پاکستانی اور بھارتی نوجوان اتنے زیادہ مایوس کیوں؟

پاکستان اور بھارت دنیا کی ان چند ریاستوں میں شامل ہیں جہاں نوجوان آبادی سب سے بڑی قومی طاقت سمجھی جاتی ہے، مگر یہی نوجوان آج تعلیم، روزگار، میرٹ اور سیاسی نمائندگی جیسے بنیادی مسائل پر مایوسی کا شکار دکھائی دیتے ہیں۔ بھارت میں امتحانی اسکینڈلز کے خلاف طلبہ کی منظم احتجاجی تحریک اور پاکستان میں نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی خاموشی ایک ایسے بحران کی نشاندہی کرتی ہے جو صرف روزگار یا تعلیم تک محدود نہیں بلکہ ریاست اور نوجوان نسل کے درمیان کمزور ہوتے اعتماد کی علامت بھی بن چکا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا دونوں ممالک اپنی سب سے بڑی انسانی قوت کو کھو رہے ہیں، یا اب بھی اصلاحات کے ذریعے اس اعتماد کو بحال کیا جا سکتا ہے؟
پاکستان اور بھارت کی مجموعی آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ یہی نوجوان کسی بھی ملک کی معیشت، سیاست، سماجی ترقی اور مستقبل کا سب سے اہم سرمایہ تصور کیے جاتے ہیں۔ تاہم حالیہ برسوں میں دونوں ممالک میں نوجوان نسل کے اندر بے روزگاری، تعلیمی مسائل، امتحانی بے ضابطگیوں، میرٹ پر سوالات اور سیاسی بے اختیاری کے باعث بڑھتی ہوئی بے چینی ایک اہم سماجی اور سیاسی موضوع بن گئی ہے۔
بھارت میں حالیہ دنوں نوجوانوں کی احتجاجی تحریک نے اس بحث کو نئی شدت دی ہے۔ امتحانی اسکینڈلز، پرچوں کے مبینہ لیک ہونے اور تعلیمی نظام پر عدم اعتماد کے خلاف نوجوانوں نے منظم انداز میں احتجاج کیا، جس میں مختلف طلبہ گروہوں اور سماجی شخصیات نے بھی حصہ لیا۔ اس احتجاج کا مرکزی مطالبہ امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ داران کا احتساب اور تعلیمی اصلاحات تھا۔
مبصرین کے مطابق اس تحریک نے یہ ثابت کیا کہ نوجوان نسل اپنے مستقبل سے متعلق فیصلوں میں مؤثر کردار چاہتی ہے اور ریاستی اداروں سے جوابدہی کا مطالبہ کر رہی ہے۔ اگرچہ احتجاج کے دوران کشیدگی، پولیس کارروائی اور گرفتاریاں بھی دیکھنے میں آئیں، تاہم نوجوانوں نے اپنے مطالبات کو قومی سطح پر زیرِ بحث لانے میں کامیابی حاصل کی۔
دوسری جانب پاکستان میں بھی نوجوان تقریباً انہی مسائل کا سامنا کرتے ہیں۔ مختلف اوقات میں امتحانی بے ضابطگیوں، میرٹ پر سوالات، سرکاری ملازمتوں میں شفافیت، محدود روزگار کے مواقع اور تعلیمی نظام سے متعلق خدشات سامنے آتے رہے ہیں۔ تاہم یہاں احتجاجی سرگرمیاں زیادہ تر وقتی ثابت ہوتی ہیں اور اکثر کسی مستقل یا منظم قومی تحریک میں تبدیل نہیں ہو پاتیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس فرق کی ایک وجہ پاکستان میں 1984 سے طلبہ یونینز پر عائد پابندی کو بھی قرار دیا جاتا ہے۔ ناقدین کا مؤقف ہے کہ اس پابندی کے باعث تعلیمی اداروں میں طلبہ کی منظم اور خودمختار نمائندگی محدود ہوئی، جبکہ بعض دیگر حلقوں کا کہنا ہے کہ طلبہ سیاست کی بحالی کے ساتھ نظم و ضبط اور تعلیمی ماحول کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ اس موضوع پر پاکستان میں مختلف آرا موجود ہیں اور یہ ایک طویل عرصے سے جاری عوامی و سیاسی بحث ہے۔
سماجی ماہرین کا کہنا ہے کہ نوجوانوں کو صرف روزگار ہی نہیں بلکہ فیصلہ سازی، اظہارِ رائے اور تعلیمی اصلاحات کے عمل میں بھی مناسب مواقع درکار ہوتے ہیں۔ اگر نوجوان محسوس کریں کہ ان کی آواز سنی جا رہی ہے اور میرٹ پر مبنی نظام موجود ہے تو ان کا ریاستی اداروں پر اعتماد مضبوط ہوتا ہے۔
دوسری جانب پاکستان سے بیرونِ ملک تعلیم اور روزگار کیلئے جانے والے نوجوانوں کی تعداد میں بھی مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جسے کئی ماہرین بہتر معاشی مواقع، پیشہ ورانہ ترقی اور مستقبل کے امکانات سے جوڑتے ہیں۔ اس رجحان نے "برین ڈرین” یا باصلاحیت افرادی قوت کے بیرونِ ملک منتقل ہونے کی بحث کو بھی مزید اہم بنا دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق پاکستان اور بھارت دونوں کیلئے اصل چیلنج نوجوانوں کی توانائی کو مثبت سمت دینا ہے۔ شفاف امتحانی نظام، میرٹ پر مبنی ملازمتیں، معیاری تعلیم، روزگار کے بہتر مواقع، نوجوانوں کی بامعنی نمائندگی اور مؤثر پالیسی سازی ایسے عوامل ہیں جو نوجوان نسل کا اعتماد بحال کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
بالآخر کسی بھی ملک کی ترقی صرف معاشی اشاریوں سے نہیں بلکہ اس بات سے بھی ناپی جاتی ہے کہ اس کے نوجوان اپنے مستقبل کے بارے میں کتنے پُرامید ہیں۔ اگر نوجوان خود کو نظام کا حصہ سمجھیں تو وہ تبدیلی کا ذریعہ بنتے ہیں، لیکن اگر مایوسی غالب آ جائے تو اس کے اثرات معاشرے، معیشت اور قومی ترقی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
