کابینہ نے نعیم بخاری کی 4 دن کی چاندنی اندھیرے میں ڈبودی

چار دن کی چاندنی: کابینہ نے بھی نعیم بخاری کو فارغ کر دیا
وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت اسلام آباد ہائی کورٹ کی وارننگ پر عمل کرتے ہوئے وفاقی کابینہ نے نعیم بخاری
کو بطور چیئرمین پاکستان ٹیلی ویژن کارپوریشن فارغ کر دیا ہے اور عامر منظور کو پی ٹی وی کے مینجنگ ڈائریکٹر کے عہدے پر بحال کر دیا ہے جن کو نعیم بخاری نے اپنی چار روزہ چودھراہٹ میں گھر بھیج دیا تھا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے نعیم بخاری کو پی ٹی وی چیئرمین کی حیثیت سے کام کرنے سے روکنے کے ایک روز بعد ہی وفاقی کابینہ نے انہیں اور انکے ساتھ بھرتی ہونے والے پی ٹی وی کے دیگر 2 ڈائریکٹرز کو ہٹا دیا۔ یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے اپنے قریبی دوست اور وکیل نعیم بخاری کو ان کی خدمات کے عوض میرٹ اور قانون کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے پچھلے مہینے پی ٹی وی کا چیئرمین مقرر کیا تھا حالانکہ ان کی عمر ستر برس تھی اور قانون کے مطابق 65 برس سے زائد کا کوئی بھی شخص اس عہدے پر تعینات نہیں ہو سکتا تھا۔ تاہم نعیم بخاری کی تعیناتی چیلنج ہونے پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس اطہر من اللہ نے عطا الحق قاسمی کیس کا حوالہ دیتے ہوئے حکومت کو وارننگ دی تھی کہ وہ فوری طور پر اس فیصلے کو واپس لے لیں ورنہ وہ نعیم بخاری کی تعیناتی کو خلاف قانون قرار دے کر ختم کر دیں گے۔ چنانچہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے وفاقی کابینہ نے نعیم بخاری اور دیگر 2 ڈائریکٹرز کو ہٹا دیا چونکہ وہ 65 برس سے زائد عمر کے تھے۔ اس سے پہلے اسلام آباد ہائی کورٹ نے حکومت سے کہا تھا کہ ان بورڈ آف ڈائریکٹرز کو ہٹائیں جن کی عمر 65 سال سے زیادہ ہے، لہٰذا کابینہ نے نعیم بخاری اور دیگر 2 ڈائیکٹرز کو ہٹا دیا۔
واضح رہے کہ 14 جنوری کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے نومبر 2018 کے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو دوہرایا تھا جس میں عدالت عظمیٰ نے عطاالحق قاسمی کی چیئرمین پی ٹی وی کی حیثیت سے تعیناتی کالعدم قرار دی تھی۔ عدالت عالیہ نے کہا کہ وزارت اطلاعات نے وہی غلطی دہرائی جو عطا الحق قاسمی کے کیس میں کی تھی اور وفاقی کابینہ کو سمری بھیجنے سے قبل عدالت عظمیٰ کے فیصلے کو نہیں دیکھا۔
خیال رہے کہ گزشتہ برس نومبر میں پاناما پیپرز لیک کیس میں عمران خان کی قانونی ٹیم کی سربراہی کرنے والے نعیم بخاری سرکاری نشریاتی ادارے پاکستان ٹیلی ویژن کا چیئرمین نامزد کیا گیا تھا۔ بظاہر یہ تقرر جلد بازی میں کیا گیا تھا کیونکہ وفاقی کابینہ نے اس سے قبل ہونے والے اجلاس میں ان کے تقرر کے لیے ایک سمری پر غور کیا تھا لیکن انہوں نے ان کی پی ٹی وی چیئرمین کی حیثیت سے شمولیت کی توثیق نہیں کی تھی۔ وزارت اطلاعات نے پی ٹی وی کے تین آزاد ڈائریکٹرز کے تقرر کے لیے سمری پیش کی تھی جس میں نعیم بخاری، چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ سید وسیم رضا اور ممتاز مصنف اصغر ندیم سید کو اصولی امیدوار نامزد کرنے کی سفارش کی گئی تھی، نعیم بخاری اور اصغر ندیم سید کی عمر 65 برس سے زیادہ تھی اور اسی وجہ سے اس وزارت نے ان کی عمر کے بارے میں وفاقی کابینہ سے نرمی طلب کی تھی۔ تاہم ڈائریکٹرز اور پی ٹی وی کے چیئرمین کے تقرر کے لیے سمری دوبارہ جاری کرنے سے متعلق کابینہ کے مشاہدات کے برخلاف وزارت اطلاعات نے بذات خود نعیم بخاری کی بطور چیئرمین نامزدگی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا تھا۔
عدالت نے یہ معاملہ دوبارہ وفاقی کابینہ کو بھیجنے کی ہدایت کی تھی تاکہ وہ اپنا غیرقانونی فیصلہ واپس لے سکے۔ جسٹس اطہر من اللہ نے نعیم بخاری کی بطور سرکاری ٹیلی ویژن پی ٹی وی کے چیئرمین تعیناتی کے خلاف درخواست کی سماعت کرتے ہوئے پی ٹی وی کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا اُنھوں نے اس تعیناتی کے بارے میں سپریم کورٹ کا فیصلہ پڑھا ہے جو اُنھوں نے پی ٹی وی کے سابق چیئرمین عطا الحق قاسمی کے مقدمے میں دیا تھا، جس پر وکیل نے کہا کہ ان کے کیس پر عطا الحق قاسمی کیس کا اطلاق نہیں ہوگا۔ وکیل کا کہنا تھا کہ عطاالحق قاسمی نے پی ٹی وی سے 28 کروڑ 41 لاکھ روپے وصول کیے جبکہ ان کے موکل کا عہدہ اعزازی ہے اور وہ تنخواہ بھی نہیں لیتے, جبکہ انٹرٹینمنٹ کا خرچہ بھی اپنی جیب سے ادا کرتے ہیں۔
اس موقف پر بینچ کے سربراہ نے پی ٹی وی کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ معاملہ تنخواہ نہ لینے اور اخراجات خود برداشت کرنے کا نہیں، بلکہ خلافِ قانونی تعیناتی کا ہے۔ عدالت نے بتایا کہ پی ٹی وی کے چیئرمین کا تقرر ایک بورڈ کے ذریعے ہوتا ہے جس میں نہ تو وزیر اعظم اور نہ ہی متعلقہ وزیر کا کوئی کردار ہوتا ہے لہذا یہ تعیناتی غیر قانونی ہے۔ چنانچہ اس فیصلے کی روشنی میں اب نعیم بخاری بہت بے آبرو ہو کر پی ٹی وی سے نکل گئے ہیں۔
