ڈرامہ ’’عشق مرشد‘‘ میں علی گل کا کردار لوگوں کو بھا گیا

ڈرامہ سیریل ’’عشق مرشد‘‘ کو شائقین کی جانب سے کافی پسند کیا جا رہا ہے، جبکہ ڈرامے کے کردار ماہی گیر کے بیٹے کو کافی سراہا جا رہا ہے جن کا ڈائیلاگ ’’بھلے‘‘ لوگوں کو بھا گیا ہے، مقبولیت کے بعد لوگ اُنھیں ’بھلے‘ کہہ کر بھی مخاطب کرتے ہیں۔ڈرامہ سیریل ’عشق مُرشد‘ میں علی گُل ملاح نے فضل بخش کا مزاحیہ کردار نبھایا ہے جس کا روپ مرکزی کردار شاہ میر سکندر دھارتا ہے۔ کاسٹ میں بلال عباس خان، دُرِ فشاں سلیم، نور الحسن، سلمی حسن، رابعہ نورین، سمعیہ ممتاز، عمیر رانا، حرا ترین، اور عدنان جعفر وغیرہ شامل ہیں۔اداکار علی گُل ملاح ڈرامہ سیریل’عشق مُرشد‘ میں اپنے کردار فضل بخش کی کامیابی کا سارا کریڈٹ ڈائریکٹر فاروق رند کو دیتے ہیں۔ بی بی سی اردو کے ساتھ انٹرویو میں اُنھوں نے بتایا کہ ڈرامے میں اُن کا کردار لکھا ہوا نہیں تھا، فاروق رند خود اُن کے لیے دو سین لکھے تھے۔اپنے کردار کی مقبولیت پر وہ کہتے ہیں کہ ’بڑے عرصے کے بعد ڈرامے میں ایک ایسا کریکٹر آیا، ایسی کامیڈی ہوئی، جو آپ بہو بیٹیوں کے ساتھ دیکھ سکیں، جس میں بے ہودگی نہیں تھی اور لفظوں کا اچھا چناؤ تھا تو اِس وجہ سے بھی اس کامیڈی کو پسند کیا گیا۔علی گُل ملاح کے بقول ’بھلے کا مطلب ہے اوکے۔ یس، بھلے، ٹھیک ہے۔اس کا مطلب ایسے ہے سندھی میں۔ایک حالیہ قسط میں فضل بخش کے کردار نے جب بھلے کا لفظ استعمال کیا تو سوشل میڈیا پہ کچھ لوگوں کو غلط فہمی ہوئی۔ علی بتاتے ہیں کہ ’وہ ایک معنی خیز لفظ تھا۔ تو لوگوں نے وائرل کیاکہ یہ کہہ رہا ہے کہ بلے کو ووٹ دے دو۔ مگر ایسا نہیں تھا۔بلال عباس خان کے ساتھ کام کے تجربے پر بولے کہ اردو انڈسٹری میں وہ بلال کے مقابلے بہت نئے ہیں۔ بلال بہت منجھے ہوئے اداکار ہیں۔لیکن مجھے ایسے لگا کہ وہ میرا پرانا دوست ہے۔میں بہت پرسکون تھا کام کرتے ہوئے۔ وہ ویسے بہت شرمیلا ہے، لوگوں سے بہت کم اُن کا ملنا جُلنا ہوتا ہے لیکن مجھے انھوں نے بہت پیار دیا، پیار لیا میرے سے، انجوائے کیا۔‘علی گُل ملاح ایک بہت ہی منکسر المزاج طبیعت کے مالک ہیں۔ کئی دہائیوں بعد ملنے والے اس ایک موقعے نے اُنھیں جو شہرت دی اُس کو وہ بھر پور انداز میں منا رہے ہیں۔ عام لوگوں سے ملنے والے فیڈ بیک کی بات ہوئی تو بتانے لگے کہ ’لوگ کہتے ہیں کہ ہم نے ڈرامے دیکھنے چھوڑ دیئے تھے۔ پاکستانی اداکار علی گُل ملاح انڈسٹری میں اپنی قسمت آزمانے قریباً تیس سال پہلے سندھ کے پسماندہ ضلع کندھ کوٹ کے ایک دیہات سے کراچی آئے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ وہ ندیم بیگ جیسا فلم سٹار بننے کے خواب دیکھا کرتے تھے۔عل گل ملاح سن چھیانوے میں کندھ کوٹ سے کراچی شفٹ ہوئے اور کئی سال تک پی ٹی وی کے ساتھ چھوٹے موٹے رول کرتے رہے، 2002 میں ایک پرائیویٹ چینل کے ساتھ تھوڑا بہت کام کیا۔ 2003 میں ایک دوسرا پرائیویٹ چینل کھلا جس نے اُنھیں اور اُن کے دوست سہراب سومرو کو پیسوں کی ادائیگی کے یقین کے ساتھ کسی پروگرام کا پائلٹ ریکارڈ کرنے کے لیے بُلایا لیکن صبح گیارہ سے رات گیارہ تک اُس کی ریکارڈنگ نہیں ہوسکی۔علی گل ملاح نے اپنے کریئر کا بیشتر کام سندھی میڈیا کے ساتھ ہی کیا ہے۔ وہ اب بھی اپنے دوست سہراب سومرو کے ہمراہ سندھی چینل پر ایک کامیڈی شو کرتے ہیں اور اُن کے بقول اُس شو سے اُنھیں اچھا معاوضہ ملتا ہے۔اُنھوں نے بتایا کہ سندھی انڈسٹری کے مقابلے اُنھیں اردو انڈسٹری میں پروفیشنل ازم محسوس ہوا اور فنکاروں کے پروٹوکول اور سہولیات کا فرق نظر آیا۔ جیسے وینیٹی وین ہے اُس میں بیٹھے ہوئے ہیں، سین ہو رہا ہے پھر بُلا رہے ہیں آپ کو، منرل واٹر کی بوتل مل رہی ہے، کپڑے استری ہورہے ہیں۔‘ زور سے ہنستے ہوئے بولے کہ ’اُدھر (سندھی میڈیا) تو ہم خود ہیروئن کے کپڑے استری کرلیتے تھے۔انھوں نے خوشی سے بتایا کہ ’عشق مرشد‘ کے بعد انھیں کافی کام مل رہا ہے جس میں ڈرامے اور فلمیں دونوں شامل ہیں۔

Back to top button