ایران امریکہ امن معاہدہ یا جنگ؟کیا ہونے والا ہے؟

مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر تاریخ کے نازک ترین موڑ پر کھڑا دکھائی دیتا ہے، جہاں ایک طرف جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں تو دوسری جانب سفارتکاری کی آخری کوششیں جاری ہیں۔ امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اب ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں ہر بیان، ہر دھمکی اور ہر سفارتی رابطہ عالمی سیاست اور معیشت پر براہِ راست اثر ڈال رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو واضح پیغام دیا ہے کہ یا تو معاہدہ کیا جائے یا پھر پہلے سے زیادہ شدید بمباری کے لیے تیار رہا جائے۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی اور ممکنہ معاہدے کے لیے 14 نکاتی فارمولا زیر غور ہے۔ اطلاعات یہ ہیں کہ ایران یورینیم کی افزودگی روکنے پر آمادہ ہو سکتا ہے جبکہ امریکا ایرانی اثاثے بحال کرنے سمیت کچھ پابندیوں میں نرمی پر غور کر رہا ہے۔ اسی امکان نے عالمی منڈیوں میں فوری ردعمل پیدا کیا، برینٹ کروڈ آئل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے نیچے آ گئی جبکہ عالمی سٹاک مارکیٹوں میں زبردست تیزی دیکھنے میں آئی۔

صدر ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ایران کے ساتھ “بہت اچھی بات چیت” ہوئی ہے اور وہ اگلے ہفتے اپنے دورۂ چین سے قبل کسی بڑی پیش رفت کے لیے پُرامید ہیں۔ تاہم ان کا لہجہ ایک بار پھر سخت دکھائی دیا۔ انہوں نے ایران کو خبردار کیا کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو امریکی کارروائیاں پہلے سے زیادہ خطرناک ہوں گی۔ ٹرمپ نے یہ بھی عندیہ دیا کہ امریکا ایران کے افزودہ یورینیم پر مکمل کنٹرول چاہتا ہے تاکہ مستقبل میں کسی بھی جوہری خطرے کا راستہ روکا جا سکے۔

دوسری جانب تہران نے بھی محتاط مگر سفارتی انداز اپنایا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تصدیق کی کہ امریکا کی تجاویز کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور ایران جلد ثالثی کا کردار ادا کرنے والے پاکستان کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گا۔ یہی نکتہ اس پوری صورتحال میں پاکستان کو غیرمعمولی اہمیت دے رہا ہے۔ خطے میں کشیدگی کم کرانے اور ایران و امریکا کے درمیان رابطے بحال رکھنے میں اسلام آباد کا کردار عالمی سطح پر توجہ حاصل کر رہا ہے۔

ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے امریکا پر الزام عائد کیا کہ واشنگٹن اقتصادی ناکہ بندی اور عسکری دباؤ کے ذریعے تہران کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنا چاہتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کسی دباؤ میں نہیں آئے گا اور صرف ایسا معاہدہ قبول کرے گا جو اس کے قومی مفادات اور خودمختاری کا تحفظ کرے۔

اسی دوران ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بیجنگ میں اپنے چینی ہم منصب وانگ یی سے اہم ملاقات کی۔ چین نے ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے تمام فریقین پر زور دیا کہ آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھولا جائے تاکہ عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی متاثر نہ ہو۔ چین کا یہ مؤقف اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ دنیا کی بڑی معیشتیں آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی سے شدید پریشان ہیں۔

ادھر امریکا نے پاکستان اور دیگر ممالک کی درخواست پر “پروجیکٹ فریڈم” نامی آپریشن کو عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد آبنائے ہرمز کو دوبارہ مکمل طور پر کھلوانا تھا۔ اس فیصلے کو سفارتی پیش رفت کے لیے مہلت دینے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم خطے میں عسکری تناؤ اب بھی برقرار ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے واضح کیا ہے کہ اسرائیل ہر ممکن صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے ایرانی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی دفاعی ادارے مکمل الرٹ ہیں۔ اردن کے شاہ عبداللہ دوم اور اماراتی قیادت نے بھی ایران پر تنقید کرتے ہوئے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش ظاہر کی ہے۔

دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے خلیج اور خلیج عمان میں موجود جہازوں کے کپتانوں اور مالکان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی قواعد و ضوابط پر عمل کے باعث آبنائے ہرمز میں صورتحال نسبتاً مستحکم رہی۔ ایرانی حکام کا دعویٰ ہے کہ اگر بیرونی جارحیت اور دھمکیوں کا سلسلہ ختم ہو جائے تو عالمی جہاز رانی بحفاظت جاری رہ سکتی ہے۔

امریکی سینٹ کام کی جانب سے یہ دعویٰ بھی سامنے آیا کہ امریکی فوج نے ناکہ بندی کی خلاف ورزی کرنے والے ایک ایرانی آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا ہے، جس کے بعد خطے میں مزید کشیدگی کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو مشرقِ وسطیٰ ایک ایسی جنگ کی طرف بڑھ سکتا ہے جس کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، تیل کی ترسیل اور عالمی سلامتی متاثر ہو سکتی ہے۔ فی الحال دنیا کی نظریں واشنگٹن، تہران اور اسلام آباد پر جمی ہوئی ہیں۔ سوال یہی ہے کہ کیا سفارتکاری جنگ کو روک پائے گی یا ایک نئی تباہ کن جنگ دنیا کے دروازے پر دستک دے رہی ہے؟

Back to top button