نازیبا ویڈیو سے میری اہلیہ ڈپریشن میں چلی گئیں

https://youtu.be/9o__2PrC0_A
مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما اور سابق گورنر سندھ محمد زبیر نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد پہلی بار اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس واقعے کی وجہ سے ان کی اہلیہ ڈیپریشن میں چلی گئی اور ان کی بیٹی کا رو رو کر برا حال ہوگیا۔
سینئر اینکر پرسن منصور علی خان کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے محمد زبیر نے کہا کہ اگر انہوں نے واقعی ایسی کوئی حرکت کی ہوتی اور اس کی ویڈیو ریلیز کی جاتی تو انہیں افسوس نہ ہوتا، لیکن جس طرح ایک فیک ویڈیو پیکج بنا کر انہیں ٹارگٹ کیا گیا وہ ان کے پورے خاندان کے لیے تکلیف کا باعث تھا۔ محمد زبیر سے اینکر نے سوال کیا کہ ویڈیو لیک ہونے کے بعد انکے بھائی اسد عمر کا کیا ری ایکشن تھا جن کا تعلق مخالف جماعت سے ہے؟ اسکا جواب دیتے ہوئے زبیر نے کہا کہ مجھے اندازہ ہے کہ اس واقعے کے بعد اسد عمر کے لیے بھی کتنی مشکل صورتحال تھی۔ لیکن میں یہ ضرور بتا دوں کہ یہ واقعہ ایک دم نہیں ہوا بلکہ مجھے اور میرے اہلخانہ کو گذشتہ سات سالوں سے دھمکایا جا رہا تھا کہ ہمارے پاس آپکے بارے میں چیزیں موجود ہیں لہذا آپ پیچھے ہٹ جائیں اور نواز شریف کا ساتھ چھوڑ دیں۔ مجھے کہا گیا کہ ہم چاہتے ہیں کہ آپ سیاست سے علحیدگی اختیار کر لیں لیکن میں نے ایسا نہیں کیا اور نہ ہی مستقبل میں بھی پیچھے ہٹوں گا۔زبیر نے کہا کہ میں عمران خان اور دیگر لوگوں کا مقابلہ کروں گا۔
ویڈیو بارے اپنے خاندان کا رد عمل بتاتے ہوئے زبیر نے کہا کسی بھی شخص کی فیملی ایسی چیزیں برداشت نہیں کرتی۔ اس سکینڈل کے بعد میری اہلیہ کی حالت بہت خراب ہو گئی۔ وہ مکمل ڈیپریشن میں چلی گئی اور میری بیٹی نے رو رو کر اپنا حال خراب کردیا لہذا میں ایسی حرکت کرنے والوں کو یہی کہوں گا کہ آپ میری سیاست کا جواب سیاست سے دیں۔ آپ میری سیاست کو تہس نہس کر دیں، میں برداشت کر لوں گا لیکن ویڈیو کی صورت میں میرے ساتھ جو کچھ کیا گیا وہ میرے خاندان کے لیے برداشت کرنا بہت مشکل تھا۔ زبیر نے کہا کہ اگر میری واقعی ہی کوئی نازیبا ویڈیو تھی تو اس کو ریلیز کر دیتے لیکن جس طرح باقاعدہ ایک پیکج بنا کر ویڈیو کو اپلوڈ کیا گیا اس سے واضح ہوتا ہے کہ مجھ سے سیاسی انتقام لیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ویڈیو پیکج کے بیک گرونڈ وائس اوور میں یہ کہا گیا کہ میں نواز شریف کا سپاہی ہوں۔ پھر ملک کے ایک انتہائی معزز بزنس مین کا نام بھی مجھ سے جوڑا گیا اور یہ کہا گیا کہ وہ مجھے عورتیں لا کر دیتا تھا۔ زبیر نے کہا کہ میں ان تمام لوگوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے اس مشکل گھڑی میں میرا ساتھ دیا۔ مجھے مریم نواز نے بھی کہا کہ آپ کی جماعت آپ کے ساتھ کھڑی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مریم نواز کا یہ اعلان کہ زبیر میرے ترجمان کے طور پر برقرار رہیں گے، میرے لیے باعث افتخار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خاتون صحافی غریدہ فاروقی سمیت جن خواتین کا بھی اس معاملے سے نام جوڑا گیا، مجھے اس پر سخت افسوس ہے۔ زبیر نے اس ویڈیو کو ریلیز کرنے والوں کے خلاف ایف آئی اے میں جانے کے سوال پر کہا کہ کیا میں اس ادارے سے رابطہ کروں جس کے سربراہ شیخ رشید ہیں۔ کیا میں ویڈیو کی تحقیقات کے لئے ان لوگوں کے پاس جاؤں جو اس واردات میں خود ملوث ہیں؟ کیا آپ واقعی سمجھتے ہیں کہ یہ لوگ مجھے انصاف دیں گے؟
