیر موجود نہیں ہے اور اگر ایسا ہو گیا تو پھر جج فیصلے کس طرح سنائیں گے۔

Back to top button