ڈپٹی چئیرمین نیب حسین اصغر نے استعفیٰ دے دیا

چئیرمین نیب کے لئے مضبوط امیدوار سمجھنے جانے والے ڈپٹی چئیرمین نیب حسین اصغر اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے.صدر ڈاکٹرعارف علوی کو بھیجے گئے استعفے میں حسین اصغر نے اپنے مستعفی ہونے کی وجوہات کا ذکر نہیں کیا۔
مستعفی ہونے والے ڈپٹی چئیرمین قومی ادارہ برائے احتساب حسین اصغر قرضہ کمیشن کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں جبکہ ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن پنجاب کے عہدے پر بھی فائز رہ چکے ہیں ۔واضح رہے کہ ڈپٹی چئیرمین نیب کے عہدے سے مستعفی ہونے کی تاحال کوئی وجوہات سامنے نہیں آسکیں۔
ذرائع کے مطابق چئیرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کی مدت ملازمت ختم ہونے کے بعد حسین اصغر کو چئیرمین نیب کے لیے مظبوط امیدوار تصور کیا جا رہا تھا۔ تاہم اب اچانک انہوں نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے.
خیال رہے کہ کچھ عرصہ قبل حسین اصغر پر نیب لاہور نے کرپشن کے الزامات عائد کیے تھے اور چئیرمین نیب سے الزامات کی تحقیقات کرنے کی اجازت طلب کی گئی تھی۔
قومی احتساب بیورو (نیب) کے ڈپٹی چیئرمین حسین اصغر نے پولیس کے محکمے میں اپنی ملازمت کے دوران واقعی کچھ غلط کیا تھا یا انہیں نیب میں اندرونی مخالفت کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا تھا؟ نیب لاہور نے چیئرمین نیب کو حسین اصغر کی مبینہ کرپشن کے حوالے سے ایک شکایت ارسال کی تھی جس میں چیئرمین سے قانون کے مطابق قانونی کارروائی شروع کرنے کی اجازت طلب کی گئی تھی۔
شکایت میں چیئرمین جاوید اقبال سے نیب کی کارروائی کے پہلے مرحلے یعنی شکایت کے تصدیقی عمل کو شروع کرنے کی اجازت مانگی گئی تھی۔ تاہم، رابطہ کرنے پر نیب ترجمان نے تردید کی تھی کہ ایسی کوئی شکایت موصول ہوئی ہے یا چیئرمین نیب سے اس ضمن میں کوئی منظوری حاصل کرنے کیلئے خط لکھا گیا ہے۔
تاہم، نیب کے ایک سینئر سرکاری ذریعے نے کہا تھا کہ نیب لاہور آفس نے چیئرمین نیب کو ایک شکایت بھیجی ہے جس میں حسین اصغر کی مبینہ کرپشن کا ذکر ہے۔ حسین اصغر ریٹائرڈ پولیس افسر اور نیب کے موجودہ ڈپٹی چیئرمین ہیں اور اچھی ساکھ کے حامل ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ یہ شکایت حسین اصغر کیخلاف اس وقت کی ہے جب وہ کمانڈنٹ پنجاب کنسٹیبلری تھے۔ ذریعے کے مطابق، شکایت گزار نے 2016-17ء کی آڈٹ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ حسین اصغر نے پنجاب کنسٹیبلری میں غیر قانونی بھرتیاں کیں۔ ان پر سرکاری فنڈز کے غلط استعمال کا بھی الزام عائد کیا گیا تھا۔
ایک ذریعے کا کہنا تھا کہ بیورو میں کچھ سینئر عہدیدار حسین اصغر سے ناخوش ہیں کیونکہ انہوں نے ڈپٹی چیئرمین کی حیثیت سے ان افسران کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے اسے غیر تسلی بخش قرار دیا تھا۔ تاہم، اس بات کی تصدیق نہیں ہو پائی۔
نجی ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطابق، پنجاب کنسٹیبلری کے سابق کمانڈنٹ حسین اصغر نے جعلی بھرتیوں کے لیٹر جاری کیے اور ان جعلی بھرتی کردہ ملازمین کی تنخواہوں کی مد میں بھاری رقوم نکلوائیں۔چیئرمین نیب کو بھیجی گئی شکایت میں آڈٹ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی تھی اور کہا گیا تھا کہ قومی خزانے کو 30؍ کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ سابق ڈپٹی چیئرمین نیب امتیاز تاجور پر بھی جب اختیارات کے ناجائز استعمال اور کرپشن کا الزام عائد کیا گیا تھا تو انہوں نے بھی عہدے سے استعفیٰ دیدیا تھا۔
مارچ 2017ء میں نیب کی جانب سے ایک پریس ریلیز جاری کی گئی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ ڈپٹی چیئرمین نیب کیخلاف کیس درج ہونے کے بعد معاملہ اعلیٰ سطح پر زیر غور آیا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ عہدے کا تقدس برقرار رکھنے کیلئے ڈپٹی چیئرمین فوری طور پر رضاکارانہ بنیادوں پر رخصت پر چلے جائیں اور پیشہ ورانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے اپنی پوزیشن کلیئر کریں۔ سابق ڈپٹی چیئرمین کیخلاف ایف آئی اے نے کرپشن کا کیس درج کیا تھا۔
2017ء میں وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا تھا کہ جب امتیاز تاجور کے پاس نادرا کا ایڈیشنل چارج تھا اس وقت انہوں نے اختیارات کا غلط استعمال کیا اور کرپشن کی اسلئے ان کیخلاف پریونشن آف کرپشن ایکٹ کے سیکشن 5(2)47 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
