یوٹیوبرز کے لیے پیسے کمانے کا ایک اور طریقہ سامنے آگیا

یوٹیوب نے پارٹنر پروگرام کے تحت اپنے مونیٹائزیشن سسٹم کو وسیع کرتے ہوئے یو ٹیوب شارٹس تخلیق کرنے والوں کے لیے آمدنی کمانے کے ایک نئے طریقے کا اعلان کر دیا ہے۔ یو ٹیوب کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اس اقدام کے تحت 20 لاکھ سے زائد پارٹنرز کو آمدن کے مواقع دیے جارہے ہیں جس سے تخلیق کاروں کو مزید مواقع ملیں گے۔ یوٹیوب کے اس پروگرام میں شمولیت کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ 2023 سے شارٹس پر کام کرنے والے تخلیق کار بھی درخواست دے سکتے ہیں تاہم انہیں 90 دنوں کے اندر ایک ہزار سبسکرائبرز اور ایک کروڑ شارٹس ویوز کا ہدف حاصل کرنا ہوگا، جس میں تمام مختصر اور طویل دورانیے کی ویڈیوز میں اشتہاروں کے ذریعے پیسہ کمانا شامل ہے۔
طویل دورانیے کی ویڈیوز بنانے والے ابھی ایک ہزار سبسکرائبرز اور 4 ہزار واچ آورز پورا کرنے کے بعد اس پروگرام میں شمولیت کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔یوٹیوب نے کہا کہ مختصر دورانیے کی ویڈیوز کے لیے بھی اپنی نوعیت کا پہلا ریونیو شیئرنگ ماڈل کا اعلان کیا ہے۔ بیان کے مطابق پلیٹ فارم 2023 میں، موجودہ اور مستقبل کے تخلیق کاروں کے لیے شارٹس کے لیے فکسڈ فنڈ اور ڈبلنگ ڈاؤن سے ریونیو شیئرنگ کے منفرد ماڈل پر منتقل ہو جائے گا۔ تخلیق کاروں کے لیے مختص کی گئی مجموعی رقم میں سے وہ 45 فیصد رقم خود رکھ سکیں گے جبکہ باقی رقم مجموعی شارٹس ویو کی بنیاد پر تقسیم ہوگی اور آمدنی کا یہ حصہ مستقل رہے گا۔ یوٹیوب نے کہا ہے کہ وہ کری ایٹر میوزک بھی متعارف کرائے گا تاکہ تخلیق کار اپنی طویل دورانیے کی ویڈیوز کے لیے میوزک کیٹلاگ سے استفادہ کر سکیں اور وہ اعلیٰ معیار کے میوزک کا لائسنس بھی خرید سکیں گے۔
کری ایٹر میوزک اس وقت امریکا میں بیٹا مرحلے میں ہے، جس سے عالمی سطح پر 2023 میں وسعت دی جائے گی اس سے تخلیق کاروں کو ایک ہموار طریقہ کار بھی دستیاب ہوگا۔گوگل کے ریجنل ڈائریکٹر برائے پاکستان، بنگلہ دیش اور سری لنکا فرحان قریشی نے اس بارے میں کہا کہ یہ نیا اقدام یو ٹیوب شارٹس کے ذریعے تخلیقی ذہنوں کے لیے کامیاب اور مالی اعتبار سے محفوظ مستقبل کی جانب ایک اور قدم ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ آج کا اعلان، پلیٹ فارم کی بڑھتی ہوئی کمیونٹی کے تنوع کا اظہارہے جہاں صارفین یوٹیوب کے منافع بخش نئے سسٹم کے ذریعے پلیٹ فارم پر اپنے مواد کو فروغ دیتے ہیں۔
