چِپ ختم، QR کوڈ شروع! نیا شناختی کارڈ کیسا ہوگا؟

 

 

 

پاکستان میں قومی شناختی کارڈ کے نظام میں ایک بڑی تبدیلی سامنے آ گئی ہے۔ نادرا نے ایسا نیا قومی شناختی کارڈ متعارف کرا دیا ہے جس میں درآمدی مائیکرو چِپ کے بجائے محفوظ کیو آر کوڈ استعمال کیا جائے گا۔یہ نیا کارڈ نہ صرف زیادہ جدید ٹیکنالوجی پر مبنی ہوگا بلکہ عام سمارٹ فون سے بھی اس کی تصدیق ممکن بنائی جارہی ہے۔

اب شناختی کارڈ کی تصدیق کےلیے مہنگے یا خصوصی آلات پر انحصار کم ہوگا۔ نادرا کے مطابق پولی کاربونیٹ میٹریئل سے تیار کیے جانے والے نئے شناختی کارڈ میں مائیکرو چِپ موجود نہیں ہوگی، بلکہ اس کی جگہ محفوظ کیو آر کوڈ دیا جائے گا۔

اس کیو آر کوڈ کو عام سمارٹ فون کے ذریعے پڑھا جاسکے گا، جب کہ پاک آئی ڈی موبائل ایپ کے ذریعے کارڈ کی تصدیق بھی ممکن ہوگی۔

 

کیو آر کوڈ میں کارڈ ہولڈر سے متعلق شناختی معلومات اور تصویر موجود ہوگی۔ نادرا کے مطابق اس نظام سے نام، پتہ اور دیگر شناختی معلومات درج کرنے کے دوران ہونے والی غلطیوں میں بھی کمی آئے گی۔

نئے شناختی کارڈ کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ اس پر نام اور پتہ اردو اور انگریزی، دونوں زبانوں میں درج ہوگا۔

صرف عام شہری ہی نہیں، مختلف اداروں کے لیے بھی اس نئے نظام کو قابلِ استعمال بنایا جا رہا ہے۔ ٹیلی کام کمپنیوں، بینکوں، ہسپتالوں، پاکستان ریلوے، پولیس اور دیگر مجاز اداروں کو کیو آر کوڈ کی تصدیق کے لیے خصوصی سافٹ ویئر فراہم کیا جائے گا۔

نئے کارڈ پر خاندان نمبر بھی موجود ہوگا، جب کہ معذور افراد، بزرگ شہریوں، اعضاء عطیہ کرنے والوں اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے شہریوں کے لیے مخصوص نشانات بھی شامل کیے جائیں گے۔

نادرا کے مطابق کیو آر کوڈ پر مبنی یہ نیا قومی شناختی کارڈ 14 اگست 2026 سے مرحلہ وار جاری کیا جا رہا ہے۔

اگلے مرحلے میں جنوری 2027 سے نائیکوپ، جووینائل کارڈ سمیت تمام اقسام کے قومی شناختی کارڈز کو بھی کیو آر کوڈ پر مبنی نئے نظام میں منتقل کیا جائے گا۔

اس کے بعد پاکستان اوریجن کارڈ کو بھی اسی چِپ فری، کیو آر کوڈ پر مبنی نظام میں منتقل کیا جائے گا۔

تاہم شہریوں کے لیے اہم بات یہ ہے کہ پہلے سے جاری کیے گئے شناختی کارڈ اپنی مقررہ تاریخِ میعاد تک بدستور کارآمد رہیں گے۔

اسلام آباد سے مبینہ آن لائن فراڈ نیٹ ورک چلانے والے 258  غیر ملکی گرفتار

نادرا کے ترجمان کے مطابق پاکستان میں تیار کیے جانے والے اس نئے شناختی کارڈ کے ذریعے درآمدی مائیکرو چِپ پر انحصار ختم ہوگیا ہے۔

Back to top button