’ ڈونلڈ ٹرمپ صدارتی انتخابات میں ان رہیں گے یا مکمل آؤٹ؟

سال 2024 دنیا کے بیشتر ملکوں میں انتخابات کا سال ہے۔ بنگلہ دیش، انڈیا، پاکستان کے علاوہ برطانیہ اورامریکہ میں بھی عوام اس سال فیصلہ کریں گے کہ انھیں ملکی قیادت میں تبدیلی لانی ہے یا موجودہ حکومت کی پالیسیوں کو ہی اپنی حمایت دے کر ایک اور موقع دینا ہے۔ لیکن لگ بھگ ہر ملک میں سیاسی حریف ایک دوسرے پر نہ صرف مقدمات قائم کر رہے ہیں بلکہ ایک دوسرے پر ملک میں انتخابات کو یکطرفہ بنانے کے الزمات بھی عائد کیے جا رہے ہیں۔ دنیا میں سپر پاور کہلانے والا امریکہ بھی اس صورتحال سے الگ نہیں جہاں موجودہ صدر جو بائیڈن کے حریف ڈونلڈ ٹرمپ کا فی الحال الیکشن میں حصہ لینا بھی خطرے میں ہے۔

امریکہ کی سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے صدارتی انتخابات میں لڑنے کی اہلیت کا فیصلہ کرنے کے تاریخی مقدمے کی سماعت کرے گی۔عدالت نے سابق صدر ٹرمپ کی کولوراڈو سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل سننے پر اتفاق کیا ہے۔ اس فیصلے نے 2024 کے انتخابات کے دوران اس ریاست میں ان کا نام بیلٹ سے ہٹانے کا فیصلہ دیا تھا۔کیس کی سماعت فروری میں ہوگی اور اس کا اطلاق قومی سطح پر ہو گا۔

خیال رہے کہ مختلف ریاستوں میں ڈونلڈ ٹرمپ کو نااہل کرنے کے مقدمات دائر ہیں جن میں یہ دلیل دی جا رہی ہے کہ وہ تین سال پہلے کیپیٹل ہل پر ہونے والے فساد اور بغاوت میں ملوث تھے۔قانونی چیلنجز اس بات پر منحصر ہیں کہ آیا امریکہ میں خانہ جنگی کے دور کی آئینی ترمیم ڈونلڈ ٹرمپ کو بطور امیدوار کھڑے ہونے کے لیے نااہل قرار دیتی ہے یا نہیں۔اس سے پہلے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو امریکہ کی دو ریاستوں کولوراڈو اور میئن میں بطور صدارتی امیدوار انتخابات میں لڑنے سے نااہل قرار دے دیا تھا۔

تاہم یہ واضح ہے کہ نومبر 2024 میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صدر جو بائیڈن کے خلاف رپبلکن پارٹی کے ممکنہ حریف ہوں گے۔ان کی کیمپین نے دونوں فیصلوں کو ’ظالمانہ‘ اور ’انتخابات کی چوری کی کوشش‘ قرار دیا ہے۔

ریاست میئن کے الیکشن کے اعلیٰ عہدیدار نے فیصلہ کیا کہ کیپیٹل ہل میں دنگے فساد کے واقعے میں سابق صدر کے کردار کی وجہ سے وہ الیکشن میں حصہ نہیں لے سکتے۔ اس سے کچھ دن قبل ہی کولوراڈو کی سب سے بڑی عدالت نے اس سے ملتا جلتا ہی فیصلہ دیا تھا۔دونوں فیصلے اس وقت رکے ہوئے ہیں کیونکہ ان پر اپیلیں دائر ہیں تو ابھی یہ بات واضح بھی نہیں ہے کہ جب ان دونوں ریاستوں میں عوام اپنے رپبلکن امیداوار کا انتخاب کرنے کو نکلیں گی کیا اس وقت سابق صدر کا نام بیلٹ پر ہو گا یا نہیں۔

اس صورتحال کے متعلق ہر چیز پہلی دفعہ ہو رہی ہے اور ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی لہٰذا اس وجہ سے یہ سوال بار بار سامنے آرہا ہے کہ اس سے عام انتخابات پر کیا اثر پڑ سکتا ہے۔ مبصرین کے مطابق جن وجوہات کی وجہ سے کولوراڈو کی عدالت نے جماعت کے اندر ہونے والے انتخابات کیلئے ڈونلڈ ٹرمپ کو نااہل کیا ہے انھی وجوہات کی بنا پر وہ عام انتخابات سے بھی نااہل ہو سکتے ہیں۔تاہم جب تک عدالتوں میں اس معاملے پر پیشرفت نہیں ہوتی یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ نومبر میں ہونے والے عام انتخابات میں کیا ہو گا۔

دوسری جانب قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے سدارتی الیکشن لڑنے کے حوالے سے دو مرکزی قانونی مسائل ہیں جن پر غور کرنا ہو گا۔ پہلا سوال یہ ہے کہ کیا کیپیٹل ہل سے پہلے کے ڈونلڈ ٹرمپ کے اقدامات بغاوت کے مترادف ہیں۔اور دوسرا یہ کہ سیکشن تین جن وفاقی عہدوں پر فائز ہونے سے روکتا ہے ان میں صدر کا عہدہ بھی شامل ہے یا نہیں۔ تاہم کولوراڈو کی نچلی عدالت نے پہلے ہی فیصلہ دے دیا ہے کہ سابق صدر بغاوت میں ملوث ہوئے لیکن اس قانون کا اطلاق صدر کے منصب پر نہیں ہوتا۔لیکن کولوراڈو کی سپریم کورٹ نے اس بات کے ساتھ اتفاق نہیں کیا اور قانونی ماہرین اس پر بٹے ہوئے ہیں کہ کیا اس قانون کا اطلاق ڈونلڈ ٹرمپ پر ہونا چاہیے یا نہیں۔

Back to top button