ڈسکہ الیکشن: حکومتی اور ریاستی ایجنسیاں کیسے آمنے سامنے آئیں؟


ڈسکہ کے ضمنی الیکشن میں حکومتی دھاندلی پر آنے والا الیکشن کمیشن کا فیصلہ تاریخی قرار دیا جا رہا یے اور مسلم لیگ ن کی بہت بڑی کامیابی تصور کیا جا رہا ہے۔ اس فیصلے کے مطابق نہ صرف ڈسکہ کے پورے حلقے میں دوبارہ پولنگ ہوگی بلکہ دھاندلی کے ذمہ دار سینئر افسران کے خلاف تادیبی کارروائی کا حکم بھی دے دیا گیا یے۔ لیکن اس سب کے باوجود سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ڈسکہ دھاندلی پر الیکشن کمیشن کا فیصلہ ایک لالی پاپ لگتا ہے جسکا مقصد اپوزیشن وقتی طور پر چپ کروانا ہے اور ایسا نہیں ہے کہ الیکشن کمیشن حکومتی اور ریاستی تسلط سے آزاد ہو چکا ہے۔ تجزیہ کار اپنے اس موقف کی حمایت میں اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف ٹھوس شواہد پر مبنی فارن فنڈنگ کیس الیکشن کمیشن کے پاس پچھلے چھ برس سے زیر سماعت ہے لیکن اس کا فیصلہ نہیں کیا جا رہا۔ اسی طرح رنگے ہاتھوں حلفیہ جھوٹ بولنے والے وفاقی وزیر فیصل واوڈا کا دوہری شہریت کیس بھی پچھلے ڈیڑھ برس سے الیکشن کمیشن کے پاس زیر سماعت ہے لیکن تمام تر ثبوت ہونے کے باوجود اس کا فیصلہ بھی نہیں کیا جا رہا اور وزیر موصوف کو تاریخ پر تاریخ دی جا رہی ہے۔ ان حالات میں تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اگر الیکشن کمیشن نے ڈسکہ دھاندلی پر ایک جرات مندانہ فیصلہ دیا ہے تو وہ بھی بھائی لوگوں کی منظوری کے بعد دیا ہے جنہوں نے کہ اپوزیشن کو ضمنی انتخابات میں ٹانگ نہ اڑانے اور غیر جانب دار رہنے کی یقین دہانی کروائی تھی۔
اب یہ کیسے ہو سکتا تھا کہ اگر اسٹیبلشمنٹ نے ضمنی الیکشن میں غیر سیاسی ہو کر دھاندلی نہ کروانے کا فیصلہ کیا تھا تو انٹیلی جنس بیورو دھاندلی کروا کر پاکستان کی اصل حکمرانوں کی ساکھ خراب کر دے۔ لہذا حکومتی ایما پر دھاندلی کرنے والوں نے قابو تو آنا تھا۔ ان حالات میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ڈسکہ دھاندلی پر الیکشن کمیشن کا فیصلہ دراصل حکومتی اور ریاستیں ایجنسیوں کی باہمی چپقلش کا نتیجہ ہے اور اس کا مقصد اور ریاستی ایجنسی کی ساکھ بحال کرنا تھا۔
چنانچہ 25 فروری کے روز الیکشن کمیشن نے نہ صرف ڈسکہ کے پورے حلقے میں دوبارہ پولنگ کروانے کا حکم جاری کر دیا بلکہ چیف سیکریٹری پنجاب اور آئی جی پنجاب کو ضمنی انتخابات کے دوران اپنے فرائض سے غفلت برتنے پر 4 مارچ کو طلب بھی کر لیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور حکومت پنجاب کو یہ حکم بھی دیا ہے کہ ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ ذیشان جاوید لاشاری، ڈی پی او سیالکوٹ حسن اسد علوی، اسسٹنٹ کمشنر ڈسکہ آصف حسین اور ڈسکہ اور سمبڑیال کے ڈی ایس پیز کو بھی معطل کیا جائے اور انہیں ائیندہ کسی الیکشن ڈیوٹی پر مامور نہ کیا جائے۔ اب ان تمام افراد کے خلاف الیکشن کمیشن خود انکوائری کرے گا یا وفاقی حکومت یا صوبائی حکومت کو انکوائری کرانے کا حکم دے گا، جس کا فیصلہ بعد میں ہوگا۔ اس کے علاوہ الیکشن کمیشن نے کمشنر گوجرانوالہ ڈویژن اور آر پی او گوجرانوالہ رینج کو ان کے موجودہ عہدوں سے تبدیل کرکے گوجرانوالہ ڈویژن سے باہر بھیجنے کی ہدایت کی ہے۔
