کار چور ہنڈائی اور کییا گاڑیاں ذیادہ کیوں چراتے ہیں؟

پاکستان میں ہنڈائی اور کییا گاڑیوں کے بڑھتے ہوئے چوری کے واقعات کے بعد انکشاف ہوا ہے کہ ان دونوں میں چوری سے بچانے والی ایک ’اہم‘ ڈیوائس موجود نہیں ہے اس لیے باقی آٹو انڈسٹری کے مقابلے میں ان کاروں کی چوری کی شرح دو گنی ہے، آٹو سیکٹر سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ ہنڈائی اور کییا گاڑیوں کو چرانے میں آسانی اس لئے رہتی ہے کہ ان کی چابیوں میں چوری سے بچانے والےاموبیلائزر immobilizer سسٹم کی چِپ نہیں ہے۔
دوسری جانب ہنڈائی اور کییا دونوں کمپنیوں نے اعتراف کیا ہے کہ چور ان کی گاڑیاں ذیادہ چرا رہے ہیں حالانکہ وہ حفاظتی معیارات پر پورا اترتی ہیں۔ کییا کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ جرائم پیشہ افراد سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہوئے ایک مربوط انداز میں ان گاڑیوں کی چوریوں کو اچھال رہے ہیں جن میں انجن اموبیلائزرز نہیں ہیں۔
دوسری جانب ہنڈائی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یکم نومبر 2021 کے بعد تیار کیے جانے والے تمام ماڈلز میں معیاری آلات کے طور پر اموبیلائزرز موجود ہیں۔ کییا کا کہنا ہے کہ وہ چوری کی روک تھام کے لیے متاثرہ علاقوں میں حکام کو بغیر کسی قیمت کے سٹیئرنگ وہیل لاک فراہم کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔ ہنڈائی کا کہنا ہے کہ وہ بھی پولیس کو لاک فراہم کر رہی ہے اور اکتوبر میں وہ ایک ایسی سکیورٹی کٹ فروخت کرنا شروع کر دے گی، جو چوری کے طریقوں کا توڑ ہوگی۔
یاد رہے ہہ ہنـڈائی اور کییا کا شمار 20 سب سے زیادہ چوری ہونے والی گاڑیوں میں ہوتا ہے، چوری کے خطرے سے دوچار زیادہ تر ہنڈائی اور کیا گاڑیاں اکثر کم آمدنی والے لوگ خریدتے ہیں کیونکہ ان کی قیمت خرید نسبتاً کم ہوتی ہے۔

Back to top button