سندھ حکومت کی سائیکل ایمبولینس سروس تنقید کی زد میں کیوں؟

سندھ حکومت کی کراچی کی گنجان آباد بستیوں اور تنگ گلیوں میں بروقت طبی امداد پہنچانے کیلئے متعارف کرائی گئی سائیکل ایمبولینس سروس نے آغاز ہی سے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ایک طرف ناقدین اسے جدید دور میں غیر مؤثر اور فرسودہ تصور قرار دے رہے ہیں، تو دوسری جانب ماہرین اور شہریوں کی ایک بڑی تعداد کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد روایتی ایمبولینس کا متبادل بننا نہیں بلکہ ان علاقوں میں ابتدائی طبی امداد جلد از جلد مریض تک پہنچانا ہے جہاں ٹریفک یا تنگ راستوں کے باعث ایمبولینس بروقت نہیں پہنچ پاتی۔ یوں یہ منصوبہ صرف ایک نئی سروس نہیں بلکہ شہری ایمرجنسی نظام پر ایک وسیع بحث کا موضوع بھی بن گیا ہے۔
خیال رہے کہ کراچی میں پہلی مرتبہ سائیکل ایمبولینس سروس متعارف کرائی گئی ہے، جس کا بنیادی مقصد ایسے گنجان آباد علاقوں اور تنگ گلیوں میں فوری طبی امداد فراہم کرنا ہے جہاں ٹریفک کے رش یا محدود راستوں کی وجہ سے روایتی ایمبولینس بروقت نہیں پہنچ سکتی۔ سندھ انٹیگریٹڈ ایمرجنسی اینڈ ہیلتھ سروسز کے تحت شروع کیے گئے اس منصوبے کا افتتاح میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کیا۔ اس سروس کے تحت تربیت یافتہ فرسٹ ریسپانڈرز سائیکلوں پر ابتدائی طبی سامان کے ساتھ متاثرہ مقام تک پہنچیں گے، مریض کو فوری ابتدائی طبی امداد فراہم کریں گے اور ضرورت پڑنے پر بعد میں روایتی ایمبولینس کے ذریعے ہسپتال منتقل کیا جائے گا۔
منصوبے کی ویڈیوز منظر عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر اس پر شدید بحث شروع ہو گئی۔ متعدد صارفین نے اس اقدام پر تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ جب دنیا ڈرونز، ایئر ایمبولینس اور جدید ایمرجنسی ٹیکنالوجی کی جانب بڑھ رہی ہے تو کراچی میں سائیکل ایمبولینس متعارف کرانا کس حد تک مؤثر حکمت عملی ہے۔
کچھ صارفین نے طنزیہ انداز میں کہا کہ جدید دور میں سائیکل ایمبولینس متعارف کرانا ترقی کے بجائے پسماندگی کی علامت محسوس ہوتا ہے، جبکہ بعض نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر مقصد تنگ گلیوں تک پہنچنا ہے تو موٹر سائیکل ایمبولینس زیادہ مؤثر کیوں نہیں ہو سکتی۔
دوسری جانب کئی ماہرین، صحافیوں اور شہریوں نے اس منصوبے کا دفاع بھی کیا۔ ان کا مؤقف ہے کہ کراچی کے متعدد پرانے علاقوں میں گلیاں اس قدر تنگ ہیں کہ وہاں بڑی ایمبولینس داخل ہی نہیں ہو سکتی، جبکہ شدید ٹریفک کے باعث ایمرجنسی گاڑیوں کو بھی بروقت راستہ نہیں ملتا۔ ایسے حالات میں سائیکل پر سوار تربیت یافتہ طبی اہلکار چند منٹ میں مریض تک پہنچ کر ابتدائی طبی امداد فراہم کر سکتا ہے، جو کئی مواقع پر مریض کی جان بچانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
حامیوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سائیکل ایمبولینس کو روایتی ایمبولینس کا متبادل سمجھنا درست نہیں۔ اس کا مقصد صرف ابتدائی طبی امداد کی رفتار بڑھانا ہے، جبکہ مریض کو ہسپتال منتقل کرنے کیلئے بدستور مکمل طبی سہولیات سے لیس روایتی ایمبولینس ہی استعمال کی جائے گی۔
ماہرین کے مطابق دنیا کے مختلف شہروں میں بھی تنگ گلیوں، تاریخی علاقوں، بڑے عوامی اجتماعات اور کھیلوں کے مقابلوں کے دوران سائیکل یا موٹر سائیکل پر مبنی فرسٹ ریسپانس یونٹس استعمال کیے جاتے ہیں تاکہ ایمرجنسی طبی عملہ کم سے کم وقت میں متاثرہ شخص تک پہنچ سکے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کی کامیابی کا انحصار سائیکل پر نہیں بلکہ اس کے مؤثر نفاذ، تربیت یافتہ عملے، جدید طبی سامان، مضبوط رابطہ نظام اور بروقت روایتی ایمبولینس کی دستیابی پر ہوگا۔ اگر یہ تمام عناصر مؤثر انداز میں کام کریں تو سائیکل ایمبولینس کراچی جیسے بڑے اور ٹریفک سے بھرپور شہر میں ایمرجنسی رسپانس کا ایک مفید حصہ ثابت ہو سکتی ہے۔