خیال رہے کہ قومی اسمبلی کے حلقہ 75 (سیالکوٹ 4) میں ضمنی انتخاب میں نتائج میں غیرضروری تاخیر اور عملے کے لاپتا ہونے پر 20 پولنگ اسٹیشن کے نتائج میں ردو بدل کے خدشے کے پیش نظر الیکشن کمیشن نے متعلقہ افسران کو غیرحتمی نتیجہ کے اعلان سے روک دیا تھا۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایک اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ این اے 75 سیالکوٹ کے نتائج غیرضروری تاخیر سے موصول ہوئے۔ اس دوران متعدد بسر پریزائڈنگ افسران سے رابطے کی کوشش بھی کی گئی مگر رابطہ نہ ہوسکا۔ اعلامیے کے مطابق ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران اور ریٹرننگ افسر حلقہ این اے 75 نے آگاہ کیا ہے کہ 20 پولنگ اسٹیشنز کے نتائج میں رد و بدل کا شبہ ہے، لہٰذا مکمل انکوائری کے بغیر حلقے کا غیرحتمی نتیجہ جاری کرنا ممکن نہیں۔ ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا تھا کہ الیکشن کمیشن نے ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران اور ریٹرننگ افسر کو این اے 75 سیالکوٹ کے غیرحتمی نتیجے کے اعلان سے روک دیا ہے اور مکمل انکوائری اور ذمہ داران کے تعین کی ہدایات کی گئی ہیں۔
مسلم لیگ (ن) نے دھاندلی کے الزامات عائد کر کے دوبارہ پولنگ کا مطالبہ کیا تھا جس پر وزیراعظم عمران خاں نے ڈسکہ میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے-75 پر ہوئے ضمنی انتخاب میں مبینہ دھاندلی کے الزامات پر پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار سے 20 پولنگ اسٹیشنوں پر دوبارہ پولنگ کی درخواست دینے کا کہا تھا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے سے قبل ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے عثمان ڈار نے کہا تھا کہ الیکشن کمیشن جو بھی فیصلہ سنائے گا حکومت اسے قبول کرے گی۔ تاہم الیکشن کمیشن کی جانب سے پورے حلقے میں دوبارہ پولنگ کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے ڈار نے کہا کہ وہ اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کرے گی، ان کا کہنا تھا کہ اگر این اے-75 کے تمام 320 پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ انتخاب ہوا تو یہ ڈسکہ کے عوام کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔قبل ازیں وزیراعظم کے معاون خصوصی شہباز گل نے پریس کانفرنس کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ اس بات کا ثبوت ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت میں ادارے آزادانہ کام کررہے ہیں۔ ان سے جب سوال کیا گیا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے اپوزیشن کے دھاندلی کے الزام کو تسلیم کرنے کے بعد کیا پی ٹی آئی کا آزادانہ اور شفاف انتخابات کروانے کا پورا بیانیہ ڈھے نہیں گیا جس کے لیے پارٹی نے 2014 میں اسلام آباد میں 124 دن کا دھرنا دیا تھا۔ جواب میں شہباز گل نے کہا کہ گاؤں اور ٹاؤن تحصیل کی سطح پر کچھ بے ضابطگیاں ہوسکتی ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ پی ٹی آئی غلط کاموں میں شامل تھی۔
