پی ٹی آئی کا GHQپر حملہ کرنے والے سے اظہار لاتعلقی کیوں؟

راولپنڈی کے مال روڈ پر واقع جی ایچ کیو پر حملہ کرنے پر سکیورٹی فورسز کی جوابی فائرنگ میں ہلاک ہونے والے محمد حسین کو پی ٹی آئی کا سرگرم کارکن قرار دیا جا رہا ہے، تاہم پی ٹی آئی قیادت نے عسکری قیادت کی مزید ناراضی سے بچنے کیلئے اس ست اظہار لاتعلقی کر دیا ہے۔ پارٹی رہنماؤں کی جانب سے محمد حسین کے جنازے اور تعزیت میں عدم شرکت پر مقامی کارکنوں اور رشتہ داروں میں شدید اشتعال پیدا ہو گیا ہے۔
خیال رہے کہ راولپنڈی کے مال روڈ پر سکیورٹی فورسز کی جوابی فائرنگ میں ہلاک ہونے والے محمد حسین کے بارے میں مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان تحریک انصاف کا سرگرم کارکن تھا اور پارٹی کے مختلف سیاسی اجتماعات اور سرگرمیوں میں باقاعدگی سے شریک ہوتا رہا۔ ذرائع کے مطابق محمد حسین نے رکن قومی اسمبلی اقبال آفریدی کی انتخابی مہم میں بھی فعال کردار ادا کیا تھا اور انہیں اپنا قریبی رشتہ دار قرار دیتا تھا۔ محمد حسین کی نماز جنازہ ضلع خیبر کے علاقے نالہ میں ادا کی گئی، تاہم پی ٹی آئی کے مقامی رہنماؤں اور عہدیداروں کی عدم شرکت پر خاندان، رشتہ داروں اور پارٹی کارکنوں میں شدید اشتعال پایا جا رہا ہے۔ مقامی سطح پر یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر محمد حسین سے کوئی غلطی ہوئی بھی تھی تو کم از کم اس کے جنازے میں شرکت اور اہلخانہ سے تعزیت کی جانی چاہیے تھی۔
ذرائع کے مطابق جنازے میں پی ٹی آئی کے مقامی قائدین، بالخصوص رکن قومی اسمبلی اقبال آفریدی اور رکن صوبائی اسمبلی عبدالغنی آفریدی بھی شریک نہیں ہوئے۔ مقامی کارکنوں کا کہنا ہے کہ محمد حسین ان رہنماؤں کی سیاسی سرگرمیوں میں متحرک طور پر حصہ لیتا رہا اور انتخابی مہم کے دوران بھی ان کے ساتھ کام کرتا رہا تھا۔
محمد حسین کے اہلخانہ اور قریبی رشتہ داروں نے پارٹی قیادت کی عدم شرکت پر سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرزِ عمل سے کارکنوں میں یہ تاثر پیدا ہو رہا ہے کہ مشکل وقت آنے پر پارٹی اپنے کارکنوں سے لاتعلقی اختیار کر سکتی ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی بعض کارکنوں نے پارٹی رہنماؤں سے سوال کیا ہے کہ سیاسی وابستگی کے باوجود ایک کارکن کے جنازے میں شرکت کیوں نہیں کی گئی۔
محمد حسین کے قریبی رشتہ داروں نے ان دعوؤں کو بھی مسترد کیا ہے کہ وہ کسی ذہنی بیماری کا شکار تھا یا نفسیاتی علاج کرا رہا تھا۔ اہلخانہ کے مطابق محمد حسین نہ ذہنی مریض تھا اور نہ ہی کسی نفسیاتی معالج کے زیرِ علاج رہا۔ ان کا کہنا ہے کہ واقعے کی وجوہات کے بارے میں حتمی رائے قائم کرنے سے پہلے مکمل تحقیقات ضروری ہیں۔
مقامی ذرائع کے مطابق محمد حسین بیرون ملک مقیم بعض یوٹیوبرز کی پاکستان مخالف ویڈیوز سے متاثر تھا اور محفلوں میں ان ویڈیوز کا حوالہ بھی دیتا تھا۔ تاہم اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق سامنے نہیں آئی اور واقعے کے محرکات کا حتمی تعین تحقیقات کے بعد ہی ممکن ہوگا۔
ضلع خیبر میں پی ٹی آئی کے مقامی ذرائع کے مطابق محمد حسین تحصیل باڑہ کے علاقے نالہ کا رہائشی اور اقبال آفریدی کا قریبی ہمسایہ تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ اقبال آفریدی کو اپنا ماموں قرار دیتا تھا۔ وہ نو مئی کے جلوس میں بھی شریک رہا جبکہ پارٹی کے دیگر جلسوں اور سیاسی سرگرمیوں میں اس کی شرکت کی تصاویر اور ویڈیوز بھی موجود ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق محمد حسین کے ایک بھائی محکمہ تعلیم باڑہ میں اعلیٰ عہدے پر فائز ہیں جبکہ دو بھائی روزگار کے سلسلے میں سعودی عرب میں مقیم ہیں۔ خاندان اور مقامی کارکنوں کا کہنا ہے کہ ان حالات میں پارٹی قیادت کی جانب سے مکمل لاتعلقی اختیار کیے جانے سے کارکنوں میں بے چینی مزید بڑھ گئی ہے۔
پی ٹی آئی کارکنوں کی ناراضی ایسے وقت سامنے آئی ہے جب پارٹی نے 27 ستمبر کے ممکنہ لانگ مارچ کے لیے خیبر سے بڑے پیمانے پر کارکنوں کو متحرک کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ مقامی سطح پر یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ محمد حسین کے جنازے اور اہلخانہ کے ساتھ مبینہ ناروا سلوک سے پیدا ہونے والی ناراضی لانگ مارچ میں ضلع خیبر کی شرکت کو متاثر کرسکتی ہے۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے ضلع خیبر سے 27 ستمبر کے لانگ مارچ کے حوالے سے سیاسی سرگرمیوں اور کارکنوں کو متحرک کرنے کا باقاعدہ آغاز کردیا ہے۔
ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ لانگ مارچ کو ’’لانگ مارچ بالقسط‘‘ کا نام دیا گیا ہے، جس کا مقصد عمران خان کی رہائی، طاقتور اور کمزور کے لیے یکساں قانون کا نفاذ، امیر اور غریب کو برابر کا درجہ دینا اور ظالم و جابر کو قانون کے کٹہرے میں لانا ہے۔سہیل آفریدی نے دعویٰ کیا کہ 27 ستمبر کو 20 لاکھ افراد کو سڑکوں پر لانے کا وعدہ کیا گیا ہے جبکہ خیبر سے ایک لاکھ سے زائد افراد لانگ مارچ میں شرکت کریں گے۔
تاہم سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ضلع خیبر میں محمد حسین کے معاملے پر پیدا ہونے والی ناراضی اب پی ٹی آئی قیادت کے لیے ایک نیا امتحان بن گئی ہے۔ ایک طرف پارٹی بڑے پیمانے پر سیاسی احتجاج کی تیاری کر رہی ہے اور دوسری جانب مقامی کارکن اپنی ہی قیادت سے شکوے اور سوالات کر رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ پارٹی قیادت اس ناراضی کو کس طرح دور کرتی ہے اور آیا اس کا 27 ستمبر کی متوقع سیاسی سرگرمی پر کوئی عملی اثر پڑتا ہے یا نہیں۔
