ڈی جی ISI کی تعیناتی سے متعلق افواہیں بے بنیاد ہیں، فوجی ترجمان

پاک فوج کے ترجمان اور شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل بابر افتخار نے نئے ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی سے متعلق سوشل میڈیا پر زیرگردش قیاس آرائیوں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں کوئی صداقت نہیں، فوج میں بطور ادارہ تعیناتیاں اتنی کم مدتی نہیں ہوتی، ہر کوئی اپنی مدت پوری کرتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ عام طور پر فوج میں کسی ادارے کے سربراہ کے طور پر تعیناتی 2 سال کے لیے کی جاتی ہے، میری گزارش ہوگی کہ اس طرح کی قیاس آرائیاں مزید نہ کی جائیں۔ یاد رہے کہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید اس وقت آئی ایس آئی کے سربراہ ہیں اور وزیراعظم عمران خان کے قریب خیال کیے جاتے ہیں۔ تاہم اسلام آباد کے حلقوں میں اس طرح کی افواہیں گردش کر رہی تھیں کہ انھیں کور کمانڈر تعینات کیا جارہا ہے۔ ڈی جی آئی ایس آئی وزیراعظم کو رپورٹ کرتا ہے اور اس کی تعیناتی بھی وزیراعظم کا اختیار ہے۔ ڈی جی آئی ایس آئی کے تبادلے کے حوالے سے افواہوں نے ان قیاس آرائیوں کے درمیان سر اٹھایا کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ اور انٹیلیجنس اسٹیبلشمنٹ دو مختلف سمتوں میں چل رہے ہیں۔ تاہم اب فوجی ترجمان نے ان افواہوں کی تردید کر دی ہے۔
راولپنڈی میں پریس کانفرنس کے فوجی ترجمان نے بتایا کہ آج 22 فروری ہے اور آپریشن ردالفساد کے 4 سال مکمل ہوگئے ہیں، اس پریس کانفرنس کا مقصد اس آپریشن کا تفصیلی جائزہ اور ثمرات پر کچھ روشنی ڈالنا ہے اور ملک کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال سے آگاہی دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 22 فروری 2017 کو آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی قیادت اور سربراہی میں آپریشن ردالفسار کا آغاز کیا گیا، اس آپریشن کی بنیادی اہمیت جو اسے دیگر تمام چیزوں سے ممتاز کرتی ہے وہ یہ ہے کہ آپریشن کسی مخصوص علاقے پر مبنی نہیں تھا بلکہ اس کا دائرہ کار پورے ملک پر محیط تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button