کابینہ نے وفاقی ملازمین کی تنخواہوں میں 25 فیصد اضافے کی منظوری دیدی

کابینہ نے بدھ کے روز وفاقی سیکرٹریٹ ملازمین کی تنخواہوں میں 25 فیصد اضافے کی منظوری دیتے ہوئے 21 ارب روپے کی ریلیف دے دی اور صوبوں پر زور دیا کہ وہ اپنے سرکاری ملازمین اور وفاقی ملازمین کے درمیان اجرت کا فرق ختم کریں۔
وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت کابینہ کے اجلاس میں لاپتہ افراد کے دیرینہ مسئلے پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا اور متعلقہ حکام کو پارلیمنٹ میں فوری قانون سازی کرنے کی ہدایت کی گئی تاکہ موجودہ حکومت میں کوئی لاپتہ فرد نہ ہو۔ وزیر اعظم خان نے خواتین اور بچوں پر جنسی تشدد کے ‘بڑھتے ہوئے’ کیسز پر برہمی کا اظہار کیا اور ہدایت کی کہ حال ہی میں بنائے گئے قوانین کو موثر طریقے سے نافذ کیا جائے۔ کابینہ نے 3 مارچ کو ہونے والے سینیٹ کے آئندہ انتخابات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ سینیٹ نے اوپن ووٹ کے ذریعہ سینیٹ انتخابات کروانے کےلیے ایک آرڈیننس جاری کرکے ہارس ٹریڈنگکے دروازے بند کرنے کےلیے سنجیدہ اقدامات کرنے کا سہرا موجودہ حکومت کو دیا۔ کابینہ نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر احتجاج کے بعد سیکرٹریٹ ملازمین کی تنخواہوں میں 25 فیصد اضافے کی منظوری دی۔ کابینہ کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اطلاعات شبلی فراز نے کہا کہ حکومت نے اپنے ملازمین کی بنیادی تنخواہ میں اضافے کا انتخاب کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘چند بنیادی اسٹرکچر کے مسائل ہیں، 18 ویں ترمیم کی چند شقوں پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے’۔ انہوں نے کہا کہ ‘صوبائی محکموں میں سرکاری ملازمین کو زیادہ تنخواہ ملتی ہے اور وفاقی اداروں میں ملازمین کو کم ملتی ہیں جس کی وجہ سے وہ (وفاقی ملازمین) صوبوں میں جانا چاہتے ہیں جبکہ صوبوں میں رہنے والے یہاں (اسلام آباد میں) شامل ہونا نہیں چاہتے ہیں’۔ ذرائع کے مطابق کابینہ کے بہت سارے ممبران نے وفاقی سیکریٹریٹ کی تنخواہوں میں 25 فیصد تک اضافہ کرنے کے فیصلے کی مخالفت کی۔ ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ ‘ان کا موقف تھا کہ اگر حکومت ایک بار دباؤ میں آتی ہے اور اس طرح سے تنخواہوں میں اضافہ کرتی ہے تو چند اور گروپس کل اسی طرح کے مطالبے کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوں گے’۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ حکومت گریڈ 1 سے 19 تک ملازمین کی بیسک تنخواہ میں 25 فیصد اضافہ کرکے سالانہ 21 ارب روپے اضافی بوجھ برداشت کرے گی۔ ایک اور ذرائع نے بتایا کہ وزیر اعظم عمران خان نے لاپتہ افراد کے معاملے پر اپنی تشویش کا اظہار کیا اور کابینہ کو آگاہ کیا کہ چند انٹیلیجنس ایجنسیوں نے اس مسئلے کو موثر طریقے سے حل کرنے کے لیے مخصوص قوانین میں ترامیم طلب کی ہیں۔اس پر وزیر قانون فروغ نسیم نے عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ تاہم وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے وزیر اعظم کو آگاہ کیا کہ لوگوں کی گمشدگی کو روکنے کےلیے ایک مجوزہ بل دو سالوں سے وزارت قانون کے پاس موجود ہے لیکن اس پر کچھ نہیں ہو رہا ہے۔ وزیر اعظم نے مداخلت کی اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ بیٹھنے کو کہا اور متعلقہ قوانین میں ضروری ترمیم کےلیے متفقہ بل کی تجویز پیش کی۔ شبلی فراز نے کہا کہ ‘وزیر اعظم عمران خان نے وزیر قانون کو ہدایت کی کہ لاپتہ افراد کے معاملے پر فوری طور پر بل کو دوبارہ متحرک کیا جائے، دہشت گردی میں زبردست کمی کے بعد اس مسئلے کو حل ہونا چاہیے’۔ انہوں نے کہا کہ اس مسئلے کو کابینہ میں ڈاکٹر شیریں مزاری نے اٹھایا تھا جس نے مجوزہ قانون سازی کے سلسلے میں مکمل تناظر پیش کیا۔ ذرائع نے بتایا کہ اجلاس میں وزیر اعظم نے یاد دلایا کہ ‘وہ خود لاپتہ افراد سے اظہار یکجہتی کے لیے ایسے دھرنے گئے ہیں، وزیر نے نشاندہی کی کہ تقریبا ہر ملک کو سیکیورٹی کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن تین ماہ، چھ ماہ یا نو ماہ پر مشتمل ایک میکانزم ہونا چاہیے’۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button