تاہم سچ یہ یے کہ ڈسکہ میں کپتان حکومت نے پولیس اور انتظامیہ کی مدد سے جس دیدہ دلیری سے بدمعاشی کے زور پر دھاندلی کی وہ اپنی مثال آپ تھی۔ ڈسکہ میں کہیں فائرنگ ہو رہی تھی، کہیں ووٹنگ کو سست رو کر دیا گیا، کہیں حکومتی کارندے اپوزیشن کے خلاف جعلی ایف آئی آرز درج کروا ررہے تھے، کہیں پولنگ کا عملہ غائب ہو گیا تھا، کہیں دھند چھا گئی تھی، کہیں موبائل بند ہو گئے تھے، کہیں راستہ نہیں مل رہا اور کہیں اغوا کننددگان کو پولیس کی معیت میں دوبارہ لائن حاضر کیا جا رہا تھا۔ لیکن الیکشن کمیشن اپنے 25 فروری کے فیصلے کے بعد ایک ایسے غیر جانبدار ادارے کے طور پر سامنے آیا جس نے نہ استعماری قوتوں کی پرواہ کی، نہ خوف سے اس کو کوئی جھرجھری آئی اور نہ حکومت کے عتاب سے ڈرا۔ الیکشن کمیشن کا یہ کردار نیا ہے۔ پہلے بھی اس ملک میں ہر انتخابی عمل میں بے ضابطگیاں ہوتی رہی ہیں، پہلے بھی جھرلو پھرنے کے الزامات سامنے آتے رہیں ہیں، لیکن نہ کبھی ایسا فیصلہ آیا، نہ کبھی فوری ایکشن ہوا، نہ اس کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی۔
پاکستانی عوام کو 2018 کا الیکشن تو یاد ہی ہو گا، اس وقت بھی دھاندلی کی بڑی ہاہا کار مچی تھی۔ عوام کو یاد ہی ہو گا کیسے الیکشن سے پہلے لوگوں کی وفاداریاں تبدیل کی گئی تھیں، کس طرح بلوچستان کی حکومت کو چلتا کیا گیا، کس طرح جی ڈی اے، باپ، ایم کیو ایم اور ق لیگ کی رہنمائی کی گئی تھی اور کس طرح الیکشن کے دن پولنگ سست کروائی گئی تھی۔ کس طرح امیداروں کی وفاداریاں تبدیل کی گئی تھیں، کس طرح فارم 45 غائب ہوئے تھے، کس طرح خوف کی ایک فضا بنائی گئی تھی اور کس طرح میڈیا پر الیکشن کی شفافیت کی قسمیں کھائیں گئی تھیں۔ یہ بہت پرانی بات نہیں ابھی 2018 کا ہی قصہ ہے اور سب کو یاد ہے۔
سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ ڈسکہ الیکشن میں دھاندلی کے حوالے سے جو کچھ الیکشن کمیشن نے کیا وہ قابلِ تحسین ضرور ہے لیکن سوال یہ ہے کہ تعریف کے ڈونگرے صرف ایک حلقے کے الیکشن کے لیے کیوں سنبھال کر رکھے گئے۔ سوال یہ بھی یے کہ ایک ڈسکہ حلقے کے الیکشن میں ہی کیوں شفافیت یاد آ گئی، ایک حلقے میں ہی کیوں دھاندلی نظر آ گئی، ایک حلقے میں ہی کیوں انصاف کا بول بالا ہوا اور ایک حلقے میں ہی کیوں منصفانہ انتخابات یاد آ گئے۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ ڈسکہ الیکشن کا فیصلہ ملکی الیکشن کی تاریخ کے تناظر میں ایک لالی پاپ لگتا ہے جس کا مقصد وقتی طور پر اپوزیشن کو رام کرنا ہے جو اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے غیر جانبدار رہنے کے وعدوں پر یقین کیے بیٹھی تھی۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اپوزیشن ڈسکہ میں دوبارہ پولنگ کروائے جانے کے الیکشن کمیشن کے فیصلے کی تعریف میں بھلے زمین آسمان کے قلابے ملا دے، بھلے شادیانے بجائے یا بھنگڑے ڈالے، اصل میں الیکشن بے ضابطگیوں کے معاملات ڈسکہ کے حلقے سے زیادہ گھمبیر ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ جب تک اس سلسلے کو 2018 کے الیکشن سے نہیں جوڑا جائے گا، تمام تر کاوش بے سود ہے۔ انصاف صرف ایک حلقے تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ اس بات کو یقینی بنایا جانا چاہیے کہ آئندہ عام انتخابات ملک بھر میں آزادانہ اور منصفانہ ماحول میں ہوں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button