اسلام آباد سے مبینہ آن لائن فراڈ نیٹ ورک چلانے والے 258 غیر ملکی گرفتار

اسلام آباد کی ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کے پلازے سے گرفتار کیے گئے 258 غیر ملکیوں سے متعلق تحقیقات میں مزید تفصیلات سامنے آئی ہیں۔تفتیشی ذرائع کے مطابق گرفتار افراد میں بعض چینی شہری مبینہ طور پر ایک غیر قانونی کال سینٹر چلارہے تھے، جہاں آن لائن فراڈ اور بلیک میلنگ سمیت مختلف سرگرمیوں کے شواہد ملے ہیں۔
تفتیشی ٹیم کے ایک رکن کے مطابق پلازے پر چھاپے کے دوران ایک سو سے زائد چینی باشندے موجود تھے۔ چینی شہریوں نے ایک مقامی شخص کی مدد سے سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) میں ایک کمپنی رجسٹرڈ کروا رکھی تھی، جس کے تحت پلازے کے تین فلورز پر بظاہر قانونی سرگرمیاں جاری تھیں، تاہم چوتھے فلور پر مبینہ طور پر ایک غیرقانونی کال سینٹر قائم کیا گیا تھا۔
تفتیشی حکام کے مطابق مذکورہ کال سینٹر کے ذریعے جوا، ڈیٹنگ ایپس اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے لوگوں کو مبینہ طور پر دھوکے سے اپنے جال میں پھنسایا جاتا اور بعد ازاں ان سے بھاری رقوم وصول کی جاتی تھیں۔
تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ملزمان پاکستان میں بیٹھ کر مختلف آن لائن ایپس کے ذریعے اپنے ممالک میں موجود افراد کو مبینہ طور پر بلیک میل کرتے اور ان سے مالی فوائد حاصل کرتے تھے۔
ذرائع کے مطابق گرفتار چینی اور ویت نامی باشندوں کے قبضے سے ان کے اپنے ممالک کے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مشابہ یونیفارمز بھی برآمد ہوئی ہیں۔ حکام کا کہنا ہےکہ ان یونیفارمز کی نوعیت اور مبینہ استعمال کے حوالے سے مزید تحقیقات جاری ہیں۔گرفتار ملزمان کو آن لائن سماعت کے ذریعے متعلقہ عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں تفتیشی اداروں نے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی،تاہم عدالت نے درخواست مسترد کردی۔ بعد ازاں ملزمان کو پلازے میں ہی رکھا گیا، جسے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے سب جیل قراردیا جاچکا ہے۔
حکام کے مطابق اس سے قبل گرفتار کیے گئے 258 غیر ملکیوں کے خلاف فارن ایکٹ کے تحت مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ ان افراد میں 188 ویتنامی، 39 چینی اور تین انڈونیشی شہری شامل ہیں۔تحقیقات کے مطابق بیشتر افراد کے ویزوں کی مدت ختم ہوچکی تھی، جب کہ متعدد گرفتار افراد کے پاس سفری دستاویزات اور پاسپورٹ بھی موجود نہیں تھے۔
تفتیشی ذرائع کے مطابق زیر حراست غیرملکیوں کے خلاف قانونی کارروائی مکمل ہونے کےبعد آئندہ چند روز میں انہیں ان کے آبائی ممالک ڈی پورٹ کیے جانے کا امکان ہے۔
ایف آئی اے کی جانب سے درج ایف آئی آر کے مطابق اس کے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کو ایک ذریعے سے اطلاع ملی تھی کہ اسلام آباد کی علاقائی حدود میں 200 سے 300 کے قریب غیرملکی موجود ہیں،جو ویزا قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غیرقانونی کاروباری سرگرمیوں اور ملازمتیں فراہم کرنے میں ملوث ہیں۔
ایف آئی آر کے مطابق ایف آئی اے نے پلازے پر چھاپہ مارا تو وہاں 258 غیرملکی مقیم تھے،جو وزٹ، سیاحتی اور کاروباری ویزوں پر پاکستان آئے تھے۔
ایف آئی آر میں کہا گیا ہےکہ ’مقام کا معائنہ کرنے پر معلوم ہوا کہ وہاں پر ایک بڑا کال سینٹر کی طرح کا کاروبار چلایا جارہا ہے اور غیر قانونی کاروباری سرگرمیاں کی جارہی ہیں۔‘
حکام کے مطابق انٹیگریٹڈ بارڈر مینجمنٹ سسٹم کے ذریعے ریکارڈ کی جانچ پڑتال سے معلوم ہوا کہ یہ غیرملکی شہری وزٹ، سیاحتی یا کاروباری ویزوں پر پاکستان آئے تھے اور مبینہ طور پر غیر قانونی کاروباری سرگرمیوں میں ملوث تھے۔
حکام کا کہنا ہے گرفتار افراد نہ صرف پاکستان میں غیرقانونی طور پر مقیم تھے بلکہ اسلام آباد میں کاروبار بھی چلارہے تھے،جس میں نمایاں طور پر کال سینٹر کا کاروبار شامل تھا۔ اسی وجہ سے ان کے خلاف فارن ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا، جب کہ مزید شواہد سامنے آنے پر غیر قانونی کاروبار چلانے سے متعلق بھی مقدمات درج کیے جا سکتے ہیں۔
مقدمے کی تفتیشی ٹیم میں شامل ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ابتدائی تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ زیر حراست غیر ملکیوں میں بعض افراد فراڈ کے علاوہ مختلف ویب سائٹس بھی بنا رہے تھے۔
اہلکار کے مطابق تفتیش آگے بڑھنے کے ساتھ مزید حقائق اور شواہد سامنے آنے کی توقع ہے،جن کی روشنی میں مزید مقدمات درج کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔
پی ٹی آئی کا GHQپر حملہ کرنے والے سے اظہار لاتعلقی کیوں؟
اہلکارنے مزید بتایاکہ تحقیقات کےبعد جو بھی ملزمان دیگر جرائم میں ملوث ہوئے ان کا متعلقہ عدالت سے جسمانی ریمانڈ حاصل کیا جائے گا۔
حکام کے مطابق اس چھاپے کے دوران گرفتار ہونے والے ان غیرملکیوں کو حراستی مرکز میں منتقل کرنا ایک بڑا مسئلہ بن گیا تھا کیوں کہ ایف آئی اے کے حراستی مراکز میں اتنی بڑی تعداد میں ملزمان کو رکھنے کےلیے جگہ کم پڑگئی تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسی وجہ سے گرفتار ہونےوالے ان غیر ملکیوں کو اس علاقے میں ایک نجی پلازہ میں منتقل کرکے اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ سے اسے سب جیل قراردیا ہے۔
